اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان سے کیا اختلافات ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنا کر اقتدار میں لانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ اب انکی خودسری اور نااہلی سے نالاں ہے اور سیاسی بساط کے مہرے آگے پیچھے کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
فرائیڈے ٹائمز کے اپنے تازہ اداریے میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ فوج کا بنایا ہوا ہائبرڈ نظام حکومت اب نقاب ہو رہا ہے لیکن ایسا اس لیے نہیں ہو رہا کہ متحدہ حزب اختلاف اسے ناکام بنانے میں کامیاب ہو ئی، حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مار رہے ہیں۔ تین برس سے بھی کم عرصے میں اُنہوں نے حزب اختلاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا جاری رکھا، عوام کو مشتعل کیا اور اُس فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کر دیا جو انکو اقتدار میں لائی تھی اور جس نے موجودہ ہابئرڈ نظام حکومت پر نہ صرف بھاری سرمایہ کاری کی تھی بلکہ اپنی ساکھ بھی داو پر لگائی تھی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران خان اپنے منصب پر ابھی تک صرف اس لیے موجود ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بساط تبدیل کرنے بارے میں سوچ بچار تو کر رہی ہے لیکن ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی یے۔ سیٹھی کے مطابق عمران خان کا بیانیہ تین ستونوں پر قائم تھا۔ حزب اختلاف کا احتساب۔ حکومت کی کارکردگی دکھانا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی بجائے تعاون کرنا لیکن سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان ان تینوں محاذوں پر ناکام ہوچکے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ عمران خان نے کھربوں کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے تیز و تند الزامات لگا کرحزب اختلاف کے رہنماوں کو جیلوں میں بند کرنے کے لیے نیب، ایف آئی اے، آئی بی، اور ایف بی آر کو متحرک کیا لیکن ھکومت سے بھر پور تعاون کرنے والی عدلیہ ہونے کے باوجود ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوسکی۔ کسی بھی ملزم سے ایک بھی پیسہ برآمد نہیں کیا جا سکا۔ یوں حکومت کا احتساب کا پورا بیانیہ بے رحم سیاسی انتقام میں تبدیل ہو گیا۔ اس عمل سے اس کھیل میں شریک ریاست کے عناصر کی ساکھ مجروع ہوئی۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ احتساب کا رخ اب اپوزیشن سے ہٹ کر عمران خان کی اپنی جماعت کے اُن راہ نماؤں کی طرف ہوگیا ہے جن کے بارے میں لوٹ مار کا تاثر موجود تھا لیکن اُنہیں اب تک اھتساب سے بچایا گیاتھا۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے راہ نماؤں پر بدعنوانی کے بے شمار الزامات ہیں جیسا کہ بی آرٹی، مالم جبہ، رنگ روڈ، فارن فنڈنگ، رہائشی کالونیاں، شوگر سبسڈی وغیرہ۔ اب یہ شہ سرخیوں کی زینت بھی بن رہے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی حکومت پر بے پناہ کیچڑ اچھالا گیا لیکن اس کی کارکردگی تحریک انصاف کے مقابلے میں اوج ثریا پر دکھائی دیتی ہے۔ پچجکی حکومت میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2017-18 میں 5.5 فیصد تھی۔ اب یہ 2020-21 میں 1.1 فیصد ہے۔ محنت کش طبقے کی مزدوری گزشتہ تین سالوں میں 6 فیصد کم ہوگئی۔ اس سے پہلے گزشتہ حکومت کے تین برسوں کے دوران اس میں تین فیصد اضافہ ہوا تھا۔ موجودہ دور میں بیروزگار افراد کی تعداد دو کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ عوام کی غربت میں بھی اتنی ہی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جتنا حکومت کے قرضوں میں۔ اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں ہر سال پندرہ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔ معاشی بہتری دکھانے والا ہر اشاریہ نیچے جارہا ہے۔ سیٹھی کے مطابق کپتان حکومت کہ یہ غیر معمولی ناکامی اور بدانتظامی کی یہ کہانی افسوس ناک ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔اس سے بھی بڑ االمیہ یہ ہے کہ اب سرکاری مشینری نے سرکار کے احکامات کی تعمیل سے گریز شروع کردیا ہے۔وہ جبری تقرریوں، تبادلوں اور مداخلت سے لبریز خوف کے ماحول میں کام چھوڑ چکے ہیں۔
سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بدعنوانی کے خاتمے کے بیانیے اور اپنے نعروں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کھلی ناکامی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت پر مجبور کردیا ہے، فوج نہیں چاہتی کہ وہ وقت آ جائے جب خرابیاں اور ناکامیاں اپنی انتہا کو پہنچ جائیں اور اُن کی ساکھ مزید داغ دار ہو جائے۔ فوج اس کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ پنجاب، جو کہ پاکستان کا نصف ہے، میں موثر اور صاف ستھری حکومت قائم کی جائے اور کوئی قابل وزیر اعلی لایا جائے لیکن بنی گالا میں اس مطالبے کی شنوائی نہ ہوئی۔
سیٹھی کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بہتر معاشی پالیسی بنانے کے لیے کپتان پر دباؤ ڈالا لیکن اسلام آباد کے طاقت کے ایوانوں میں یوٹرن، فیصلوں کی احمقانہ تبدیلی اور بے معانی اکھاڑ پچھاڑ جاری رہی۔ مزید یہ کہ عمران خان نے آرمی چیف کی عوامی سطح پر دی جانے والی تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ تجویز خارجہ تعلقات کی جہت تبدیل کرنے،خاص طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول کی سطح پر لانے کے ذیل میں تھی۔ اسے تمام اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل تھا۔
ان حالات میں شہباز شریف مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں ”آزاد“ ہیں۔ سیٹھی کے مطابق شہباز اس حوالے سے قدم آگے بڑھانے کے لیے نواز شریف سے مشورہ کرنے لندن جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح مسلم لیگی رہنما شاہد حاقان عباسی اور محمد زبیر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ روکنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو دوبارہ ساتھ ملا کر پی ڈی ایم کو بحال کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ کے سدا بہار اثاثے، جہانگیر ترین کو پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے کی شہ دی گئی۔ سیتھی کے مطابق اگر عمران خان نے اُن کی بات نہ مانی تو وہ کاری وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اس پیش رفت میں دو مشکلات حائل ہیں۔ پہلی مشکل یہ کہ نوازشریف اپنے مرکزی بیانیے پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ فوری طور پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے منتخب شدہ حکومت کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت چاہتے ہیں۔ عمران خان کی مجوزہ رخصتی کے بعد قائم ہونے والی وسط مدتی حکومت، نگران وزیر اعظم کا چناؤ اور تازہ انتخابات کے انعقاد پر بھی الجھن ہے۔ لیکن اس پر قابو پایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کی تبدیلی میں سنجیدہ ہو۔
سیٹھی کے مطابق دوسرا اسٹیبلیشمنٹ کو خوف ہے کہ اقتدار سے رخصتی کے بعد عمران خان اس کے لیے اُس سے کہیں بڑا درد سر ثابت ہوں گے جتنا اقتدار میں ہیں، خاص طور پر اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ کیا گیا مجوزہ بندوبست اعتماد کے دوطرفہ فقدان کا شکار ہوگیا۔ اس صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے کوئی جماعت کھڑی نہیں ہوگی۔ تاہم یہ خدشہ سیٹھی کے خیال میں بلاجواز ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کی قیادتی آنے والے وقتوں میں ٹکراؤ کی طرف نہیں جائے گی کیوں کہ ماضی میں ایسی پالیسیاں ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی تھیں۔ نیز عمران خان بھی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کرنے کے قابل نہیں ہوں گے کیوں کہ ریکارڈ سامنے آجائے گا کہ اس نے کتنی محنت کرتے ہوئے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا اور پھر بے پناہ ناکامیوں کے باوجود اسے سہارا دیے رکھا۔ نیز پاکستانی بھی موجودہ حکومت کی تباہ کن کارکردگی نہیں بھولنے والے۔ اور پھر میڈیا نے بھی عمران خان کے ہاتھوں بے پناہ زک اٹھائی ہے۔ وہ بھی اپنے زخم بھولنے یا معاف کرنے کی جلدی میں نہیں۔ آخر میں، ریاست کے جو ادارے آج عمران خان کے حکم پر اپنی توپوں کا رخ سیاسی مخالفین کی طرف کیے ہوئے ہیں، وہ حکومت تبدیل ہونے پر انہیں بھی نشانہ بنائیں گے۔ پھر انہیں جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنا پڑے گا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں اب بساط بچھ چکی۔ لیکن عمران خان ہٹ دھرم، مغرور، اناپرست اور نرگسیت کا شکار ہونے کی وجہ سے سمجھوتہ کرنے یا قدم پیچھے ہٹانے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ ان کی سیاسی خامیوں کی فہرست میں گزشتہ ازدواجی بندھن سے لفظ ”توہم پرستی“ بھی شامل ہوچکا ہے۔ لیکن ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ حقیقت پسند اور عملیت پسند سیاسی کھلاڑی ہیں۔ اس لیے امکان تو ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اب سیاسی نقشہ تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

Back to top button