حکومت کا عمران سے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت اور تحریک انصاف کے مابین کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہ بننے کے فیصلے کے بعد حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ ڈائریکٹ مذاکرات نہ کرنے کا ففیصلہ کیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ایک سال کی بدترین کشیدگی کے بعد برف پگھلتی نظر آرہی ہے اور دونوں جماعتوں نے بالواسطہ مذاکرات کے لیے اپنی ٹیموں کا اعلان کردیا ہے۔

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ دار ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کاوشوں کیساتھ انکا کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ کسی قسم کے بیک ڈور رابطوں کا حصہ ہیں۔مقتدرہ اپنے اس فیصلے پر قائم ہے کہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال سے دور رہا جائے اور اگر یہ انتشار ختم کرنا ہے تو سیاستدانوں نے خود کرنا ہے۔جب اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی معاملات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تو نیوٹرل کے لفظ پر شدید تنقید کی گئی، اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگائے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا یہ فیصلہ اس وقت درست ثابت ہوا جب ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے سیاسی جماعتوں کے معاملات آئینی طریقے سے سلجھانے کی کوشش کی تو آگ کی چنگاریاں اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ گئیں۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے عدلیہ کیساتھ کئے گئے سلوک کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل رہنے کے بیانیے کو تقویت ملی اور اسٹیبلشمنٹ اپنے اس فیصلے پر مزید پُر اعتماد ہو چکی ہے، سیاسی معاملات کو سلجھانے کا کام سیاسی قیادت کا ہے، اسٹیبلشمنٹ اس صورتحال سے دور رہے گی، یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے قومی اسمبلی کے ان کیمر ااجلاس میں شرکت کے دوران واضح پیغام دیا کہ موجودہ بحران کا آئینی اور سیاسی حل حکومت کو ہی نکالنا ہے فوج اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی مذاکرات اور اتفاق رائے کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے تین رکنی مذاکراتی کمیٹی بنانا ،جماعت اسلامی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانا، وزیر اعظم اور عمران خان کیساتھ سراج الحق کی ملاقاتیں، تحریک انصاف کی جانب سے جماعت اسلامی کیساتھ بات چیت کیلئے تین رکنی کمیٹی بنانا ان جماعتوں کے اپنے اقدامات ہیں جو انکی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، اسٹیبلشمنٹ کا ان اقدامات سے کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان تحریک انصاف ہر صورت میں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات چاہتی ہے مگر حکومت کسی طور بھی 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کرانے کیلئے تیار نہیں ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں اگر وہ انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کیلئے کوششیں کریں تو ایک فریق راضی دوسرا ناراض ہو جائے گا جسکا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔سیاستدانوں کو اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی معاملات سے دور رہنے کے فیصلے کو سراہنا چاہیے اور اس معاملے کا حل خود تلاش کرنا چا ہیے۔

دوسری جانب تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہونا انکے اپنے اقدامات ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کا اس معاملے کیساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔

دونوں حریف جماعتوں مسلم لیگ نون او تحریک انصاف کے درمیان تعطل توڑنے میں امیر جماعت اسلامی نے کردار ادا کیا، جنہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ہفتے کو الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے انتخابات کے معاملے پر مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے ’مثبت جواب‘ دیا ہے۔اب دونوں جماعتیں براہ راست مذاکرات کے بجائے جماعت اسلامی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ’اتفاق رائے کے لیے بھرپور اقدام‘ کا مثبت جواب دیتے ہوئے ایاز صادق اور سعد رفیق کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اس مقصد کے لیے پرویز خٹک، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ کہ ایاز صادق اور سعد رفیق کو مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی سے رابطے کی اجازت دے دی گئی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے انتخابات کی تاریخ کے لیے اپنا مؤقف پھر دہرایا۔

دوسری جانب امکان ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں ایک روز انتخابات کرانے کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کثیرالجماعتی کانفرنس منعقد کرانے کا امکان ہے۔کثیرالجماعتی کانفرنس میں حکومتی اتحاد کو اکتوبر سے پہلے عام انتخابات کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی جبکہ پی ٹی آئی انتخابات، خاص طور پر پنجاب میں، 14 مئی کو کرانے کے مطالبے سے دستبردار ہوجائے گی۔

جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے کہا کہ مجوزہ کثیرالجماعتی کانفرنس کا مقام اور تاریخ مذکورہ معاملے پر مختلف جماعتوں سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ’جب جماعت اسلامی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی تو پھر ایک نکتے، ملک میں ایک ہی روز انتخابات، پر وسیع مذاکرات منعقد کرنے پر اتفاق ہوپائے گا، صرف اسی طرح جماعت اسلامی ایک کثیرالجماعتی کانفرنس کے انعقاد پر خوش ہوگی‘۔قیصر شریف نے کہا کہ ’امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وزیراعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو لچک دکھانے اور اپنے موجودہ مؤقف کے برخلاف انتخابات بالترتیب چند ماہ پہلے یا بعد میں کرانے پر متفق ہونے پر زور دیا‘۔انہوں نے کہا کہ سراج الحق ایک پریس کانفرنس میں پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اپنی جماعت کے مرکز میں مجوزہ کثیرالجماعتی کانفرنس کی میزبانی پر خوش ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما آصف علی زرداری سے عید کے ملاقات کا امکان ہے، جس طرح انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی سے اس معاملے پر رابطہ کر چکے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان فواد چوہدری نےبتایا کہ ان کو یہ بات آگے بڑھتی نظر نہیں آتی۔’ہم تو ایک فریم ورک پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے آنے کے فورا بعد علی زیدی کو گرفتار کر لیا۔ ادھر فضل الرحمان نے بھی کل کچھ باتیں کی ہیں۔ پی ڈی ایم کے نمائندہ اس وقت فضل الرحمان ہیں۔‘فواد چوہدری کا مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس وقت بات چیت کے لیے ماحول بنتا نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے کہا کہ ’جب آپ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں کرتے رہیں گے اور مولانا فضل الرحمان اس طرح کی باتیں کریں گے تو بات چیت کے لیے ماحول تو نہیں بنے گا۔‘واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے عمران خان سے مذاکرات کی مخالفت کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ پی پی پی نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملے پر اتفاق رائے کے لیے حکومتی اتحادیوں سے گفتگو کے لیے سینیٹر یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر اور وزیراعظم کے مشیر برائے کشمیر اور گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی پچھلے ہفتے تشکیل دی تھی۔

Back to top button