الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے باوجود سیاسی بے یقینی کیوں؟

الیکشن کمیشن اور صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں عام انتخابات کے انعقاد پر اتفاق کے بعد سیاسی منظرنامے پر الیکشن سے متعلق چھائے ہوئے غیر یقینی کے گہرے بادل چھَٹنے کا امکان ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور مبصرین الیکشن کمیشن اور صدر عارف علوی کے متفق ہونے کے بعد 8 فروری کی تاریخ کے اعلان پر یقین کر رہے ہیں اور کیا اس کے بعد ملک میں انتخابی گہما گہمی کا آغاز ہو جائے گا؟

مبصرین کے مطابق فوری طور پر اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ جتنا الجھاؤ سیاسی معاملات میں ہے اور جتنی غیر یقینی گذشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کے سیاسی نظام میں عود کر آئی ہے اس کا اتنا جلدی ختم ہونا آسان نہیں ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا خیال ہے کہ ’یہ غیر یقینی اس وقت تک قائم رہے گی جب تک انتخابی مرحلے کا حتمی آغاز زمینی سطح پر نہیں ہو جاتا۔‘ ’اس کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ سال سپریم کورٹ کی طرف سے رائے شماری کے حکم کے باوجود ملک کے دو اہم صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات نہ کروانا ہے۔‘ماجد نظامی کے بقول غیر یقینی کی کیفیت انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد بھی قائم ہے اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک تمام جماعتیں میدان میں اُتر کر عملی انتخابی مہم نہیں چلائیں گی۔’آج بھی زمینی سطح پر یہ صورتحال ہے کہ کوئی جماعت یا امیدوار اپنی انتخابی مہم نہیں چلا رہا اور نہ ہی انتخابات کی کسی قسم کی تیاری نظر آتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ یہ غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو تو اسے مزید عملی اقدامات کرنے چاہییں۔‘

ماجد نظامی سے جب پوچھا گیا کہ وہ عملی اقدامات کیا ہیں تو ان کا جواب تھا کہ پاکستان کے عوام کو آج تک یہ نہیں پتہ کہ ان انتخابات کا انعقاد کون کرے گا؟ ’جیسے کہ ہمیں اب تک یہ نہیں پتہ کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے عملہ کہاں سے آئے گا۔ اگر عدلیہ سے یہ عملہ نہیں لیا جاتا تو کیا یہ اداروں سے لیا جائے گا اور کن اداروں سے لیا جائے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی طرح ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان انتخابات میں فوج کا کیا کردار ہو گا۔ کیا وہ انتخابات کے لیے افرادی قوت فراہم کریں گے یا کیا وہ ان انتخابات کی سکیورٹی کے لیے کردار ادا کریں گے۔‘ماجد نظامی کے مطابق جب تک یہ معاملات واضح نہیں ہوتے انتخابات کے متعلق غیر یقینی قائم رہے گی۔

ڈان ٹیلی ویژن کی میزبان نادیہ نقی سمجھتی ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات سے لگتا ہے کہ کم از کم عدالت عظمٰی اس معاملے پر سنجیدہ ہے۔ تاہم یہ غیر یقینی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک انتخابات کا حتمی شیڈول نہیں آ جاتا اور گلی محلّوں میں اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہو جاتا۔‘ نادیہ نقی کا یہ بھی ماننا ہے کہ حتمی تاریخ کے تعین کے بعد نگراں حکومت کی سرگرمیوں پر گہری نظر بھی حالات کی متقاضی ہے۔ ’ہمیں دیکھنا ہو گا کہ نگراں حکومت انتخابی شیڈول پر کیسے عمل کرتی ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کے احکامات اور دیگر عوامل کا کیا ہوتا ہے؟ ابھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔‘

بعض دیگر مبصرین کے مطابق صدر مملکت کے مطالبے پر الیکشن کا دن اتوار کے بجائے جمعرات مقرر کرنے والا فیصلہ اتنا سادہ نہیں نظر آ رہا۔ الیکشن کمیشن نے صدر عارف علوی کو 28 جنوری کی تاریخ بھی تجویز کی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ 90 روز میں الیکشن کا واویلا کرنے والوں نے 28 جنوری کی تاریخ کیوں نہیں لی؟ ایسا کرنے سے الیکشن پندرہ دن جلدی ہو سکتے تھے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے صدر پر تنقید ہوئی، ن لیگ کے حامی سمجھے جانے والے الیکشن کمیشن پر تازیانہ لگا، پیپلز پارٹی کا حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات 90 روز میں کروانے والا مطالبہ نظرانداز ہوا۔ آج کی کارروائی نے صدر مملکت، پی ٹی آئی، الیکشن کمیشن، پیپلز پارٹی سمیت سبھی سٹیک ہولڈرز کو ایکسپوز کر دیا ہے۔الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر صدر مملکت اور چیف الیکشن کمیشن کو ایک پیج پر لانے میں اٹارنی جنرل نے مرکزی کردار ادا کیا اور ایسا انہوں نے سپریم کورٹ کے ڈر کی وجہ سے کیا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیے جانے کے بعد سیاسی جماعتیں اس بات پر تو خوش ہیں کہ ملک میں انتخابات کی تاریخ آ گئی ہے اور اب ملک سیاسی استحکام کی جانب گامزن ہوگا تاہم اس کے باجود ان کے کچھ گلے شکوے بھی ہیں۔سینیٹ آف پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرشہزاد وسیم کے مطابق ’آج ایک اچھی خبر ہے کہ انتخابات کی تاریخ سامنے آگئی ہے جو کہ خوش آئند ہے، لیکن ایک بری خبر بھی ہے کہ آئین ایک بار پھر ٹوٹا ہے کیونکہ 90 روز میں انتخابات کا آئینی تقاضا پورا نہیں ہوا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارا تو موقف تھا کہ جو بھی کام ہو وہ قانون اور آئین کے مطابق ہو۔ آئین بالادست ہے اور قانون اس کے تحت ہے۔ کوئی قانون سازی آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ یہی بات ہم سمجھاتے تھے جو نہیں مانی گئی اور خرابیاں پیدا ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کو بھی اب جا کر یہ احساس ہوا ہے کہ انتخابات 90 دن کے اندر ہی ہو جانے چاہیے تھے۔‘

اس حوالے سے سابق وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار تو اسی کا ہے جس کا ذکر قانون میں موجود ہے اور وہ الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ سپریم کورٹ نے روایت کو سامنے رکھتے ہوئے صدر سے مشاورت کی ہدایت کی ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن انتخابات کے لیے تیار ہے اور ہم نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیے جو امیدواروں کے ٹکٹوں کا فیصلہ کریں گے۔‘پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے بھی اگرچہ نئی مردم شماری کی منظوری کے لیے ووٹ دیا، لیکن ان کا موقف تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں ہے۔پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ ’انتخابات کی تاریخ کا واحد حل ہی وہی ہے جو آئین کہتا ہے۔ 90 روز سے آگے جانا ہی غلط تھا۔ تاہم میں آج اپنی جماعت کی جانب سے تاریخ سامنے آنے پر خیرمقدم نہیں کروں گا۔

Back to top button