افغان طالبان پاکستان سے دور اور بھارت کے قریب ہونے لگے

افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد اب افغان طالبان پاکستان سے دور اور بھارت کے قریب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں ہمشیہ طالبان مخالف قوتوں کا ساتھ دینے والا بھارت اب افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد انہیں دہشت گرد گروپ قرار دینے کے سابقہ موقف سے پھرتے ہوئے اب انکو ایک اہم سٹیٹ ایکٹر سمجھنے لگا ہے۔ چنانچہ یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ خطے کے دیگر اہم ممالک کی طرح بھارت بھی طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
بھارت کے قطر میں سفارت کار دیپک متل کی طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس ستنکزئی سے حالیہ ملاقات کو نئی دہلی کے سفارتی حلقوں میں دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ بھارت اور طالبان دونوں نے ایک دوسرے کے حوالے سے مؤقف میں نرمی پیدا کی ہے۔ یاد ریے کہ گذشتہ کئی عشروں سے بھارت طالبان کو ایک دہشت گرد گروپ قرسر دیتا رہا ہے اور پاکستان پر ان کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ لیکن اب بدلتے ہوئے حالات میں مودی سرکار نے افغان طالبان کے ساتھ یاری ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے تشویش ناک ہے۔
بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد بھارت طالبان کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان کی سیاسی قیادت کے ساتھ رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران بھارت افغانستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ انھیں بھارت سے رشتے استوار کرنے چاہئیں کیونکہ ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا کے ممالک ان کی حکومت کو تسلیم کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھارت کو مثبت اشارے دیے ہیں اور ان کی پہل پر ہی دیپک متل نے بھارتی حکام سے ملاقات کی ہے۔ اب نئی دہلی کو یہ دیکھنا ہے کہ طالبان بھارتی مفادات کو کتنا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
بھارت افغان تعلقات کی ماہر اور سینئر تجزیہ کار انویش گھوش کہتی ہیں کہ انڈیا میں طالبان کے دہشت گرد گروہ ہونے کا بیانیہ پرانا ہو چکا ہے۔ حکومت کی سطح پر اس بیانیے کو بدلنے اور اسے اہمیت ہوا نہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت کے قومی مفادات کا تقاضہ یہ ہے کہ وہاں کی نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کی جائے اور اس کے ساتھ رشتے قائم کیے جائیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ خود اس بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی لیے اس کے حالیہ بیانات میں طالبان کو دہشت گرد گروہ کہنے سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عالمی تعلقات کا تقاضہ ہے کہ بھارت کو اپنی سفارتی تنہائی سے باہر نکلنا ہوگا اور طالبان سے رابطہ قائم کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ بھارت کی صدارت میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 27 اگست کو جو بیان جاری کیا گیا اس میں طالبان کو دہشت گرد گروپ کہنے کے جملے کو حذف کر دیا گیا تھا جو اسکی جانب سے بدلتے ہوتے مؤقف کا واضح اشارہ ہے۔ ڈاکٹر انویش گھوش کہتی ہیں کہ نئی افغان حکومت کے ساتھ بھارت کے رشتے کیسے ہوں گے اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہاں کی نئی حکومت کا رویہ بھارت کے ساتھ کیسا رہتا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے کابل حکومت کے ساتھ نئی دہلی کا جو رشتہ تھا وہ جمہوریہ افغانستان کے ساتھ تھا۔ لیکن اب اسے امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ رشتہ استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سفیر کی طالبان کی سیاسی قیادت سے ملاقات ایک بہت اہم واقعہ ہے اور یہ غیر متوقع بھی نہیں تھا کیوں کہ وہ غیر رسمی طور پر 2018 سے ہی ان کے رابطے میں تھا جب افغانستان میں بھارت کے سابق سفیر امر سنہا اور پاکستان میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھون نے ماسکو مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ڈاکٹر انویش گھوش کا کہنا ہے کہ افغانستان امریکہ کا پڑوسی نہیں بھارت کا پڑوسی ہے۔ امریکہ نے جو کیا وہ اس نے اپنے قومی مفادات کے پیش نظر کیا لیکن بھارت کا معاملہ دوسرا ہے۔ بھارت امریکہ کے فیصلے کو سامنے رکھ کر فیصلہ نہیں کرے گا۔ بھارت کو اپنے قومی مفادات دیکھنا ہیں اور انکے تحت ہی فیصلے کرنا ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہر سعید نقوی کے مطابق بھارت افغان تعلقات کے حوالے سے بھارت کو اپنی سفارتی ضرورتوں پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔ اگر دنیا کے دیگر ملک افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں تو بھارت کو بھی اسے تسلیم کرنا ہی ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ بھارت نے امریکہ سے بہت گہرے تعلقات قائم کر لیے تھے لیخن اب امریکہ کو وہاں سے نکلنا پڑا ہے اور 20 سال بعد اقتدار ایک بار پھر طالبان کے ہاتھ میں آگیا ہے جن کے خلاف انڈیا میں خوب تشہیر کی گئی تھی۔ لہٰذا اس صورتِ حال کو عوام کو سمجھانے میں بھارتی حکومت کو دشواری تو پیش آئے گی لیکن انہیں انہیں سمجھانا ضروری ہے۔
