قومی ائیر لائن  سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں کیوں؟

قومی ائیر لائن پی آئی اے کا مالی خسارہ حد سے تجا؟وز کرنے کے بعد اس کی نجکاری ہنگامی بنیادوں پر کرنے کے فیصلہ کیا گیا ہے۔ نگران حکومت کے مطابق آئندہ 6 ماہ میں دو مرحلوں میں قومی ائرلائن کی نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ مالی مشکلات کی وجہ سے قومی ائیر لائن کا فضائی آپریشن پچھلے کچھ عرصے سے مسائل کا شکار ہے۔پی ایس اونے گزشتہ ہفتے واجبات کی عدم ادائیگی پر پی آئی اے کو فیول کی فراہمی روک دی تھی جس کے نتیجے میں پی آئی اے فلائٹ آپریشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے مالی تعاون کے بعد پاکستان اسٹیٹ آئل یعنی پی ایس او نے پی آئی اے کو ایندھن کی فراہمی شروع کر دی جس کے بعد پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے۔ جس کے بعد 2 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی آئی اے نے اپنی فلائٹ آپریشن کی بحالی کا پیغام پوسٹ کیا جس کے بعد صارفین نے جواب میں ان کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔پی آئی اے نے فلائٹ آپریشن کی بحالی کا پیغام دیتے ہوئے لکھا میں کئی بار گرا ہوں، لیکن میں نے ہمیشہ خود کو اٹھایا ہے۔ میں ٹوٹا نہیں ہوں۔ میری ناکامیاں ہی مجھے پہلے سے زیادہ مضبوط بناتی ہیں۔

پی آئی اے کی جانب سے پوسٹ کرنے کی دیر تھی کہ دل جلے صارفین ان پر پھٹ پڑے اور خوب تنقید کا نشانہ بنایا، ایک دل جلے صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا آپ گرے نہیں ہیں بلکہ برباد ہوچکے ہیں اور مسلسل قوم کی بربادی کا ساماں کیے جارہے ہیں۔آپ کا مجموعی خسارہ 713 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔آپ کی کوئی چیز اب قابل فخر نہیں بلکہ باعثِ ندامت ہے۔آپ کو قوم سفید ہاتھی کہتی ہے جسے اُن کے خون سے پالا جارہا ہے۔ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کاش جب “گِرے” تھے تب شرمندگی کا بھی اعلان کرنا تھا۔35 پلین 20 ہزار کی نفری سے چلائے نہیں جا رہے اور گھاٹا الگ جبکہ تُرک 200 پلین سیم نفری سے چلا رہے اور مال بھی بنا رہے ہیں، فخر کس بات کا سمجھ سے باہر ہے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری ہی اب واحد حل ہے ، ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ایک ائیر لائن کو کبھی گرنے کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے چاہے وہ مارکیٹنگ کے لیے ہو یا کوئی بھی وجہ ہو، اس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل سکتا ہے۔واضح رہے کہ پی ایس او حکام کے مطابق پی آئی اے کو فیول کی فراہمی بند نہیں کی گئی تھی بلکہ فراہم کردہ فہرست کے مطابق فلائٹس کے لیے فیول فراہم کیا جارہا ہے۔

Back to top button