آٹو انڈسٹری کے تحفظات کے باوجود الیکٹرک وہیکل پالیسی فعال کرنے کا فیصلہ

آٹوموبائل انڈسٹری کے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی (این ای وی پی) سے متعلق تحفظات کے باوجود حکومت نے جنوری 2020 تک پالیسی فعال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تاہم پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کے بارے میں ایک اہم فیصلہ لیا ہے جبکہ پوری آٹو انڈسٹری اندھیرے میں ہے۔
حکومت کی طر ف سے آئندہ برس الیکٹرک وہیکل پالیسی فعال کرنے حوالے سے پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ ہمیں بین وزارتی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں این ای وی پی پالیسی سے متعلق عملدرآمد پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ 4 نومبر سے مارکیٹ میں یہ خبر گردش رہی ہے کہ این ای وی پی پالیسی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پالیسی کی شق 8 کے تحت بین الاوزارتی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس میں وفاقی وزارتوں، صوبوں، نجی شعبے اور تعلمی اداروں کے ممبران شامل ہوں سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمیٹی الیکٹرک وہیکل ویلیو چین سے متعلق تمام امور کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی تاکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ آسان ہو۔اس سے قبل وزارت موسمیات نے الیکٹرک گاڑی کی ڈرافٹ پالیسی ارسال کی تھی جبکہ اس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تاحال ان کا موقف شامل نہیں کیا جا سکا۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے 23 مئی کو آٹو موٹیو سیکٹر کے لوگوں سے الیکڑک گاڑی کی پالیسی کی تشکیل کے بارے میں ایک اجلاس طلب کیا تھا۔جس پر اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ طور پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ متعلقہ وزارت اس موضوع سے ناواقف ہے اور یہ وزارت صنعت و پیداوار (ایم او آئی پی) کی ذمہ داری ہے۔
پاما کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے بتایا کہ جس کے بعد سے پاما نے ایم او ای پی اور ای ڈی بی کے ساتھ بات چیت کی اور اس کے علاوہ یکم نومبر کو کراچی میں اپنے اپنے عہدیداروں سے مشاورتی میٹنگ کی جس میں آٹو انڈسٹری کے لیے این ای وی پی کی تشکیل سازی کے بارے میں تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاما کے لیے یہ حیرت کی بات ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی 5 نومبر کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھی جب اسٹیک ہولڈر اس پر ای ڈی بی سے تبادلہ خیال کررہے تھے اور اسی موضوع پر پالیسی منظوری کے لیے حکومت کے دوسرے حصے نے پیش کی۔انہوں نے کامرس اینڈ پروڈکشن ایڈوائزرعبد الرزاق داؤد کو آگاہ کیا کہ یہ غیر معمولی بات ہے کہ ایم ڈی آئی کے تحت ای ڈی بی نے اسٹیک ہولڈرز سے الیکٹرک گاڑی کی پالیسی پر بات چیت کا آغاز کیا جبکہ دوسری وزارت نے پہلے ہی اسی موضوع پر سمری کی حمایت کردی اور اسے مںظوری کے لیے کابینہ میں پیش کردیا۔
عبدالوحید خان نے عبدالرزاق داؤد پر زور دیا کہ وہ این ای وی پی کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں آٹو انڈسٹری کو آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے 5 نومبر کواین ای وی پی کی منظوری دی تھی اور وزارت تبدیلی موسمیات (ایم او سی) نے اسلام آباد میں تبادلہ خیال کے لیے ایک بین الاوزارتی اجلاس طلب کرنے کا سمن جاری کیا۔
ایم او سی سی نے متعلقہ وزارتوں اور سرکاری محکموں کو آگاہ کیا ہے کہ ‘اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ذریعے مراعاتی پیکج کی توثیق کے ذریعے این ای وی پی کو جنوری 2020 تک فعال کرنے کی ضرورت ہے’۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی این ای وی پی پر عمل درآمد کا اعلان کرچکے ہیں۔وزیراعظم کا مذکورہ اقدام سموگ سے بچاؤ کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button