جناح نے پاکستان کو سیکولر بنانے کی خواہش کیوں کی؟
بابائے قوم محمد علی جناح کا بنایا ہوا پاکستان اسلام پسندوں اور ترقی پسندوں کے مابین شاید پہلے کبھی بھی اتنا منقسم نہیں تھا، جتنا کہ آج ہے۔ پاکستانی ریاست کیسی ہونی چاہئے؟ سیکولر یا اسلامی؟ کیا جناح پاکستان کی صورت میں ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے یا مسلم اکثریت والا ایک ایسا سیکولر اور لبرل ملک جہاں دیگر اقلیتوں کو بھی برابری کے حقوق حاصل ہوں؟ افسوس کہ قیام پاکستان کے 75 برس بعد بھی یہ بحث جاری ہے۔
پاکستان کی اسلامی شناخت پر اصرار کرنے والے طبقے کے نزدیک پاکستان کی بنیاد کلمۂ طیبہ پر رکھی گئی تھی اور خود بانیان پاکستان کی طرف سے اسے اسلام کے سنہرے اصولوں پر چلائے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لہٰذا اسلامی تعلیمات کی بجائے مغربی انتخابی جمہوریت کے زیراثر کثرت رائے کی بنیاد پر قانون سازی کرتی ریاست وہ پاکستان نہیں ہو گا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔ اس کے برعکس ترقی پسند اور ریاست کو سیکیولر دیکھنے کے خواہش مند طبقے کے نزدیک جناح اپنی ذاتی زندگی میں مکمل طور پر ایک غیر مذہبی شخص تھے اور یہ کہ انہوں اس بارے میں کبھی منافقت سے کام نہیں لیا۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں جناح نے مذہبی شناخت کو ریاست کے امور سے بے دخل کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ لہٰذا پاکستان کی آئینی ساخت میں مذہب کی پیوند کاری کر کے جو پاکستان وجود میں لایا گیا ہے، ان کے نزدیک یہ جناح کا پاکستان نہیں ہے۔
اگرچہ زندہ معاشروں میں ماضی محض ایک حوالے کے طور پر موجود رہتا ہے اور وہ اپنے روزمرہ کا ڈھانچہ اپنے حال کے معروض پر تشکیل دیتے ہیں، لیکن زیادہ تر پاکستانی آج بھی سقوط ڈھاکہ کی کہانی سے زیادہ سقوط غرناطہ اور سقوط بغداد کی تاریخ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ چنانچہ لبرلز ہوں، سیکیولر ہوں، یا پھر مذہبی طبقات، ہمارے ليے آج بھی اپنی قومی ترجیحات کے تعین کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ 75 برس قبل جناح کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے۔ چنانچہ ہماری سیاسی شناخت کی ساری بحث بانی پاکستان کی جس ایک تقریر کی تفسیر پر موقوف ہے اسے 11 اگست 1947 کی تقریر کہا جاتا ہے۔
پاکستان بننے سے چار دن پہلے، 11 اگست 1947 کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں بانی پاکستان نے اپنی صدارتی تقریر میں نئی مملکت کو درپیش مسائل کے حوالے سے گفتگو کی اور بہت سے دیگر امور پر گفتگو کرنے کے علاوہ کہا، ’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے، اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی معنوں میں نہیں، کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ سیاسی معنوں میں، کیونکہ وہ ایک ہی ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے۔‘
سرحد کے دونوں اطراف سے تعلق رکھنے والے کچھ تاریخ نگاروں اور تجزیہ کاروں، جن میں ڈاکٹر عائشہ جلال، قیوم نظامی، ڈاکٹر مبارک، خوشونت سنگھ اور ایل کے ایڈوانی جیسے لوگوں کے نام آتے ہیں، کے مطابق جناح کی یہ تقریر ایک سیکیولر اور قومی ریاست کے قیام کا اعلامیہ تھی۔ ایل کے ایڈوانی نے تو 2005 میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کے حوالے سے جناح کو پاکستان میں سیکیولر ریاست کی بنیاد رکھنے پر تحریری خراج تحسین پیش کیا تھا جس پر انہیں اپنی ہی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے انتقامی کارروائی کا نشانہ بھی بننا پڑا۔
اسی طرح ڈاکٹر عائشہ جلال کے مطابق جناح ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کے مطالبے کو محض ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کر رہے تھے، اور جناح کو تقسیم ہندوستان کی طرف دھکیلا گیا تھا۔ ان تمام مورخین کے مطابق تقسیم ہندوستان کی ذمہ داری قائداعظم سے زیادہ نہرو، گاندھی اور پٹیل پر عائد ہوتی ہے جن کی بے بصیرتی یا ضد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ ان میں سے اکثر مورخین یا تجزیہ کاروں کے دلائل کا لب لباب یہ ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر ریاست کا حصول اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر ریاست کے آئینی خدوخال کا تعین کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ جناح اگر اوّل الذکر فعل کے مرتکب ہوئے بھی تھے تب بھی وہ موخر الذکر نظریے کے معتقد ہرگز نہ تھے۔ یعنی ان کے مطابق جناح کے نزدیک اب چونکہ ملک وجود میں آ چکا تھا لہٰذا دو قومی نظریے کو اپنائے رکھنے کا جواز ختم ہو چکا تھا اور 11 اگست کی تقریر ملک کے بانی کی طرف سے قانون ساز ادارے کو فراہم کردہ ایک ایسی پالیسی سٹیٹمنٹ تھی، جن رہنما اصولوں پر ملک کا آئندہ دستور بننا تھا۔
