نواز شریف بادشاہ گر بنے رہیں گے یا خود بادشاہ بنیں گے؟

تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کرنے والے میاں نواز شریف اگرچہ آج کل لندن میں مقیم ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں ان کا سکہ اب بھی ویسے ہی چلتا ہے جیسے کہ ماضی میں چلتا تھا اور وہ اپنے پارٹی اور حکومتی معاملات بیرون ملک سے کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ نواز شریف کو سیاست سے نکالنے کی اب تک کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم بنوانے کے بعد اب نواز شریف نے پارٹی میں بادشاہ گر کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگلے عام انتخابات کے بعد نواز شریف خود بادشاہ بنیں گے، شہباز شریف کو بادشاہ بنائیں گے یا اپنی بیٹی کو وزیراعظم بنوائیں گے۔
نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیرسایہ اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا لیکن اب وہ اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ نواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہیں مجموعی طور پر سب سے زیادہ عرصہ یعنی 9 سال تک وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ تین مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے اور تینوں مرتبہ آرمی چیف کے ساتھ پنگا پڑنے کے بعد وزرات اعظمٰی سے ہٹائے گئے۔ لیکن ہر مرتبہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اپنی غیر معمولی سیاسی مہارت کے باعث وہ اقتدار میں واپس آنے میں کامیاب بھی رہے۔
نواز شریف اور اُن کے خاندان کے سیاسی سفر میں بنیادی طور پر مقابلہ ان کی حریف جماعت پیپلز پارٹی سے ہی رہا۔ یہ دونوں جماعتیں کبھی سیاسی کشمکش اور کبھی سیاسی افہام و تفہیم کے ساتھ ملکی اقتدار میں حصہ دار رہیں۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی سیاست میں عمران خان کی آمد سے آنے والی تبدیلیوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ کی سیاست کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے۔ اب نواز لیگ کی سیاسی حریف پیپلزپارٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ہے اور عمومی تائثر بھی یہی ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بھی انہی دونوں جماعتوں کا میچ پڑے گا۔
نواز شریف لاہور کے ایک امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بی اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ نوازشریف کا سیاسی کیریئر جنرل محمد ضیاءالحق کے دور میں شروع ہوا جب وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔
وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ ضیا دور میں 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياء نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تاہم نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔
1990ء میں نواز شریف نے آئی ایس آئی کے تخیلق کردہ اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، عام انتخابات میں کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم بنے۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کو غلام اسحاق خان نے برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے ایما پر ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر غلام اسحاق خان کو بھی اپنا عہدا چھوڑنا پڑا۔
نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ لیکن ان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو پائے۔ اکتوبر 1999ء میں میاں صاحب نے تب کے آرمی چیف پرویز مشرف کو سازش کے الزام پر ہٹا کر جنرل ضیاالدین کو نیا فوجی سربراہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن فوج کا سیاسی کردار کم کرنے کی یہ کوشش ان کے لیے آفت بن گئی اور فوجی بغاوت کے بعد ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ ان کی ختم ہونے کے بعد ان پر ہائی جیکنگ کا مقدمہ چلا، جو "طیارہ سازش کیس” کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں ان پر اغوا اور قتل کے الزامات بھی شامل کیے گے جس کے بعد انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
تاہم میاں صاحب ایک معاہدے کے بعد سعودی عرب جلاوطنی میں چلے گئے۔ انہوں نے 2006 میں لندن میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور مشرف کی فوجی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ 2007 کی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر، 2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔
2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس بار اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لئے عدلیہ کا سہارا لیا اور ان کو پاناما کیس میں دھر لیا۔ تاہم نواز شریف کو پانامہ کیس میں نہیں بلکہ اقامہ رکھنے کا مجرم قرار دے دیا گیا اور یوں وہ 28 جولائی 2017ء کو بطور وزیر اعظم نااہل قرار پائے۔ اس فیصلے کے بعد نواز شریف ایک بڑے جلوس کے ساتھ براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور پہنچے اور کہا کہ اب وہ ووٹ کی عزت بحال کرنے کا ایجنڈا لے کر آگے چلیں گے۔ تاہم ان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انہیں علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت دے دی گئی۔ان حالات میں بلاشبہ آج نواز شریف اپنی سیاسی زندگی کے اس مقام پر ہیں جہاں ان کا ہم پلہ کوئی اور سیاسی لیڈر کم ہی نظر آتا ہے۔
