کیاافغان طالبان امیر ملا ہیبت اللہ اب دنیا میں نہیں رہے؟

اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان کے سپریم لیڈر اورحال ہی میں امیرالمومنین قرار دئیے جانے والے ہیبت اللہ اخونزادہ کرونا وائرس کے ہاتھوں موت کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے افغان طالبان کے ایک سینئر ملٹری آفیسر مولوی محمد علی جان احمد نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملا ہیبت اللہ کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صحت یابی کی طرف گامزن ہیں۔ تاہم اب یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ ملا ہیبت اللہ کرونا کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لیکن ابھی تک افغان طالبان کی طرف سے اس خبر کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی اور ان کے ترجمان کا اصرار ہے کہ ملا ہیبت اللہ اس وقت زیر علاج ہیں۔
کوئٹہ سے ملنے والی خبروں کے مطابق ملا ہیبت اللہ سے پہلے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور افغان طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ بعد ازاں امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ سائن کرنے کے بعد سراج الدین حقانی نے افغان طالبان کے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں سراج الدین حقانی بھی شریک ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سراج الدین حقانی سے کرونا وائرس ملا ہیبت اللہ میں منتقل ہوا جس کے بعد وہ کچھ ہفتے اس مرض میں مبتلا رہنے کے بعد اب انتقال کرگئے ہیں۔
معروف عالمی جریدے فارن پالیسی میگزین کے مطابق طالبان کے رینک سے تین لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے سپریم لیڈر کرونا وائرس سےہلاک ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ سائن کرنے والے کئی سینیئر افغان طالبان لیڈر بھی کرونا وائرس کا شکار ہوکر زیر علاج ہیں جس کی وجہ سے افغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین مستقبل قریب میں ہونے والے امن مذاکرات بھی تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ملا ہیبت اللہ پچھلے دو ماہ سے منظر عام پر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کسی قسم کا کوئی پیغام جاری کیا ہے۔ وہ ہر برس عید سے ایک روز پہلے افغان عوام کے نام ایک پیغام جاری کیا کرتے تھے لیکن اس عیدالفطر پر انہوں نے پہلی مرتبہ ایسا کوئی پیغام بھی جاری نہیں کیا جس سے ان شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ شاید وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان مولوی محمد علی جان احمد کے مطابق ملا ہیبت اللہ اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں لیکن یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ کس ملک میں ہیں۔ جب فارن پالیسی میگزین نے ان سے پوچھا کہ کیا ملا ہیبت اللہ پاکستان میں زیر علاج ہیں تو افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے علاوہ بھی بہت سارے ممالک ہیں جو ہمیں سپورٹ کرتے ہیں۔ میں اس ملک کا نام نہیں لوں گا جہاں ہمارے امیر زیرعلاج ہیں لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ ایک طاقتور ملک ہے۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق وہ ملک روس پاکستان یا ایران بھی ہو سکتا ہے۔
دریں اثناء یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حال ہی میں طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ مقرر کیے جانے والے ملا محمد عمر کے صاحبزادے محمد یعقوب نے افغان طالبان کے قائم مقام امیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور شاید ان کی بطور ملٹری کمیشن چیف تعیناتی بھی اسی لیے کی گئی تھی کہ ملا ہیبت شاید اب اس قابل نہیں ہیں کہ وہ بطور امیر ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں افغان امن معاہدے کے بعد افغانستان کے ستر فیصد رقبے پر قابض طالبان نے ملک میں اسلامی امارت قائم کرنے اور اپنے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو امیرالمومنین بنانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں افغان طالبان نے ملا ہیبت اللہ کو افغانستان کا قانونی سربراہ بھی قرار دے دیا اور اعلان کیا کہ افغانستان سے غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیاجائے گا جس میں ملا عمر مرحوم کے بعد ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نئے امیرالمومنین کے طور پر افغانستان کی قیادت کریں گے۔
واضح رہے کہ ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور طالبان کے نئے امیر بنے تھے لیکن ایک امریکی ڈرون حملے میں ان کی ہلاکت کے بعد ملا ہیبت اللہ طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔
یاد ریے کہ ملا اختر منصور نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کی تھی کہ اگر انھیں قتل کر دیا گیا تو ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر منتخب کیا جائے۔ ملا اخونزادہ کے نام سے مشہور شیخ ہیبت اللہ کا تعلق نورزئی پشتون قبیلے سے ہے اور یہ مسلح جنگجو کی بجائے ایک بڑے مذہبی عالم شیخ الحدیث کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اخونزادہ عوامی سطح پر بھی طالبان کی عسکریت پسندانہ کاروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں، ساتھ ہی وہ کابل حکومت اور غیر ملکی فوجوں کے خلاف حملوں کو بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں۔ انہیں طالبان نے شاہین صفت کا لقب دیا ہوا ہے۔ ملا اخونزادہ 2001 سے 2015 تک کوئٹہ میں مقیم رہے۔ اگرچہ اخونزادہ کو طالبان کا امیر مقرر کئے جانے کے موقع پر بعض طالبان دھڑوں نے ان کی اطاعت سے انکار کیا تھا تاہم گزشتہ تین برسوں میں انہوں نے کسی نہ کسی طرح طالبان کو متحد رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button