الیکشن میں خیبرپختونخوا سے نواز شریف کی فتح یقینی کیوں؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی یقینی فتح کو دیکھنتے ہوئے لاہور کے ساتھ خیبر پختونخوا کے حلقہ این اے 15 مانسہرہ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اب نون لیگ کی مخالف سیاسی جماعتوں نے میدان خالی نہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے مخالف امیدواروں نے باقاعدہ طور پر مہم کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کے مقابلے میں مقبول امیدوار میدان میں نہیں اتارے، جس کا نواز شریف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مانسہرہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں آتا ہے اور ہزارہ ڈویژن میں ن لیگ سب سے زیادہ مضبوط جماعت رہی ہے۔ حلقہ این اے 15 مانسہرہ کی تحصیل او گی، دربند اور تناول کے علاوہ ضلع تورغر پرمشتمل ہے۔ یہ حلقہ زیادہ تر دیہاتی علاقوں پر مشتمل ہے۔
مانسہرہ میں ن لیگ کی مقبولیت کے باوجود بھی اس حلقے سے آزاد اور دیگر جماعتوں کے امیدور کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ سال 2002 میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل ایم ایم اے کو کامیابی ملی تھی جبکہ گزشتہ 2 عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے۔2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف صوبے میں اکثریتی جماعت بن گئی تھی لیکن حلقہ این اے 15 میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور ن لیگ کے امیدوار اور نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر یہاں سے منتخب ہوئے ۔ 2018 کے عام انتخابات میں جب تحریک انصاف کو اکثر حلقوں سے کامیابی ملی تو تب بھی حلقہ این اے 15 ن لیگ کے پاس ہی رہا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے محمد ساجد اعوان یہاں سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف نے الیکشن لڑنے کیلئے حلقہ این اے 15 کا انتخاب کیوں کیا؟مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف مانسہرہ کے علاوہ پنجاب سے بھی قومی اسمبلی کے حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ ن کے صوبائی رہنماؤں کے مطابق صوبائی قیادت اور نواز شریف کے داماد کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی تجویز پر نواز شریف نے خیبر پختونخوا سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے لیے مشاورت کے بعد این اے 15 کا انتخاب کیا گیا جسے مسلم لیگ ن کا گڑھ تصویر کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق این اے 15 میں ن لیگ ماضی میں انتہائی مضبوط رہی ہے۔ مجموعی طور مسلم لیگ ن کی ہزارہ ڈویژن میں پوزیشن اچھی ہے جبکہ اسی حلقے کو ہی ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مضبوط پوزیشن کی وجہ سے ہی کپٹن ریٹائرڈ صفدر نے نواز شریف کو اسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا۔ مبصرین کے مطابق اس حلقے کو ن لیگ کے قائد کے لیے محفوظ ترین حلقہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر یہاں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور کاغذات جمع کرائے۔
خیال رہے کہ نواز شریف 3 بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور مسلم لیگ ن کے سربراہ بھی ہیں جب کہ اس حلقے سے ان کا مقابلہ دیگر جماعتوں کے ضلعی سطح کے رہنما کر رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور این اے 15 سے کاغذات بھی جمع کرائے تھے لیکن ان کے کاغذات مسترد ہو گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اعظم سواتی نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کو بھی چیلنچ کیا تھا اس کے باوجود بھی درست قرار دیے گئے۔ اعظم سواتی کا الیکشن سے باہر ہونا تحریک انصاف کے لیے مایوس کن ہے لیکن اس سے ن لیگ کو کافی فائدہ ہو گا۔ مبصرین کے مطابق اعظم سواتی نواز شریف کا سخت مقابلہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد صاحبزادہ واصف پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں جو سابق رکن صوبائی اسمبلی بھی رہے ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق بظاہر این اے 15 میں نواز شریف کی پوزیشن مضبوط نظر آ رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کے مقابلے میں نامور اور مضبوط امیدوار میدان میں نہیں اترے اور میدان نواز شریف کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے۔نواز شریف مرکزی رہنما ہیں اور ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات زیادہ ہیں اس لیے ان کے مقابلے میں بھی مقبول امیدوار ہونے چاہیے تھے تاکہ مقابلہ برابری پر ہوتا‘۔تاہم ن لیگ نے حلقہ این اے 15 میں پارٹی پوزیشن کو دیکھ کر ہی نواز شریف کو یہاں سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی ہے۔ ن لیگ کو یقین ہے کہ وہ یہاں سے ضرور کامیاب ہوں گے اور اس کے امکانات بھی ہیں‘۔ مبصرین کے مطابق نواز شریف کی جیت کے امکانات بھی ہیں اور پارٹی پوزیشن بھی اپنی جگہ لیکن اس بار ووٹرز کی ہمدردیاں عمران خان کے ساتھ ہیں، جس سے نتائج مختلف بھی آ سکتے ہیں۔
