اسلام آباد میں جانور جنگل سے نکل کر سڑکوں پر کیوں؟

مارگلہ ہلز پر بسنے والے جنگلی تیندووں کے انسانوں پر حملوں کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے ٹریکنگ کے لیے مقبول ترین ٹریل نمبر تین کو بند کر دیا ہے انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس ٹریل کو بند کرنے کا فیصلہ تب کیا گیا جب قریب ہی واقع سیدپور گاؤں میں چند تیندوے آگئے جس سے ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ اسلام آباد یقیناً دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں سے ایک ہے جسے اپنی ہریالی، صفائی اور پہاڑوں کے دلفریب نظاروں کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن یہاں کی ٹریلز بھی کم مقبول نہیں۔ ان ٹریلز پر یہاں اسلام آباد اور گرد و نواح کے رہائشی اکثر اپنی فیملی کے ساتھ چہل قدمی کرنے آتے ہیں اور راستے میں جنگلی حیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کی سربراہ رینا خان نے دو سال قبل ہی بتا دیا تھا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں پانچ تیندووں کی نشاندہی ہوئی ہے جسکا مطلب ہے کہ نیشنل پارک کا ایکو سسٹم وائلڈ لائف کے لیے مثبت ہے۔ وائلڈ لائف بورڈ نے لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ ٹریل نمبر 4 اور 6 پر اکیلے مت جائیں اور صرف گروپ کی صورت میں جائیں۔ اسکے علاوہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی ان ٹریلز کی طرف جانے سے منع کیا گیا یے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیندوے دن کے وقت سوتے ہیں اور رات کو شکار کی تلاش میں نکلتے ہیں اس لیے اندھیرا پڑنے کے بعد ان کی آماج گاہوں کا رخ نہ کیا جائے۔ لیکن صاف بات یہ ہے کہ جانور انسانی آبادیوں میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ انسان جانوروں کے علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔
دو صدیوں سے انسان کرہ ارض کے ہر خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہے ہیں، انسانی سرگرمیوں کے آغاز سے کرہ ارض اس دور میں داخل ہو گئی جہاں آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام انسانی سرگرمیوں سے متاثر ہونا شروع ہوئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے جانوروں کے مسکن پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ انسانی قبضے کے خلاف اور جانوروں کے مساکن کو بچانے کے لیے دنیا کا 13 فیصد حصہ حفاظتی علاقے کے طور پر مختص ہے لیکن زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں کئی جنگلی حیات کے مساکن ان مختص کیے گئے علاقوں سے باہر ہیں جہاں اکثر وہ اور انسانی آبادی آمنے سامنے آ جاتے ہیں، جنگلی حیات اور انسان کا تصادم کی شرح کا براہ راست تعلق انسانی آبادی سے ہے۔
یعنی انسانی آبادی کے بڑھنے سے اور سبزہ زار ختم ہونے سے اس تصادم میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس میں شدت بھی آ سکتی ہے۔ انسانوں اور جنگلی حیات کے مابین تصادم عالمی مسئلہ ہے لیکن ایسے واقعات ایشیا اور افریقہ میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں لوگ زراعت سے وابستہ ہیں اور مویشی پالتے ہیں۔عالمی اندازے کے مطابق ہر سال 10 سے 15 فیصد فصل جننگلی جانور کھا جاتے ہیں۔قومی سطح پر یہ اعداد و شمار خاص نہیں ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہیں جن کی روزی زراعت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جب فصلوں یا مویشیوں پر حملہ ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں جنگلی جانوروں کے لیے انسانوں کا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے اور اسی لیے ان کو دیکھتے ہی مار دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں انسان اور جنگلی جانوروں کے تصادم کے حوالے سے تحقیق بہت کم کی گئی ہے لیکن وہ بھی ملک کے شمالی علاقوں تک محدود ہے جہاں جنگلی حیات زیادہ ہے اور انسانی آبادی کم، دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسان اور حیوان کے درمیان تصادم میں سب سے بڑی وجہ خطرے کا احساس ہے چاہے وہ اصل میں موجود ہو یا نہ ہو۔
