ایک چلے نے شیخ رشید کو ہر ہانڈی کا آلو کیسے ثابت کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ ” چلہ’ گزارنے کے بعد لال حویلی سے ابھرے گفتار کے غازی شیخ رشید احمد بالآخر وہ آلو ہی ثابت ہوۓ جو ہر ہانڈی میں“ گوشت کے ساتھ پکایا جاسکتا ہے. نام نہاد فرزند راولپنڈی نے نومئی کے واقعات پر ”لعنت“ بھیجی اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کئے بغیر ان کی لعن طعن بھی کردی۔پاک فوج سے اپنی محبت وعقیدت کا ڈٹ کر اظہار کیا۔ ”چلے“ کے بعد ”بدلے بدلے….“ ان آلو صاحب کی زندگی بھی اب آسان ہونا شروع ہوگئی ہے۔متروکہ وقف املاک کی ایک حویلی جسے وہ کئی دہائیوں سے اپنے ”سیکرٹریٹ“ کے طورپر استعمال کررہے تھے ان کی روپوشی یا گم شدگی کے دوران سرکار نے سیل کردی تھی۔ اسے ڈی سیل کردیا گیا ہے۔اس کی لیپا پوتی کے بعد شیخ رشید دوبارہ وہاں باقاعدگی سے بیٹھا کریں گے۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے ہاں ایک ”چلے“ کا ذکر ہورہا ہے جو راولپنڈی کی لال حویلی سے ابھرے بقراطِ عصر نے حال ہی میں سیاسی منظرنامے سے پراسرار گم شدگی کے دوران کاٹا ہے۔”چلے“ کی مشقت سے فراغت کے بعد وہ ایک ٹی وی انٹرویو میں نمودار ہوئے۔ اس کے دوران دعویٰ کیا کہ ”چلے“ نے انہیں قطعاََ بدل دیا ہے۔موصوف کے دعوﺅں پر جبلی طورپر کوئی اعتبار کرنے کے قابل ہی نہیں کیونکہ یہ وہ رنگ باز ہے جو صرف باتوں سے من موہ لیتا ہے اس طرح گفتار کا غازی تو بن جاتا ہے مگر کڑے وقت میں ڈٹ کر کھڑا ہونے کی جرات سے قطعاََ محروم ہوتا ہے . کئی برسوں سے انہوں نے اپنی ایک ”جماعت“ بھی قائم کررکھی ہے۔ جسے وہ ”عوامی مسلم لیگ “ پکارتے ہیں۔قلم دوات مذکورہ جماعت کا انتخابی نشان ہے۔ 2018ءکے انتخاب میں وہ اس کی ٹکٹ پر راولپنڈی کے اس حلقے سے منتخب ہوئے جو 1985ءسے تقریباََ ان کے نام سے منسوب ہوچکا ہے۔اس کے بالمقابل حلقے سے حنیف عباسی قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ تعلق ان کا جماعت اسلامی سے تھا مگر عملی سیاست نے انہیں مسلم لیگ (نون)کے قریب تر بنادیا۔ حنیف عباسی کی محنت ولگن عندیہ دے رہی تھی کہ حالات ایسے ہی رہے تو وہ بالآخر ”فرزند راولپنڈی“ کی مشعل لال حویلی والے سے چھین لیں گے۔ حنیف عباسی کو مگر نام نہاد ”ایفی ڈرین“ کیس میں ملوث کردیا گیا۔ 2018ءکے انتخابات سے چند روز قبل تقریباََ رات گئے انہیں ”ملزم“ ٹھہرانے کے لئے عدالت سے ”انصاف“ فراہم کروایا گیا۔ وہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے ”نااہل“ ہوگئے تو لال حویلی کے ”انقلابی“ نے اپنے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو وہاں سے قومی اسمبلی کارکن منتخب کروالیا۔راولپنڈی کی دونشستوں کی بدولت ”عوامی مسلم لیگ“ عمران حکومت کی کماﺅپوت جیسی اتحادی بن گئی۔وزارت داخلہ جیسا تگڑا محکمہ بھی ہتھیالیا۔ نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ عمران حکومت کے اختتام کے بعد خود کو ”اصلی ونسلی“ کہتے ہوئے شیخ رشید احمد قائد تحریک انصاف کے ساتھ ڈٹ کرکھڑے رہنے کی بڑھکیں لگاتے رہے۔بالآخر مگر ”چلہ“ کاٹنے کو مجبور ہوئے اور اب ”آنے والی تھاں‘ ‘ یعنی ”قلم دوات“ کے انتخابی نشان والی جماعت کے احیاءمیں مصروف ہوگئے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ آئندہ انتخاب کے دوران راولپنڈی شہر سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ان کے قبضے میں رہیں۔ اپنے بھتیجے کو اب انہوں نے ”بیٹا“ اور ”وارث“ بھی ڈیکلیئر کردیا ہے۔ کچھ خیر اندیشوں کو بہ خدشہ تھا کہ ”اصلی ونسلی“ ہونے کے دعوے دار شیخ رشید کو تحریک انصاف کے قائد سے دوری اختیار کرنے کو مجبور کیا جارہا ہے اور نجانے کیوں ان خوش گمانوں یہ گماں لاحق ہوگیا کہ عمر کے اس حصے میں وہ چودھری پرویز الٰہی کی طرح مزاحمت پر ڈٹ جائیں گے۔ ”چلہ“ مگر ان کی اس تناظر میں تبدیلی قلب میں ناکام رہا۔موصوف اسے گزار کر اپنی ”اصل“ کولوٹ آئے. نتیجہ یہ ہی نکلا کہ لال حویلی سے ابھرے گفتار کے غازی بالآخر وہ ”سبزی ہی ہیں جو ہر ہانڈی میں“ گوشت کے ساتھ پکائی جاسکتی ہے۔ ان کے کاٹے ”چلے“ سے ہمدردی دکھانے کے بجائے ان کی تازہ ترین تبدیلی قلب کو ”ابن الوقتی“ ہی گردانا جاسکتا ہے جس کے موصوف عادی ہیں۔

Back to top button