آپریشن تیز، غیر قانونی افغانوں کے لاکھوں جعلی شناختی کارڈ بلاک

حکومت نے جنوری 2024 کے آخر تک افغان باشندوں سمیت 10 لاکھ غیر قانونی مہاجرین کی ملک بدری کا ہدف حاصل کرنے کے لئے جعلی اور غیر قانونی طریقے سے حاصل کئے گئے لاکھوں قومی شناختی کارڈز بلاک کردیے ہیں۔ بلاک کئے گئے 80 ہزار سے زائد شناختی کارڈز بلوچستان میں جاری کئے گئے تھے۔حکام نے بتایا ہے کہ جعل سازی میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر کئی اہلکاروں کو محکمانہ تحقیقات کے بعد ملازمت سے برطرفی سمیت دیگر سزائیں دی گئی ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار طفیل احمد کہتے ہیں کہ جعل سازی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی شناخت کے لیے ایک مخصوص اور جامع نظام کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے طفیل احمد نے م‍زید کہا، ”غیرملکی تارکین وطن کے انخلاء کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ اب دوسرے مرحلے میں مزید سختی کے ساتھ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہاں جو بھی لوگ غیرقانونی طور پر مقیم ہیں، انہیں ہر صورت واپس اپنے ملک جانا ہوگا۔ یہ پاکستان کی داخلی سلامتی کا معاملہ ہے اور ریاست اس قومی مفاد کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔‘‘ یشنل ڈیٹا بیس میں چھان بین کے دوران مشتبہ شہریوں کے والدین اور خونی رشتہ داروں کی بائیو میٹرک تصدیق بھی کرائی جا رہی ہے تاکہ جعل سازی پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے م‍زید کہا، ”سائبر سیکیورٹی کا معاملہ ہمیشہ بہت حساس رہا ہے۔ غیرقانونی قومی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کے اجراء کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ( جے ائی ٹی ) بھی قائم کی گئی ہے۔ جے آئی ٹی مختلف پہلوؤں سے اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس تک رسائی کے لیے دو مراحل میں تصدیق اور داخلی نگرانی کا ایک بہتر نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، جو لوگ بھی اس غیرقانونی عمل میں ملوث ہوں گے، ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جا ئے گی. بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان اچکزئی کہتے ہیں رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی مقررہ معیاد ختم ہونے کے بعد سے لے کر اب تک بلوچستان سے ایک لاکھ 20 ہزار غیرقانونی تارکین وطن واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔ کوئٹہ میں نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا، ”غیرقانونی تارکین وطن کے پاس اپنے ممالک واپسی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، جو لوگ سفری دستاویزات کے بغیر یہاں آئے ہیں، اب انہیں واپس اپنے ممالک لوٹنا ہوگا۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں سے مزید 2 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کو جلاوطن افراد کے لیے بنائے گئے مراکز میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے انہیں اپنے ممالک واپس بھیجا جائے گا۔‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیرملکی تارکین وطن کے خلاف بھرپور کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور سیکیورٹی اہلکار شک کی بنیاد پر ہرشہری کا قومی شناختی کارڈ چیک کرسکتے ہیں۔

جنوری سن 2024 کے آخر تک 10 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی ملک واپسی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے والے مہاجرین کو حکومت نے ہر ممکن معاونت فراہم کی۔ مہاجرین کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات پر بھی بھرپور کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔‘‘ دوسری جانب کوئٹہ میں مقیم ایک افغان تاجر حاجی شوکت کہتے ہیں کہ مہاجرین کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں معمول ہے حکومتی دعوے ایک طرف لیکن حقائق اس صورتحال سے یکسر مختلف ہیں۔ یہاں سے ایسے ہزاروں افراد بھی زبردستی ملک بدر کیے گئے ہیں جن کے پاس باقاعدہ پی او آر کارڈز تھے۔ افغان شہریوں کو یہاں بہت تنگ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اہلکار رجسٹرڈ مہاجرین کو بھی گرفتار کر رہے ہیں اور انہیں چھان بین کے بغیر ڈی پورٹیشن مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کا ہفتوں سے اپنے خاندانوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔‘‘رجسٹرڈ مہاجرین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں مگر انہیں کوئی انصاف نہیں مل رہا۔

Back to top button