امیتابھ بچن کو اپنے لمبے قد کی وجہ سے کیا نقصان اٹھانا پڑا؟

اپنے لمبے قد کی وجہ سے فلمی دنیا میں پہچان بنانے والے امیتابھ بچن کو شوبز انڈسٹری میں آنے سے پہلے اپنے قد کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کا کہنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ لمبے قد کے بہت فوائد ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ اپنے مشہور رئیلٹی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں اپنے سکول کے زمانے کی یاد تازہ کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اپنے قد کی وجہ سے کئی بار ہراساں کیا گیا۔ چونکہ سکول میں باکسنگ لازمی تھی، اس لیے انہیں باکسنگ سینئرز کی فہرست میں شامل کر دیا گیا، جہاں ان کے قد کی وجہ سے انہیں روزانہ تنگ کیا جاتا اور لمبو قرار دے انکی پٹائی کی جاتی۔
امیتابھ بچن نے بتایا کہ ابتداء میں انکے والدین نے انکا نام "انقلاب "رکھا تھا کیوں کہ جب وہ پیدا ہوئے تب بھارت میں آزادی کی تحریک زورں پر تھی اور ہر طرف’ انقلاب زندہ باد’ کے نعرے گونج رہے تھے۔ ان نعروں سے متاثر ہو کر ہی ان کا نام’ انقلاب ‘رکھا گیاتھا لیکن بعد میں بھارت کی ایک مشہور ہندی زبان کی شاعرہ سومترا نندن پنت کے مشورے پر امیتابھ کے والد ہر ی ونش رائے بچن نے ان کا نام امیتابھ رکھ دیا۔ امیتابھ کے معنی ہیں ” ایسی روشنی جو کبھی مدھم نہ پڑے۔” امیتابھ نے بتایا کہ وہ فلموں میں آنے سے پہلے کلکتہ کی ایک شپنگ فرم میں بطور’ فریٹ بروکر’ کام کرتے تھے۔ انہی دنوں امیتابھ نے آل انڈیا ریڈیو میں نیوز اینکر کے لئے درخواست دی تاہم انہیں آڈیشن میں یہ کہہ کر فیل کردیا گیا کہ ان کی آواز اس کام کے لائق نہیں ہے۔ امیتابھ نے اس ‘ناکامی ‘کو سنجیدگی سے لیا اور دن رات محنت کر کے اسی آواز سے ایسا جادو جگایا کہ لوگ آج بھی ان کی آواز کے دیوانے ہیں ۔ آنے والے سالوں میں انہوں نے ریڈیو سے ناصرف متعدد پروگرام پیش کئے بلکہ ریڈیو کے لئے گانے بھی گائے۔
امیتابھ کا خاندانی نام ” شری واستو ” تھا لیکن ان کے والد چونکہ شاعر تھے اور’ بچن’ تخلص کیا کرتے تھے لہذا امیت نے اسی تخلص کو اپنے نام کا حصہ بنالیا ۔ اب ‘بچن’․ان کے نام کا ‘اٹوٹ انگ ‘ ہے۔امیتابھ نے 1984ء میں فلمیں چھوڑ کر سیاست میں شمولیت اختیار کی لیکن سیاست انہیں راس نا آئی اور صرف تین سال بعد ہی وہ فلموں میں لوٹ آئے۔ واپسی پر ان کی پہلی فلم”شہنشاہ” تھی جو 1988ء میں ریلیز ہوئی لیکن اس فلم کے بعد فوری بعد بطور ہیرو ان کی مانگ کم ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ان کی پے در پے کئی فلمیں فلاپ ہوگئیں۔ اس ناکامی کے بعد امیتابھ نے فلمسازی شروع کی اور اپنی ذاتی کمپنی ‘امیتابھ بچن کارپویشن لمیٹیڈ’ قائم کی ۔ اس کمپنی کی جاری کردہ پہلی فلم ” تیرے میرے سپنے ” تھی جس سے ارشد وارثی کو بریک ملا اور وہ آج کے نامور اداکار ہیں ۔ لیکن اے بی سی ایل کو اس فلم سے بہت بڑا مالی نقصان ہوا ۔ اے بی سی ایل نے 1997ء میں ایک اور فلم "مرتیو داتا” ریلیز کی لیکن یہ فلم بھی بری طرح فلاپ ہوئی۔ اسکے بعد کمپنی نے ایونٹ منیجمنٹ کا ذمہ اٹھایا لیکن یہاں بھی اسے کامیابی نہیں ملی بلکہ امیتابھ اس کمپنی کی وجہ سے بینکوں کے ڈیفالٹر ہوگئے، اور انہیں جائیدادیں گروی رکھا پڑیں۔ امیتابھ کے لئے سارے کیرئیر کا یہ سخت ترین وقت تھا۔ 2000ء میں امیتابھ نے "کون بنے گا کروڑ پتی” کے ذریعے ٹی وی کا رخ کیا اور ایک پروگرام کا معاوضہ 25 لاکھ روپے طلب کیا۔ پھر جیسے جیسے یہ پروگرام کامیاب ہوتا گیا معاوضہ بھی بڑھتے بڑھتے ایک کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس پروگرام کی بدولت امیتابھ کو معاشی طور پر سنبھلنے کا موقع ملا اور یہیں سے انہوں نے دوبارہ فلمی سفر شروع کیا جو آج بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
