افغان طالبان دو گروہوں میں کیوں بٹ گئے؟

طالبان کو افغانستان میں برسراقتدار آئے ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا لیکن نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کی زیرقیادت دو بڑے گروپوں میں شدید ترین اختلافات کے بعد لڑائی جھگڑے اور مرنے مارنے کی افواہیں زور پکڑ گئی ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی پشتو سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ چند روز قبل کابل کے صدارتی محل میں نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور وزیر داخلہ سراج کے مابین زبانی جھگڑا ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں رہنماوں کے درمیان جھگڑے پر ان کے حامی بھی آپس میں لڑ پڑے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملا عبدالغنی برادر ناراض ہو کر کابل سے قندھار چلے گئے تھے کیونکہ انہیں نئی حکومت کی تشکیل اور طالبان کی نگران کابینہ پر اعتراض تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی حکومت نہیں چاہتے تھے جس کے تمام عہدیدار صرف طالبان رہنما یا ملا ہوں۔
یاد رہے کہ عبدالغنی برادر اور وزیر پناہ گزین خلیل الرحمٰن حقانی کے مابین مبینہ طور پر اختلافات کی تصدیق قطر میں مقیم طالبان کے ایک سینئر رکن نے بی بی سی کو کی تھی۔ ذرائع نے عبدالغنی برادر کی عبوری حکومت کے ڈھانچے پر ناراضی کو تصادم کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ دونوں دھڑوں نے اس بات پر بھی بحث کی کہ کس دھڑے کو جیت کا زیادہ کریڈٹ دیا جانا چاہیے، برادر چاہتے تھے کہ ان کی اور حقانی گروپ کی کوششوں کا زیادہ سے زیادہ اعتراف کیا جائے اور بتایا جائے کی طالبان کی جیت انکے جنگجو دھڑے کی جدوجہد سے ممکن ہو پائی۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیل گئی کہ دونوں گروپوں میں لڑائی کے دوران ملا عبدالغنی برادر سراج الدین حقانی گروپ کے ہاتھوں مارے گے ہیں اور اسی لیے وہ پندرہ اگست کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔ چنانچہ ملا عبدالغنی برادر کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے اپنی خیریت بتاتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل سفر میں ہیں۔ تاہم جب سوشل میڈیا پر سوال کیا گیا کہ انہوں نے ویڈیو پیغام کے بجائے آڈیو پیغام کیوں چلوایا تو پھر اگلے روز ملا برادر کی ایک اجلاس میں شرکت کی ویڈیو جاری کی گئی جس کے تازہ ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے آپسی اختلافات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ منظر عام سے غائب ہیں اور یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ شاید زندہ نہیں۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے ترجمان اور وزیر ذبیح اللہ مجاہد اور حقانی نیٹ ورک کے ایک رکن سمیت سینئر طالبان عہدیداروں نے عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے طالبان کے مختلف دھڑوں کی قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کابل کے صدارتی محل میں طالبان قیادت میں عملیت پسند اور نظریاتی دھڑوں کے درمیان پرتشدد تصادم کی افواہ مسترد کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے مارے جانے کی افواہ بھی رد کی۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امارات اسلامی متحد ہے۔
انس حقانی کے ٹوئٹ سے ایک دن قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک علیحدہ بیان میں طالبان کے باہمی اختلافات کی خبر کو پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔
اس معاملے پر واشنگٹن کے ولسن سینٹر ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے کہا ہے کہ ہم نے کئی سالوں سے دیکھا ہے کہ تنازعات کے باوجود طالبان بڑے پیمانے پر ایک مربوط ادارہ ہے اور بڑے فیصلوں کو زیادہ دھچکا نہیں لگتا۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں موجودہ اندرونی اختلافات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پھر بھی طالبان بہت زیادہ دباؤ میں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی طاقت کو مستحکم، قانونی حیثیت کے حصول اور بڑے پالیسی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو دباؤ کا شکار طالبان اندرون خانہ مزید انتشار کا سامنا کر سکتے ہیں۔
