مہنگے بجلی بلوں سے نجات کیلئے سستا سولر سسٹم لگائیں

مہنگی بجلی سے نہ صرف کاروباری طبقہ بلکہ گھریلو صارفین بھی کافی پریشان ہیں۔ بجلی کے بڑھتے نرخوں کی وجہ سے بلوں کی ادائیگی مشکل ہو چکی ہے۔ جس کے باعث ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ وہ گھر میں سولرپینل سسٹم لگوائے۔اکثر لوگ ’سولر پینل سسٹم ‘ لگوانے میں اس لیے گھبراتے ہیں کہ شاید لوگ سمجھتے ہیں کہ سولر پینل سسٹم کے لیے کم از کم 8 سے 10 لاکھ درکار ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہے ایک عام سیٹ 2 لاکھ میں بھی لگوایا جا سکتا ہے۔ سولر سسٹم لگونے والے راولپنڈی کے ایک رہائشی فیضان علی کے مطابق ان کا 4 کمروں کا مکان ہے۔ جس میں 4 پنکھے اور 6 لائٹیں ہیں جبکہ میرا سولر پینل سسٹم 2 سولر پلیٹوں، بیٹری اور انورٹر پر مشتمل ہے۔فیضان علی مزید بتاتے ہیں کہ ’سولر کی 2 پلیٹیں تقریباً 90 ہزار روپے تک آئیں جبکہ بیڑی، انورٹر اور تاروں کو ملا کر سب تقریباً 1 لاکھ تک خرچ آیا مگر سولر پینل سسٹم لگوانے کے بعد بجلی کے بل سے تقریباً جان چھوٹ گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’اب بل آتا ہے مگر پہلے کی طرح نہیں، پہلے کبھی 10 ہزار کبھی 12 ہزار آتا بل آتا تھا، مگر اب زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے بجلی بل آجاتا ہے۔‘
اسی طرح راولپنڈی کے ہی ایک اور رہائشی محمد احسن نےبتایا کہ انہوں نے 4 پلیٹوں والا سولر پینل سسٹم لگوایا جس پر ان کے تقریباً 3 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس پورے سسٹم میں 4 سولر پلیٹیں، 2 بیٹریاں اور 1 انورٹر اور تاریں شامل ہیں۔محمد احسن نے بتایا کہ وہ تقریباً گزشتہ 10 ماہ سے سولر پینل سسٹم استعمال کر رہے ہیں،جس کے بعد ان کے بجلی کے بلوں میں بہت زیادہ کمی آگئی ہے۔ایک سوال پر محمد احسن کا کہنا تھا کہ 210 ایمپئر بیٹری والے اس سولر پینل سسٹم سے اب گھر میں 5 پنکھے، 5 لائیٹیں، روم کولر، استری، ٹی وی سمیت گھر کی دیگر مزید چیزیں چلتی ہیں۔بجلی کے بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلے ان کے گھر کا بجلی بل 15 ہزار سے زیادہ آیا کرتا تھا مگر اب 3 یا 4 ہزار آتا ہے جو کہ تیسرے حصہ سے بھی کم ہے۔
اسلام آباد کی رہائشی کرن فاطمہ کے مطابق انھوں نے آج سے قریباً 3 سال قبل سولر پینل سسٹم 60 ہزار روپے میں لگوایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے 100 ایمپئر پاور والی بیٹری اور 2 پلیٹیں لگوا رکھی ہیں۔ جس میں ان کے 2 پنکھے، 2 بلب اور 1 چھوٹا ایگزاسٹ فین چل جاتا ہے۔دوسری جانب سولر پینل سسٹم کے کاروبارسے 7 برسوں سے وابستہ الیکٹرک سلیوشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حمزہ رفیع نے بتایا کہ سولر پینل سسٹم کی مختلف اقسام ہوتی ہیں آج جتنے بھی چھوٹے سسٹم ہیں یہ ہائیبرڈ سسٹم کہلاتے ہیں جس میں بیک اَپ کا آپشن موجود ہوتا ہے اور یہ اسی پر چل رہے ہوتے ہیں۔محمد حمزہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ سسٹم بلکل ایسے ہی کام کر رہا ہوتا ہے جیسے یو پی ایس کام کرتا ہے۔ جس کے لیے کم از کم 2 پلیٹیں، 1 انورٹر اور 1 چھوٹی بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں یہ سسٹم 1 کلو واٹ سے شروع ہو کر 10 میگا واٹ تک جاتے ہیں اور بڑے گھر یعنی 10 مرلے سے لے کر 1 کنال کے گھر کے لیے تقریباً 10 سے 15 کلو واٹ تک کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد حمزہ نے بتایا کہ ان کے خیال میں سب سے چھوٹے سولر پینل سسٹم کے لیے کم از کم 1 لاکھ 70 ہزار روپے تک کی لاگت ضرور آتی ہے، مگر جو 60 ہزار روپے میں سسٹم لگوانے کی بات کرتا ہے تو پھر یہ سسٹم محض 1 کلو واٹ سے بھی کم کا ہے۔ جس پر تقریباً 2 پنکھے اور 1 سے 2 لائٹیں جل سکتی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کے سولر پینل سسٹم استعمال کرنے والے افراد دوپہر کے وقت واپڈا کا کنکشن منقطع کر دیتے ہیں اور ڈائیریکٹ کرنٹ پروڈیوس کرتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں محمد حمزہ نے بتایا کہ کسی حد تک اس طرح کے سسٹم کار آمد ہوتے ہیں۔ اس طرح کے سسٹم سے یہ ہوتا ہے کہ بس روزمرہ کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ باقی بارش یا پھر بادلوں کی صورت میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔
