آواز ثاقب نثار کی ہی لگتی ہے، ادارے اب خیر منائیں


فیکٹ فوکس کی جانب سے لیک ہونے والی دو ججوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان نے کہا ہے کہ ‘مجھے گفتگو کے سیاق و سباق کا علم نہیں مگر آواز جسٹس ثاقب نثار کی ہی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ثاقب نثار دور کے معاملات پر سے گاہے بگاہے پردہ اٹھتا رہے گا، پانامہ تحقیقات اور مقدمات کے بہت سے رازوں پر پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے، لہٰذا عدالت عظمیٰ اور ادارے خیر منائیں’۔
کامران خان نے ٹوئٹر پر اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘گفتگو کے سیاق و سباق کا علم نہیں مگر مجھے آواز جسٹس ثاقب نثار کی ہی لگتی ہے پاناما کیس پس منظر سامنے رکھیں نتیجہ اخذ کرنا آسان ہے۔ یاد رہے کہ ثاقب نثار کی چیف جسٹس شپ کے دوران کامران خان ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے اور انہیں پاکستانی عدلیہ کا فخر قرار دیتے تھے۔ تاہم گلگت بلتستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی جانب سے ان پر ججوں پر دباؤ ڈالنے کے الزامات لگنے کے بعد سے کامران خان اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں اور اب ان کی خفیہ ویڈیو آنے کے بعد تو انہوں نے اس کو جینوئن قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کامران خان کی ٹویٹ پر مختلف دلچسپ تبصرے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ سینیر اداکار جمال شاہ نے کامران خان کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘راہ راست پر آنے میں ہی بہتری اور بچاؤ ہے۔ سینئر صحافی اسد طور نے کامران خان سے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ‘کیا اسکرپٹ رائٹر بدل گیا ہے آپ کے ٹویٹس کا؟’
سینئر صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ کامران کی فرانزک لیبارٹری نے بھی اس آڈیو کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک سیمینار سے خطاب کی پرانی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اسی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں جو کہ لیک شدہ آڈیو میں سنائی دیتی ہے۔ ثاقب نثار نے سیمینار میں کی جانے والی تقریر میں بھی وہی انگریزی کا فقرہ ۔۔۔
Let me be blunt
استعمال کیا ہے جو کہ ان کی لیک شدہ ویڈیو میں سنائی دیتا ہے۔ سابق چیف جسٹس کے ناقدین نے ان کی اس تقریر کو ان کی لیک ہونے والی آڈیو کے ساتھ جوڑ کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا ہے اور یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ آواز ثاقب نثار کی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ حسب توقع سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ لیک ہونے والی ویڈیو جعلی ہے اور اس میں سنائی دینے والی آواز ان کی نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی مختلف آڈیوز کو جوڑ کر یہ آڈیو بنائی گئی ہو۔ تاہم ان کی لیک ہونے والی آڈیو کو سن کر صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ ثاقب نثار کی ہی آواز ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی ترمیم یا اضافہ نہیں کیا گیا۔ امریکہ کی ایک فرانزک لیبارٹری نے بھی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ آواز ثاقب نثار کی ہی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی ٹیمپرنگ نہیں کی گئی۔
دوسری جانب لندن میں مقیم سینئر مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کے بعد ان کی ایک ویڈیو بھی آنے والی ہے جس سے ثابت ہوجائے گا کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا دلوانے کے لیے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک پر بھی دباؤ ڈالا تھا۔

Back to top button