الیکشن کروانے ہیں تو عمران کو لگام ڈالنا کیوں ضروری ہے؟

پاکستان میں معیشت آج جس حال میں ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ ایک سال کے دوران تشدد اور عدم برداشت کی سیاست کا فرو غ ہے جو سیاسی عناصر ملک میں عدم استحکام کی بنیاد ہیںان سے نپٹنے کیلئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں اگر حکومت نے مزید صبر کا مظاہرہ کیا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی۔کیونکہ ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال کے ہوتے ہوئے حکومت میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کیلئے عام انتخابات میں جانا آسان نہیں ہوگا. معیشت کو اپنے ٹریک پر واپس لانے کیلئے سیاسی انتشار پھیلانے والے عمران خان اور اس کے حواریوں کو مستقل لگام ڈالنا ہوگی ،وگرنہ حکومت کی کوئی بھی معاشی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوسکے گی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کالم نگار حذیفہ رحمٰن نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت اپنا ایک سال مکمل کرچکی ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران موجودہ حکومت نے سخت چیلنجز کا سامنا کیا۔بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کبھی کسی حکومت کو اتنے مسائل درپیش نہیں رہے ،جتنے موجودہ حکومت کے حصے میں آئے۔ یوں تو موجودہ حکومت نے اپنا دوسرا بجٹ پیش کیا ہے مگر عملی طور پر یہ پہلا بجٹ ہی ہے۔کیونکہ گزشتہ سا ل مئی میں حکومت سنبھالنے کے بعد حکومت کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ بجٹ کی تیاری پر توجہ مرکوز کرسکے۔اس لئے وزارت خزانہ میں بیٹھے ہوئے گزشتہ حکومت کے من پسند افسران کی مرضی پر اکتفاء کیا گیا اور یوں پی ڈی ایم کی نومو لود حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔جبکہ حالیہ بجٹ سے قبل حکومت کے پاس تیاری کیلئے اچھا خاصا وقت تھا۔مسلم لیگ ن کی معاشی ٹیم کے کپتان اسحاق ڈار گزشتہ کئی ماہ سے اس بجٹ کی تیاری کررہے تھے۔معاشی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا۔ حذیفہ رحمٰن کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی غیر موجودگی میں پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔سرمایہ دار پیسہ ہونے کے باوجود اپنا پیسہ باہر نہیں نکال رہے۔غیر یقینی کی صورتحال کے پیش نظر ڈالر روپے کے مقابلے میں40 س ے50 روپے زیادہ پر ٹریڈ ہورہا ہے۔ ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ معاشی استحکام براہ راست سیاسی استحکام سے جڑا ہوتاہے۔پاکستان میں معیشت آج جس حال میں ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ ایک سال کے دوران تشدد اور عدم برداشت کی سیاست کا فرو غ ہے۔پاکستان نے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران جس قسم کے حالات کا سامنا کیا ہے ،ایسے حالات میں کبھی کوئی سرمایہ دار کاروبار کرنے کو ترجیح نہیں دیتا۔ ماضی میں کوئی ایک ماہ ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جب سابق حکومت کا کوئی کرپشن اسکینڈل سامنے نہ آتا ہو۔ادویات اسکینڈل،چینی اسکینڈل، توشہ خانہ، مالم جبہ،ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال، پشاور میٹرو سمیت سینکڑوں کرپشن اسکینڈل میڈیا کی زینت بنے۔مگر موجودہ حکومت کا یہ کریڈٹ ہے کہ اسکے کسی وزیر یا مشیر کا کسی کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے کا ثبوت سامنے نہیں آسکا۔لیکن اس سب کے باوجود موجودہ حکومت کو ابھی بہت کام کرنا ہے۔آئندہ چند ماہ میں معیشت کو اپنے ٹریک پر لانا اشد ضروری ہے۔ حذیفہ رحمٰن کے مطابق پاکستان میں متوسط طبقےکیلئے زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ غریب آدمی مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے جبکہ متوسط طبقہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے جاچکاہےمعیشت کو مستحکم کرنے کیلئے موجودہ حکومت کو جو کچھ کرنا پڑے کرے ،اسے اب بہرحال سخت سیاسی فیصلےکرنا ہونگے۔اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام مزید کچھ عرصہ برقرار رہا تو شاید اسحاق ڈار بھی اس معیشت کو کھڑا نہ کرسکیں۔اس لئے جو سیاسی عناصر ملک میں عدم استحکام کی بنیاد ہیںان سے نپٹنے کیلئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔اگر حکومت نے مزید صبر کا مظاہرہ کیا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی۔کیونکہ موجودہ معاشی صورتحال کے ہوتے ہوئے حکومت میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کیلئے عام انتخابات میں جانا بھی آسان نہیں ہوگا۔جو ریلیف حکومت نے حالیہ بجٹ کے دوران غریب آدمی کو دیا ہے۔اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانا ہوگا۔کاروباری حضرات کا اعتماد بحال کرنے کیلئے حالیہ بجٹ میں وزیرخزانہ نے کافی ریلیف دیا ہے۔لیکن ایک یا دو فیصلوں سے یہ اعتماد بحال نہیں ہوگابلکہ مثبت فیصلوں کا ایک تسلسل درکار ہے۔سرمایہ داروں کی ایک بڑی تعداد اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرچکی ہے۔ملک میں ایسے پرکشش آپشن دینا ہونگے ،جس سے سرمایہ دار اپنا سرمایہ ملک میں واپس لانے پر راضی ہوجائیں۔اگر پاکستان کے کاروباری حضرات گزشتہ ایک سال کے دوران منتقل کئے گئے اربوں ڈالر واپس لانے پر رضا مند ہوجائیں تو حکومت پر معاشی بوجھ بہت حد تک کم ہوجائے گا۔ملک میں موجود مہنگائی کی لہر میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔گزشتہ چار سال سے تباہ حال کاروبار بحال ہونگے۔حذیفہ رحمٰن تجویز دیتے ہیں کہ وزیر خزانہ صاحب کوہر شعبے کے پچاس بڑے کاروباری حضرات سے میٹنگز کرنی چاہئیں اور انہیں اس بات پر قائل کرنا چاہئے کہ آپ لوگ اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کریں۔اس کے عوض کاروباری حضرات اپنے اپنے شعبے کے لئے حکومت سے کچھ نہ کچھ ریلیف مانگیں گے۔اگر حکومت ان کاروباری حضرات کا ڈر ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی ،جو کہ گزشتہ ایک سال سے ایک سیاسی لیڈر کی تقریروں کی وجہ سے ان کے ذہن میں سرایت کرچکاہے تو معیشت اپنے ٹریک پر واپس آنا شروع ہوجائے گی۔اسحاق ڈار نے 2013میں بھی پاکستان کو ایسے ہی معاشی گرداب سے نکالا اور ان میں مکمل صلاحیت موجود ہے کہ وہ 2023ء کے پاکستان کو بھی اس گرداب سے نکال سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کرنے کیلئے سیاسی انتشار پھیلانے والوں کو مستقل لگام ڈالنا ہوگی ،وگرنہ حکومت کی کوئی بھی معاشی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوسکے گی۔

Back to top button