کیا بائیڈن اگلے صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کو ہرا دیں گے؟

اب تک ہونے والے جائزوں کے مطابق امریکی صدارت کی دوڑ میں جو بائیڈن اسوقت صدر ٹرمپ سے 10 پوائنٹ آگے ہیں اور اگر وہ یہ برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ اگلا الیکشن ہار جائیں گے۔
لیکن نومبر 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور راستے میں ابھی کئی تلخ جنگیں آئیں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس میں ان کی صدارت کے مزید چار سال کے درمیان جو شخص کھڑے ہیں، وہ ہیں جو بائیڈن۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ صدارت میں ان کے نائب صدر رہنے والے جو بائیڈن اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار منتخب ہو چکے ہیں۔ اپنے حمایتیوں کے لیے وہ خارجہ امور کے ماہر ایسے شخص ہیں جنھیں واشنگٹن میں کام کرنے کا کئی دہائیوں کا تجربہ ہے، ایک متاثر کن خطیب جن کی پہنچ عام لوگوں تک ہے اور ایک ایسا شخص جس نے اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی تکلیف دہ سانحوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ ان کی بیوی اور بچی کار حادثے میں انتقال کر گئے تھے جبکہ بعد ازاں انکا 46 سالہ بیٹا برین ٹیومر کے باعث فوت ہو گیا تھا۔
جو بایئڈن کے ناقدین کو لگتا ہے کہ وہ ایک ایسی عمر رسیدہ شخصیت ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہیں اور اکثر ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جو شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ جو بائیڈن میں ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جو بائیڈن کے لیے انتخابی مہم چلانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ واشنگٹن میں ان کے سیاسی سفر کا آغاز 47 برس قبل 1973 میں ہوا جب وہ سینیٹ کے رکن بنے۔ ان کی پہلی صدارتی مہم 33 برس قبل 1987 میں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں ووٹروں کو راغب کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہے لیکن ان کے منھ سے کسی بھی وقت کوئی ایسی بات نکل سکتی ہے جس سے کوئی تنازع شروع ہو جائے۔ مجمعے کے سامنے وہ جوشِ خطابت میں کئی مرتبہ ایسی باتیں کر چکے ہیں جن سے انھیں نقصان ہوا۔ یہ ان کی تیسری صدارتی مہم ہے۔ ان کی پہلی صدارتی مہم باقاعدہ طور پر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
اپنی ریلیوں میں انھوں نے یہ دعوی کرنا شروع کر دیا تھا کہ ان کے آبا و اجداد ملک کی شمال مشرق ریاست پنسلوینیا میں کوئلے کی کانوں میں کام کرتے تھے اور یہ کہ انھیں اس بات پر غصہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد کو وہ مواقع نہیں ملے جن کے وہ مستحق تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بائیڈن کے آبا و اجداد میں سے کوئی بھی کان کن نہیں تھا۔ انھوں نے یہ بات اور ایسی کئی دوسری باتیں ایک برطانوی سیاستدان نیل کینوک کی تقریر سے چرائی تھیں۔ نیل کینوک کے رشتے دار واقعی کان کن تھے۔
سنہ 2012 میں اپنے سیاسی کیریئر کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے ایک خطاب میں یہ کہہ کر لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا کہ : ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں آٹھ صدور کو اچھی طرح سے جانتا ہوں اور ان میں تین کے ساتھ میرے انتہائی قریبی تعلقات رہے ہیں‘۔
دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ تین صدور ان کے قریبی دوست رہے ہیں لیکن انھوں نے غلطی سے یہ بات اس طرح سے کہی کہ جیسے ان تینوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات رہے ہیں۔ سنہ 2009 میں انھوں نے یہ کہہ کر لوگوں کو پریشان کر دیا کہ ‘اس بات کا 30 فیصد امکان ہے کہ ہم معاشی مسائل کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پائیں گے۔‘ بائیڈن ان دنوں صدر اوباما کے نائب صدر تھے۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ باراک اوباما کے بارے میں یہ تبصرہ کرنے کے باوجود بھی انھیں نائب صدر کا امیدوار منتحب کیا گیا کہ ’اوباما پہلے افریقی امریکی ہیں جو معاملات کو اچھی طرح بیان کرتے ہیں، ذہین ہیں، بے داغ پس منظر رکھتے ہیں اور دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں۔‘ بائیڈن کے ان الفاظ کے باوجود حالیہ صدارتی مہم کے دوران انھیں سیاہ فام لوگوں کی زبردست حمایت حاصل ہے۔
تاہم حال ہی میں ریڈیو کے ایک پروگرام میں بائیڈن نے کہہ دیا کہ ‘اگر آپ کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ آپ کو ٹرمپ یا مجھ میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے تو پھر آپ سیاہ فام نہیں ہو سکتے۔ بائیڈن کی اس بات پر میڈیا میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی اور ان کی ٹیم لوگوں کو یہ سمجھاتی رہی کہ بائیڈن جو افریقی امریکیوں کے ووٹوں کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ یہ ووٹ تو ملنے ہی ملنے ہیں۔ بائیڈن کی صدارتی مہم چلانے والی پوری ٹیم اس کوشش میں رہتی ہے کہ کسی طرح انھیں بغیر تیاری کے بولنے سے روکا جا سکے۔
امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ اور صدارتی امیدوار جان کیری نے جریدے نیویارکر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بائیڈن ایک ایسے سیاستدان ہیں جو لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، جن تک رسائی ممکن ہے اور یہ سب حقیقی ہے، انھوں نے کوئی لبادہ نہیں اوڑھا ہوا ہے۔ لیکن لوگوں سے ان کی زیادہ قربت ایک مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اب تک ہونے والے جائزوں کے مطابق صدارت کی دوڑ میں بائیڈن صدر ٹرمپ سے 10 پوائنٹ آگے ہیں۔ لیکن نومبر میں ہونے والے انتخاب میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور راستے میں ابھی کئی تلخ جنگیں آئیں گی۔ اگر جو بائیڈن جیت گئے تو یہ ان کے سیاسی سفر کی معراج ہو گی لیکن اگر وہ ہار جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو وائٹ ہاؤس میں مزید چار سال مل جائیں گے جسے وہ امریکہ کا صدر بننے کے بالکل بھی لائق نہیں سمجھتے، ایسا شخص جو ‘قابلِ اعتماد نہیں ہے۔’ کچھ برس قبل جب بائیڈن سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں سوچ رہے تھے تو انھوں نے کہا تھا ’میں صدر بنے بغیر بھی ایک خوش انسان کے طور پر مر سکتا ہوں۔‘ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔‘
