اظفر مانی شو ریڈیو سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک کیسے پہنچا؟

اظفر مانی شو نے ایف ایم ریڈیو سے مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ڈیجیٹل پلیٹ فارم تک اپنے سفر کو کامیابی سے جاری رکھا، شو کے میزبان اظفر اور مانی کے مطابق وہ دونوں ’’من موجی‘‘ ہیں، اس لیے کوشش کریں گے کہ اسے جاری رکھیں۔پاکستان میں ’اظفر مانی شو‘ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اس صدی کے اوائل میں ریڈیو ایف ایم سے شروع ہونے والے اس شو نے پہلے ٹی وی اور اب ڈیجیٹل کا سفر کر لیا ہے اگرچہ اس پر پابندی بھی لگی اور اسے آف ایئر کیا گیا اور یہ بند بھی رہا، لیکن آہستہ آہستہ سفر چلتا رہا اور حال ہی میں اس شو کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔انڈپینڈنٹ اُردو نے اسی سلسلے میں کراچی میں اظفر اور مانی سے گفتگو کی تاکہ ان کے اس سفر کی داستان لوگوں تک پہنچائی جا سکے اور یہ بھی کہ وہ کن شخصیات کے انٹرویوز کر چکے ہیں اور کن شخصیات کے انٹرویو کرنے کی انہیں خواہش ہے جس پر اظفر اور مانی نے بتایا کہ یہ سب کسی تیاری کے ساتھ نہیں ہوا، بس دونوں کے پاس کچھ وقت تھا تو اسے استعمال کرتے ہوئے شو کا آغاز کرلیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اظفر مانی کا پہلا شو بھی کسی تیاری کے ساتھ شروع نہیں ہوا تھا۔ ’2004 میں نئے نئے ریڈیو سٹیشن کھل رہے تھے تو بس اسی دوران اسے (شروع) کیا اور پہلے ہفتے ہی میں بہت مقبول ہوگیا۔مانی نے بتایا کہ وہ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں تھے اور انہوں نے تقریباً نو سال اس سیاسی جماعت کو دیے تھے۔اس موقعے پر مانی نے بتایا: ’میں نے عمران خان کو 2011 میں جوائن کیا تھا، اس وقت انہوں نے فیس بک کا استعمال کیا تھا اور ایم کیو ایم خاص کر اس کے بانی الطاف حسین کے خلاف ویڈیوز بنانی شروع کی تھیں۔ اس زمانے میں میری دوستی مصطفیٰ کمال سے تھی، ان سے پوچھتا تھا کہ بھائی ماریں گے تو نہیں، تو وہ کہتے تھے کرو کرو، وہ بھی اس وقت پلٹ رہے تھے۔اظفر نے بتایا کہ انہوں نے اس شو کے دوران بہت سے نئے تجربات کیے تھے۔ ’ایک دن موضوع تھا کہ جو لڑکیاں ڈانس پارٹی میں جاتی ہیں وہ فون کریں، اسے طرح ایک دن کہا کہ کارساز پر جو چڑیل پھرتی ہے وہ فون کرے تو اس کا فون بھی آ گیا۔ آگ ٹی وی پر اس شو میں انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ اس جانب کم ہی گئے۔انٹرویو کے لیے پیسوں کی پیشکش پر مانی نے بتایا کہ انہیں بہت مرتبہ پیشکش ہوئی ہے، ’لیکن اگر پیسے لے کر انٹرویو کیا تو کیا فائدہ، مرضی کی بات کر نہیں سکیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیٹ کو سمجھنا ضروری ہے، اس کا کوئی فارمیٹ ہے نہیں، بات صحیح ہو تو لوگ دیکھ ہی لیتے ہیں جس نے جو شروع کیا، مشہور ہوگیا تو آج تک وہی کرتا آ رہا ہے اور یہی انٹرنیٹ کی دنیا ہے۔
