آرمی چیف کی 30 صحافیوں سے ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟

پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے ایک آف دی ریکارڈ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم تحریک لبیک سے پابندی ہٹانے کا عندیہ دیا ہے جس سے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
آرمی چیف کی سینئیر صحافی اور اینکر پرسنز کے ساتھ ایک افطار ڈنر پر کی جانے والی اس آف دی ریکارڈ طویل گفتگو کے سوشل میڈیا پر چرچے ہیں۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کی صحافیوں کے ساتھ اس آف دی ریکارڈ ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کا مین سٹریم میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا گیا ہے۔ تاہم سنیئر صحافی اسد طور نے اپنے ذرائع سے اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی تفصیل اکٹھی کرنے کے بعد ملاقات کا احوال ایک ویڈیو میں پیش کیا ہے۔ اسد طور کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم تحریک لبیک پر سے پابندی ہٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک لبیک قومی دھارے میں واپس آئے گی اور ملک سے شدت پسند کی سیاست ختم ہو گی۔ اسد طور نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک چونکہ اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ ہے اور اور مذہب کارڈ کا استعمال کرتی ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ بھی اس سے خوف کھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک سے پابندی ہٹانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ سیاسی اور قانونی حلقوں میں بھی اس حوالے سے بحث ہو رہی ہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ اسے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل میں استعمال کے لیے دوبارہ میدان میں اتارنے کا سوچ رہی ہے۔ اس نقطے پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ آیا تحریک انصاف اس اقدام پر خاموش رہے گی؟
واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے 30 کے قریب سنئیر صحافیوں اور اینکرز سے آئی ایس پی آر کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر پر سات گھنٹے طویل ملاقات کا بنیادی مقصد مسئلہ کشمیر پر بات چیت تھا۔ صھافی اسد طور کے مطابق ملاقات کا آغاز سلیم صافی کی والدہ کیلئے دعائے مغفرت سے ہوا، مجیب الرحمان شامی نے سلیم صافی کی والدہ کیلئے دعا کرائی۔ اسد طور کے بقول جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ جنرل باجوہ نے انکشاف کیا کہ شاہد خاقان عباسی جب وزیراعظم تھے، اس وقت سے بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی کوششیں ہو رہی ہیں لہذا اب شاہد خاقان کی جانب سے فوج پر کشمیر فروشی کا الزام لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو آئین سے آرٹیکل 370 ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی و سیاسی حیثیت تبدیل کئے جانے کے عمل کو ہم نے کھی تسلیم نہیں کیا، ہمارا مسئلہ آرٹیکل 35 اے ہے کیونکہ اس کے ذریعے کشمیر میں غیر کشمیری قومیتوں کو بسانے کی راہ ہموار کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہاں آبادی کا تناسب تبدیل ہوجائے گا۔ اسد طور کے مطابق جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے اسٹیبلشمنٹ قریب میں بھارت کی طرف سے اس مسئلے پر کوئی پیشرفت ہو جائے۔ اسی طرح سرکریک سرحدی تنازعے پر جلد بریک تھرو کی امید ظاہر کی گئی۔
اسد طور کہتے ہیں کہ افغانستان میں جاری امن عمل کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ اگر افغان مسئلے پر کوئی مثبت پیشرفت نہ ہوئی تو بہت نقصان ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں دوبارہ جنگ چھڑی تو پہلے سے زیادہ خونریزی ہوگی لہذا یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ افغان طالبان شکست سے دوچار ہو گئے ہیں، صورتحال ایسی نہیں ہے۔ امید ہے افغانستان کے اندر قیام امن کے لئے پیشرفت ہوگی۔
اسد طور کے بقول عاصم جہانگیر کی صاحبزادی اور معروف خاتون صحافی منیزے جہانگیر نے آرمی چیف سے ملاقات میں سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر حال ہی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کا معاملہ اٹھایا تو آرمی چیف نے کہا کہ اگر ہم نے کسی کو مارنا ہو تو ہم ایسے نہیں مارتے۔ اب بہت جدید ٹیکنالوجی آ چکی ہے، اگر ہم ابصار عالم کو ختم کرنا چاہتے تو پتہ بھی نہیں چلنا تھا کہ سب کیسے یو گیا۔ تاہم اسد طور کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ سجنئر صحافی سلیم شہزاد کو کس نے قتل کیا، حامد پر کس نے قاتلانہ حملہ کیا اور مطیع اللہ جان کو کس نے اغوا کیا؟ آخر ہماری ایجنسیاں ان حملوں کے ملزمان کو پکڑنے میں آج تک ناکام کیوں ہیں؟ انہوں نے سوال۔کیا کہ اگر دفاعی اداروں کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی ہے تو ابھی تک صحافیوں پر کئے گئے حملوں کے مجرموں کو کیوں نہ پکڑا جا سکا۔ انکا کہنا تھا کہ یا تو آپ نااہل ہیں یا پھر خود مجرم ہیں۔
اسد طور نے اہنی ویڈیو میں یہ دعوٰی بھی کیا کہ سنئیر صحافیوں سے ملاقات کے دوران جنرل باجوہ نے گلہ کیا کہ پوری دنیا میں فوج اور خفیہ اداروں پر کوئی تنقید نہیں ہوتی لیکن یہاں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو مسنگ پرسنز کا واویلا مچا دیا جاتا ہے۔ کیا بارودی سرنگ کے دھماکوں میں شہید ہونے فوجی اہلکاروں اور دہشتگردی کی دیگر کارروائیوں میں شہید ہونے والے فوجیوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ ہمارا میڈیا انہیں مسنگ پرسنز کی طرح اہمیت کیوں نہیں دیتا ؟ بقول اسد طور اس موقع پر جنرل باجوہ نے سنئیر صحافی حامد میر کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ میر صاحب، گولیاں تو آپ کو بھی لگی تھیں بتائیں ناں کس نے ماریں تھیں، آپ کو تو پتہ ہے، جس پر حامد میر نے جواب میں کہا کہ مجھے سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے گولیاں مروائیں تھیں۔ اس پر آرمی چیف نے کہا کہ آپ ظہیر الاسلام کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں میں کہہ رہا ہوں آپ کو،،،، ساتھ ہی جنرل باجوہ نے حامد میر سے کہا کہ اصل میں آپ پر گولیاں کسی اور نے چلوائی تھیں۔
اسد طور کے مطابق اس ملاقات کے دوران جب سلیم صافی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے اسیر رکن قومی اسمبلی علی وزیر کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ تک علی وزیر کی والدہ کا پیغام پہنچا دیا ہے تو آرمی چیف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صافی صاحب آپ جانتے ہیں کہ علی وزیر کا مسئلہ کچھ اور یے۔ انہوں نے ایک ناجائز بس اسٹینڈ بنایا ہوا تھا جس کا قبضہ چھڑوایا گیا ہے اور اسی لیے انکو گرفتار بھی کیا گیا یے، انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی والدہ کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں بتائیں کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اسد طور کے بقول جنرل باجوہ نے دوران گفتگو قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ صحافی حضرات جب غیر ملکی سفارتخانوں میں جاتے تو وہاں پر کیا گفتگو کرتے ہیں۔ ایک اینکر نے سوال کیا کہ وہ لوگ کون ہیں؟ اس پر اسد طور کے مطابق آرمی چیف نے جواب دیا کہ وہ سب اسوقت میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ اسد طور کے بقول تحریک انصاف حکومت کی تمام تر ناکامیوں کے باوجود کپتان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے سے متعلق سوال پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم صرف عمران خان کو سپورٹ نہیں کرر ہے بلکہ ماضی میں اسی طرح ہم نے نواز شریف کو بھی سپورٹ کیا لیکن وہ اپنے ہی وزن سے گر گئے، اب یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسد طور کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح نواز شریف حکومت کے لئے مشکلات پیدا کیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کس طرح چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو نواز شریف حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا اور پانامہ جے آئی ٹی میں فوج کے لوگوں کو شامل کرکے نواز شریف کو اقتدار سے بیدخل کیا گیا، کس طرح ڈان لیکس کا شوشہ چھوڑا گیا۔ لہذا اب یہ کہنا کہ نوز شریف خود اپنے وزن سے گرے، کسی مذاق سے کم نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button