جعلی PTI اکاؤنٹس سے صدر علوی اور اسد عمر بھی پیسے لیتے رہے

تحقیقاتی اداروں کی جانب سے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کی تفتیش کے دوران مختلف بینکوں سے ہی ٹی آئی کے سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا گیا، جن سے صدر عارف علوی، اسد عمر، حامد زمان، منظور چودھری اور طارق شفیع کو کروڑوں روپے منتقل ہوئے۔ ان میں سے کچھ بینک اکاؤنٹس مقامی کمپنیوں اور دینی ٹرسٹ کے نام پر کھولے گئے تھے مگر اصل میں ساری رقم عمران خان کی سیاست کے لیے استعمال ہوئی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے کو بھجوا دی ہے جس کے مطابق فارن فنڈنگ کیس میں درجنوں جعلی اکاؤنٹس کا پتہ چلایا گیا ہے جن میں ملکی اور غیر ملکی رقوم منتقل کی جاتی رہی ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان اکاونٹس کی مزید تحقیقات کے لیے سٹیٹ بینک، ایف بی آر اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن سے بھی مدد مانگ لی جبکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے مختلف بینکوں سے سینکڑوں اکاؤنٹس کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا گیا جبکہ بیرون ممالک سے آنے والی رقوم کے لیے ان کمپنیوں کو بھی مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں پی ٹی آئی کے جعلی اکاونٹس سے صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں 2013 میں بھاری رقم منتقل کی گئی، معلوم ہوا ہے کہ صدر عارف علوی نے یہ اکاؤنٹس سینٹرل فنانس بورڈ کی منظوری کے بغیر اوپن کروایا اور اسی اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو بھی رقم منتقل کی گئی جبکہ پی ٹی آئی کو فنڈنگ کرنے والی مقامی کمپنی بھی جعلی نکلی۔
کمپنی کے مالک نے پہ ٹی آئی کو 30 لاکھ روپے فنڈ دیا مگر جب کمپنی کے مالک سے تفتیش کی گئی تو اس نے رقم تحریک انصاف کو دینے سے لاعلمی ظاہر کی۔ اسکے علاوہ 13 مزید مقامی کمپنیوں نے بھی پی ٹی آئی کو فنڈنگ کی جسکی تفصیل حاصل کر لی گئی ہے۔ اسلام آباد کے ایک بینک اکاؤنٹ سے اسد عمر کو بھی لاکھوں روپے منتقل ہوئے جبکہ اسی اکاؤنٹس سے پی ٹی آئی کو ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی سے 13 لاکھ امریکی ڈالر منتقل ہونے کا سراغ بھی مل گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق پی ٹی آئی لاہور کو ایک اکاؤنٹ سے دینی ٹرسٹ کے نام پر 25 لاکھ روپے کی رقم منتقلی سامنے آئی۔ بعد ازاں یہ رقم سیلاب زدگان کی بحالی کے نام پر نکلوائی گئی مگر اصل میں یہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی کے دیگر بینک اکاؤنٹس کے ساتھ بھی تھا۔ ان الزامات کے دستاویزی ثبوت حاصل کرنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے قریبی ساتھیوں طارق شفیع، حامد زمان اور منظور چوہدری کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اسکے علاوہ عمران خان کے قریب سمجھے جانے والے طارق شفیع کا نام امیگریشن سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور وہ اب بیرون ملک سفر نہیں کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی بنیاد پر دائر کردہ نا اہلی ریفرنس کی سماعت کی 31 اگست کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔ اس سے پہلے عمران نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو فارن فنڈنگ کیس میں نوٹس پر جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔ عمران نے ایف آئی اے کو اپنے تحریری جواب میں لکھا تھا کہ میں نہ تو آپ کو جوابدہ ہوں اور نہ ہی کوئی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں اور اگر دو روز میں یہ نوٹس واپس نہ لیا گیا تو میں قانون کے تحت آپ کے خلاف کارروائی کروں گا۔ پہلے چوری اور پھر سینہ زوری کے مصداق عمران نے کہا کہ میرے پارٹی اکاؤنٹس کی تفصیلات اور دستاویزات طلب کرنا ایف آئی اے کا کام نہیں کیونکہ الیکشن کمشن نے کوئی فیصلہ نہیں دیا بلکہ سیک رپورٹ جاری کی ہے۔ ویسے بھی ایف آئی اے کے پاس پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نہیں، اسکے علاوہ پی ٹی آئی کو جاری کیا گیا نوٹس ایف آئی اے ایکٹ سے بھی متصادم ہے۔

Back to top button