الیکشن التواء کی کوشش عمران کو فائدہ پہنچانے کی سازش ہے ؟

اگر عام انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو مسلم لیگ ن ،پی پی پی یا جے یوآئی ف کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، سب سے زیادہ نقصان ملک اور فوج کا ہوگا اور سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو ھو گا ۔ اگر عمرانی فتنہ واقعی ریاست کی بقاء کیلئے خطرہ ہے تو پھر اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کچلتے چلے جائیں اور ہومیو پیتھی پالیسی فوراً ختم کریں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جیل میں ہیں۔ ریاست کے بڑے اور اسٹیبلشمنٹ کے زعماء سمجھتے ہیں کہ عمران خان ریاست پاکستان کیلئے سب سے خطرناک شخص ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے دو بڑے مکمل متفق ہیں کہ اگر عمرانی فتنے یا کلٹ کو ختم نہ کیا گیا تو یہ ، اللّٰہ نہ کرے ،پاکستان کو ختم کردے گا۔اسی لئے عمران خان پروجیکٹ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ریاست ہر حد تک جائے گی۔ لیکن ریاست کے بڑوں کا یہ بیانیہ اس وقت زیادہ کمزور ہو جاتا ہے ،جب ان کے ماتحت ہومیوپیتھی انداز میں اس فتنے سے نمٹنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر تو عمران خان سے صرف کسی طاقتور کا سیاسی اختلاف ہے اور عمران خان کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے تو اس کے خلاف ایسی کوئی بھی کارروائی نہیں ہونی چاہئے، جس سے اسکی جماعت اور اس کا ذاتی سیاسی تشخص ختم ہو جائے۔ لیکن اگر ریاست کے بڑے جو کچھ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بیان کرتے ہیں اور اس کے حق میں ناقابل تردید شواہد بھی پیش کرتے ہیں تو ایسے میں ریاست کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ اگر طاقتور حلقے اسی انداز میں اس فتنے سے نمٹتے رہے تو یاد رہے یہ فتنہ تو کمزور نہیں ہوگا بلکہ ریاست کی جڑوں کو ضرور کمزور کر دے گا۔
حذیفہ رحمان کا کہنا ھے کہ کسی کے عمران خان دور حکومت کی اسٹیبلشمنٹ سے لاکھ اختلاف سہی، مگر ایک بات ماننا ہوگی کہ جنرل فیض، جنرل باجوہ اور عمران جو طے کرتے تھے، اس کی عمل داری میں ہر حد تک چلے جاتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ایک نگراں وزیراعلیٰ یا نگراں وفاقی وزیر کی خواہش پر عام انتخابات آگے جانے کی منصوبہ بندی شروع ہو جائے۔ عدالتیں اس فتنے کی مکمل سہولت کاری شروع کردیں۔جو ججز کل تک ادارے کی مرضی کے بغیر دن کا آغاز نہیں کرتے تھے ،آج وہ سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فتنے کی سہولت کاری کیلئے آرڈرز جاری کررہے ہیں ۔عمران کو آپ نے جیل میں ڈال دیا ہے،لیکن تمام یوٹیوبرز، پروپیگنڈا کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ عمرانی فتنے کو زندہ رکھنے کیلئے جو مرضی کہتے رہیں مگر ریاست خاموش ہے۔ کسی یوٹیوبر کو صرف اس لئے گنجائش دے دیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کسی ایک دفتر کے قریب ہے۔ یاد رکھیں کہ ایسے فتنے ختم نہیں ہوتے۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی ملک میں جلد از جلد بروقت انتخابات کرانے کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ لیکن جب ماتحت لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو کہیں نہ کہیں کوئی کمیونیکیشن گیپ ضرور ہے۔
حذیفہ رحمان کا کہنا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ یاد رکھیں کہ اگر عام انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو مسلم لیگ ن ،پی پی پی یا جے یوآئی ف کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، سب سے زیادہ نقصان ملک اور ادارے کا ہوگا اور اس کا فائدہ کسی نگراں وزیراعلی یا وفاقی وزیر کو نہیں بلکہ عمران خان کو ہوگا اور پھر آپ اس فتنے کا مقابلہ کرنےکیلئے اکثریتی سیاسی جماعتوں کی سپورٹ بھی کھو دیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اگر واقعی یہ فتنہ ریاست کی بقاء کیلئے خطرہ ہے تو واضح اور سیدھی پالیسی دیں اور پھر اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کچلتے چلے جائیں اور اگر یہ کلٹ سیاسی اختلاف سے زیادہ کچھ نہیں ہے تو پھر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں،لیکن ہومیو پیتھی پالیسی فوراً ختم کریں۔
