الیکشن کمیشن نے جسٹس منصور شاہ اینڈ کمپنی کو کیسے چارج شیٹ کیا؟

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کےعمراندار ججز کو چارج شیٹ کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں بارے دھمکیوں پر مبنی وضاحتی بیان کو مسترد کرتے ہوئے 14 ستمبر کی وضاحت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔،الیکشن کمیشن نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے، سپریم کورٹ تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔
خیال رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے 14 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے 8 ججوں کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے وضاحتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں جہاں مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا گیا تھا وہیں فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔
تاہم آج الیکشن کمیشن نے 8 عمراندار ججز کے وضاحتی بیان پر اعتراضات کرتے ہوئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے نظرثانی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ عدالتی فیصلے پر تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن نہیں، 12 جولائی کے فیصلے کی وضاحت 25 جولائی کو دائر کی اور سپریم کورٹ نے 14 ستمبر کو وضاحت کا آرڈر جاری کیا۔درخواست گزار کے مطابق تحریک انصاف کی دستاویز پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری نہیں کیا اور عدالت نے تحریک انصاف دستاویزات پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب نہیں کیا، الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست کے بعد پارلیمنٹ نے قانون سازی کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ 14 ستمبر کی وضاحت پر نظر ثانی کرے۔
نظرثانی کیس میں الیکشن کمیشن نے اضافی گزارشات بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس میں فیصلے پر عمل روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ نظر ثانی پر فیصلہ ہونے تک عدالتی فیصلہ پر حکم امتناع دیا جائے۔
الیکشن کمیشن کا درخواست میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے، سپریم کورٹ تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے تفصیلی میں اپنے 12 جولائی کے احکامات سے انحراف کیا، تفصیلی فیصلے میں عدالت نے 41 ارکان کو تحریک انصاف تک محدود کردیا، آزاد ارکان کی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہے۔الیکشن کمیشن نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ارکان کو 15 دن دی کر آئین کے الفاظ کو بدل دیا، آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی جمع کرائے، عدالتی فیصلے میں ارکان کے بیان حلفیوں کو مکمل نظر انداز کردیا گیا۔الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر کے سرٹیفکیٹس درست بھی مان لیں تو پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 39 نہیں بنتی، امیداروں کی جانب سے سیکشن 66 کے تحت پارٹی وابستگی کے ڈیکلریشن جمع نہیں کرائے گئے۔
حسینہ کے بعد سابقہ مشرقی اور مغربی پاکستان قریب کیوں آنے لگے؟
الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ رولز 94 انتخابی نشان والی سیاسی جماعت کے لیے ہے، تحریک انصاف نے ججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کرائی وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا، تحریک انصاف نے کسی فورم پر اپنے حق کا دعوی نہیں کیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دعوی نہ کرنے والے کو پارٹی یا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے عدالت نہ صرف اپنا 14 ستمبر کا وضاحت نامہ واپس لے بلکہ مخصوص نشستوں بارے اکثریتی فیصلے کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔
