الیکشن کمیشن کی توہین پر عمران کی نااہلی کا امکان روشن

اگر 30 اگست کو عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی میں سابق وزیر اعظم غیر مشروط معافی نہیں مانگتے تو سزا کی صورت میں وہ نااہلی کے خطرے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین میں درج اختیارات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے برابر ہوتے ہیں اور ان پر جھوٹے الزامات لگانے اور متنازع بنانے والا توہین عدالت کے الزام میں عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران کے خلاف توہین عدالت کا کیس 30 اگست کو سماعت کے لیے مقرر ہو چکا ہے اور انہیں طلب کیا جا چکا ہے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران کے علاوہ اسد عمر اور فواد چودھری کو بھی ’توہین الیکشن کمیشن‘ کے نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چودھری نے ’تقاریر میں دوبارہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کی اور توہین آمیز بیانات‘ دیے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’عمران کو توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر بھجوایا گیا۔ عمران نے 12 جولائی کو بھکر میں جلسے کے دوران چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز بیان دیا۔‘ نوٹس کے مطابق عمران خان نے 18 جولائی کو بھی اپنے خطاب میں سکندر سلطان راجہ عوام کے خلاف توہین آمیز تقریر کی اور بے ہودہ الزامات لگائے۔ نوٹس کے مطابق عمران نے 21 اور 27 جولائی کو بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیے تھے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے اگر عمران خان چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کے حق میں ثبوت فراہم نہ کرسکے اور توہین عدالت ثابت ہو گئی تو انہیں پانچ سال تک کے لیے عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات آئین میں دیے گئے ہیں اور انکے پاس اپنے ادارے یا ذات پر الزام لگانے والوں کے خلاف توہین عدالت کا بھر پور اختیار موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے سکندر سلطان راجہ عمران خان کی بد زبانی اور الزامات کو درگزر کر رہے تھے لیکن اب پانی سر سے گزرنا شروع ہو گیا تھا اور ایکشن لینا ضروری ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا پر بھی ایسے ہی جھوٹے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکندر سلطان راجہ کو عمران خان نے بطور وزیراعظم چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا تھا لیکن اب موصوف فرماتے ہیں کہ میرے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور غلط بندہ لگوایا گیا جس کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ ہے۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمیشنر کے پاس سپریم کورٹ کے جج کے برابر اختیارات ہوتے ہیں۔ ایسے میں عمران خان سے اس الزام کا آڈیو یا ویڈیو ثبوت بھی مانگا جا سکتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر ہر ہفتے مریم نواز حمزہ شہباز سے ملتے ہیں اور انکے پیروں میں بیٹھتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ عمران کے پاس ان جھوٹے الزامات کا کوئی ثبوت تو موجود نہیں لہٰذا وہ بڑی مشکل میں پڑ جائیں گے۔ سابق سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اب بات بہت زیادہ آگے جا چکی ہے۔ اب الیکشن کمیشن ممبران کہتے ہیں کہ ہماری رٹ کا سوال ہے، ہماری ساکھ ختم ہو رہی ہے، اس لیے ہمیں ایکشن لینا ہی لینا ہے۔ کنور دلشاد نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کیخلاف فارن فنڈنگ کیس سے بھی ذیادہ مضبوط کیس توہین عدالت کا ہے جس میں سزا ہونے پر عمران نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔ دلشاد نے کہا کہ عمران بطور وزیراعظم چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگا کر تو بچ گئے تھے لیکن اب ان کا بچنا مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر آرٹیکل 204، الیکشن ایکٹ 217 شق 10 کے تحت کارروائی کرنے والے ہیں جس کے بعد عمران خان کے پاس معافی مانگنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں ہوگا، لیکن معافی مانگنے کی صورت میں بھی آخری فیصلہ چیف الیکشن کمیشن نے ہی کرنا ہے کہ معافی قبول کرنی ہے یا نہیں؟
