الیکشن سے پہلے ہی لاہور سے نون لیگ کے بڑے بڑے برج الٹ گئے

پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ٹکٹوں کی تقسیم میں لاہور سے اپنے ہی بڑے بڑے سیاسی برج الٹتے ہوئے سردار ایاز صادق اور رانا مشہود سمیت متعدد مرکزی رہنماؤں کو پارٹی ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہورسے قومی اسمبلی کی 14 میں سے 12 نشستوں پر امیدواروں کے ناموں کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا ہے جبکہ این اے۔117 میں استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ممکنہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے امیدوار شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق سردار ایاز صادق، رانا مشہود، میاں مرغوب احمد اور رانا مبشر قومی اسمبلی کی ٹکٹوں سے محروم ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ علی پرویز ملک، سردار نصیر بھٹہ اور وحید عالم خان بھی پارٹی قیادت کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔

مسلم لیگ(ن) نے سردار ایاز صادق اور رانا مبشر کو ضمنی انتخابات میں ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو سینٹ کے ٹکٹ کی بھی پیشکش کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ این اے۔117 سے استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان اور مسلم لیگ(ن) کے ملک ریاض میں سے کسی ایک امیدوار کا فیصلہ ہو گا جبکہ این اے۔118 سے حمزہ شہباز کا نام شارت لسٹ کیا گیا ہے۔اسی طرح این اے۔119 سے مریم نواز، حلقہ این اے۔120 سے سہیل شوکت بٹ اور حلقہ این اے۔121 سے شیخ روحیل اصغر کو پارٹی ٹکٹ دئیے جانے کا قوی امکان ہے۔

اسی طرح قومی اسمبلی کی نشست این اے۔122 سے خواجہ سعد رفیق، این اے۔123 سے شہباز شریف، این اے۔128 سے حافظ نعمان اور این اے۔129 سے مہر اشتیاق کو مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے۔124 میں استحکام پاکستان پارٹی کے عون چوہدری اور مسلم لیگ(ن) کے رانا مبشر اقبال میں مقابلہ ہے جبکہ این اے۔127 سے عطا تارڑ مسلم لیگ(ن) کے ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف لاہور میں ممکنہ طور پر اپنے آبائی حلقے این اے۔130 سے حصہ لیں گے۔مسلم لیگ آئندہ چند روز میں لاہور کے باقی دونوں حلقوں این اے۔117 اور این اے۔124 سے امیدواروں کا حتمی فیصلہ کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان میں عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن تاحال پنجاب میں اپنے امیدواروں کے نام فائنل نہیں کر سکی ہے۔ لگاتار ایک ماہ تک جاری رہنے والے پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں کے بعد اب جاتی امرا میں پارٹی قائد نواز شریف کی زیرِصدارت بورڈ کی سفارشات پر غور کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی قیادت کو سب سے بڑی مشکل اپنے متوقع اتحادیوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں پیش آ رہی ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے نائب صدر رانا مشہود کے مطابق ’ابتدائی طور پر تحریک استحکامِ پاکستان نے ہمیں پنجاب سے 47 نشستوں کی فہرست فراہم کی تھی۔‘ان کے مطابق ’اس مطالبے پر عمل کرنا ناممکن تھا اور اس حوالے سے دونوں پارٹیوں کے درمیان طویل مذاکرات بھی ہوچکے ہیں۔‘’مسلم لیگ ن 11 نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے تیار ہے، تاہم ابھی بھی معاملہ حتمی نہیں ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاملات طے پا گئے ہیں۔ حتمی فیصلہ ہماری پارٹی متفقہ طور پر کرے گی۔‘

خیال رہے کہ پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے محض دیگر پارٹیوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ پارٹی کے اندر بھی کئی امیدوار ناراض دکھائی دیتے ہیں۔  اس لیے پنجاب کی ٹکٹوں کا اعلان سب سے آخر میں کیا جائے گا۔‘ ’بلوچستان سے امیدواروں کا اعلان ہو چکا ہے، اس کے بعد سندھ اور خیبر پختونخوا اور پھر پنجاب کی باری آئے گی، کوشش کی جا رہی ہے کہ تنازعات کو کم سے کم کیا جائے۔‘

دوسری طرف مسلم لیگ ق نے مسلم لیگ ن سے مزید تین نشستیں دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے دو قومی اور دو صوبائی نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے دونوں پارٹیوں کے درمیان ایک ’خاموش معاہدہ‘ موجود ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کو اس لیے بھی پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت میں بننے والے نئے سیاسی اتحاد اور نئے امیدواروں کی وجہ سے پارٹی کو اپنے پُرانے امیدواروں کو کسی حد تک نظرانداز کرنا پڑ رہا ہے۔لاہور میں تحریک استحکامِ پاکستان کے صدر علیم خان کے ساتھ مسلم لیگ ن سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے تو تیار ہے البتہ عون چوہدری اور ان کے بھائی کے لیے جگہ نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔

Back to top button