فوج سپریم کورٹ نہیں، حکومت کے ساتھ کھڑی ہے؟

پارلیمنٹ میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر ہمارے پاکستان کی بات کرنی چاہیے۔‘ آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں۔ پاک فوج ملکی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ملک میں موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال اور حکومت اور سپریم کورٹ کے مابین پنجاب میں الیکشن کی تاریخ اور عدالتی اصلاحات کو لے کر جاری کشمکش کے دوران، آرمی چیف کے اس بیان کو خاصی اہمیت سے دیکھا جا رہا ہے جس میں ہر طبقہ اور سیاسی جماعت اپنی مرضی کے معنی تلاش کرتی نظر آرہی ہیں۔بیشتر تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ آرمی چیف نے واضح الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن اس پیغام سے کچھ لوگوں کو یہی تاثر مل رہا ہے کہ حکومت اور عدالت کے مابین ہونے والی محاذ آرائی میں آرمی چیف نے ایک پوزیشن لی ہے۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرمی چیف کے اس بیان میں آیا کوئی پیغام تھا اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس بیان کی اہمیت کیا ہے؟

آرمی چیف کے بیان بارے سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا پیغام بہت واضح ہے کہ ’وہ حکومت اور پارلیمان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ اور ظاہر ہے اگر حکومت اور عدالت کے تنازعہ اور باقی سب صورتحال کو مدِنظر رکھا جائے تو ’وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں یا پی ٹی آئی کی نسبت حکومت اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کے ساتھ زیادہ کھڑے نظر آتے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ اصولی طور پر تو فوج حکومتِ وقت کے ساتھ ہی ہوتی ہے اور فوج کا حکومت کے ساتھ نہ ہونا منفرد بات ہوتی ہے۔وہ اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں ’مسلم لیگ ن کی پچھلی حکومت میں فوج ان کے ساتھ نہیں تھی اور اُس وقت فوج پی ٹی آئی کی حمایت کر رہی تھی لیکن اِس وقت حکومت اور فوج ویسے ہی اکھٹے ہیں جیسے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں تھے۔‘

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’فوج کہتی تو ہے کہ وہ نیوٹرل ہے لیکن ظاہر ہے اس وقت وہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں حکومت کے زیادہ قریب ہیں اور حکومت و پارلیمان کے ساتھ کھڑے ہیں اورحکومت کے یہ فیصلے عمران خان اور سپریم کورٹ کے خلاف ہیں۔‘

یاد رہے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بطور آرمی چیف اپنے آخری خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ گذشتہ سال فروری میں عسکری قیادت نے بڑے غور و خوض کے بعد اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ادارہ آئندہ سیاسی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ فوج اس پر سختی سے کاربند ہیں اور رہیں گے۔‘

تجزیہ کار ضیغم خان بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتھ ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتحال میں جوڈیشری پی ٹی آئی کے ساتھ جبکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔ یہ تناظر نہ ہوتا تو یہ ایک عام بیان تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آرمی چیف کے بیان کے دو حصے ہیں، پہلے حصےیعنی ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر ’ہمارے پاکستان‘ کی بات کرنی چاہیے میں انھوں نے تنازعہ کے حل کی بات کی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’پرانے پاکستان کا مطلب ہے پرانی سیاسی پارٹیاں اور پی ٹی آئی اپنے آپ کو نیا پاکستان کہتی ہے اور یہی پاکستان میں سیاسی تنازعے کی وجہ بن گئی ہے جس نے ملکی اداروں کو بھی ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔‘ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’آرمی چیف اس حصے میں کامن گراؤنڈ اور مل کر مستقبل کے لیے اکٹھے ہونے کی بات کی ہے اور اس میں انھوں نے کسی کی حمایت نہیں کی۔‘تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’دوسرے حصے یعنی عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں، پاکستان کی فوج ملکی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں اور عدلیہ کے ساتھ نہیں۔‘ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’آرمی چیف کو یہ بیان دینے کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اسی سی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا سٹرکچر کتنا غیر مستحکم ہو گیا ہے۔‘

فوج کے نیوٹرل ہونے کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ’شاید اسٹیبلشمنٹ حکومت کو زیادہ پسند نہ کرتی ہو اور وہ پی ڈی ایم کا اتنا ساتھ نہ دیں جتنا انھوں نے عمران خان کا دیا مگر اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے تعلقات بہت بدتر ہو گئے ہیں اور اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وقت ملک کے اداروں کی آپس میں لڑائی ہے جس میں فوج نیوٹرل نہیں رہ سکتی۔‘

صحافی و تجزیہ نگار نصرت جاوید اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ آرمی چیف نے کسی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ’آرمی چیف نے صرف اتنا کہا ہے کہ فوج اب دوسروں کی لڑائیاں نہیں لڑے گی، انھوں نےایک بار پھر سے اپنا یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج غیرجانبدار ہے اور یہ بیان کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو آرمی چیف نے بہت عمدہ اور مثبت بات کی ہے جس کا موجودہ سیاسی صورتحال میں کون فائدہ اٹھائے گا یا اٹھا سکتا ہے وہ ایک الگ بحث ہے۔‘

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ’بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ جیسے آرمی چیف موجود حکومت کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ہیں، میں ایسا نہیں سمجھتا۔‘ان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے تو عوامی نمائندوں کی بات کی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھے منتخب نمائندوں میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان تو شامل نہیں ہیں تو نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف کو شاید احتیاطاً یہ بھی کہہ دینا چاہیے تھا۔۔۔ اور عمران خان جیسے مقبول ترین رہنما۔‘

دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ کسی آرمی چیف نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بیان نہیں دیا تاہم آرمی چیف کی گفتگو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔’اگر وہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام کا منتخب ہاؤس جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اس پر عملدرآمد کریں گے، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر اس وقت پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی لڑائی ہے تو آرمی چیف نے کہہ دیا ہے کہ ہم عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاؤس کے ساتھ ہیں اور اس میں چھوٹی سی اپوزیشن بھی شامل ہے۔‘

فوج کی نیوٹریلٹی کے حوالے سے حامد میر کا کہنا ہے کہ ’یہ کہنا کہ فوج نیوٹرل ہے، ایک ڈرامہ ہو گا، فوج تو کبھی نیوٹرل نہیں ہوتی، عمران خان کے دور میں بھی نیوٹرل نہیں تھی، ابھی بھی نیوٹرل نہیں ہے اور آج کل فوج پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔ ‘

Back to top button