کیا مولانا اور زرداری، عمران خان سے ہاتھ ملانے والے ہیں؟

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں عام انتخابات 11فروری کو کروانے کی تاریخ دے دی ہے جس کے بعد عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جہاں دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کمر کس لی ہے، وہیں پاکستان تحریک انصاف  نے بھی نئی صف بندی کیلئے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔چند روز قبل جہاں اسد قیصر اور بیرسٹر سیف علی محمد خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے ایک وفد نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی ہے وہیں دوسری جانب اس حوالے سے بھی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ پی ٹی آئی پیپلز پارٹی سے بھی رابطے استوار کر رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب نے بھی نون لیگ کیخلاف تحریک انصاف سے اتحاد کا عندیہ دے دیا ہے۔

تاہم سوال پدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی یا جے یو آئی سے رابطے ان سیاسی جماعتوں سے اتحاد یا انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے کیے جا رہے ہیں اور کیا یہ جماعتیں پی ٹی آئی سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے تیار ہیں؟ اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی مقامی قیادت مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی خوش دامن کے انتقال پر تعزیت اور دعا کے لیے گئی تھی لیکن ظاہری بات ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں ہیں تو وہاں سیاسی گپ شپ بھی لگی ہوگی۔ جہاں تک آنے والے دنوں میں باقی جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہے تو تحریک انصاف ایک ہی موقف پر کھڑی ہے کہ عام انتخابات آئینی وقت کے اندر ہوں، جو ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔‘ان کا کہنا تھا: ’ہم تو یہی چاہیں گے کہ باقی جتنی بھی جماعتیں ہیں یا ہمارے جن بھی جماعتوں کے ساتھ اختلافات ہیں یا ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ نہیں ملتی لیکن ایک بات پر ہر جمہوری سیاسی جماعت ساتھ ہونی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ آزاد اور شفاف انتخابات جلد سے جلد ہوں۔‘

زلفی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ہر حال میں انتخابات لڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس وقت جو پاکستان میں ہو رہا ہے، وہ سب سے بڑی قبل از انتخابات دھاندلی ہے۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی بہت پراعتماد ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بھی مشکلات یا جو بھی ظلم و زیادتی عمران خان اور ہمارے ساتھ ہو رہی ہے، وہ ہمارے لیے ایک انتخابی مہم کا کام کر رہی ہے کیونکہ یہ سب لوگوں کے اندر غم و غصہ پیدا کر رہی ہے اور انہیں اس بات پر تیار کر رہی ہے کہ وہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالیں گے۔‘

تاہم دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جے یو آئی (ف) اور پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے تیار ہے؟ اس حوالے سے جے یو آئی ف کے رہنما اسلم غوری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کا وفد مولانا فضل الرحمٰن کی خوش دامن کی وفات پر تعزیت کے لیے آیا تھا۔ انہوں نے تعزیت کی اور چلے گئے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو جماعتوں کے درمیان برف پگھلی ہے جو پچھلے 10 سال سے نہیں ہوا تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی لیکن آج کے دن تک ہمارا ان سے اتحاد کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن سے ہم سمجھوتہ کرتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کا ایجنڈا مختلف تھا۔ اگر وہ یہ طرز عمل چھوڑ دے اور خالصتاً پاکستان کے لیے کام کریں تو پی ٹی آئی سے بات کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایجنڈے کے ساتھ ہم ان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں تو یہ ناممکن ہے۔‘

پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا سوال جب پیپلز پارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیٰ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی سے اتحاد تبھی ممکن ہو سکتا ہے، اگر وہ انتہا پسندی کی سیاست ختم کرے اور ماضی میں کی گئی گالم گلوچ پر قوم سے معافی مانگے۔ اس کے بعد سوچا جا سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ تو ہمیں کوئی اتحاد دکھائی نہیں دے رہا۔‘پی ٹی آئی سے روابط کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ’میرے کزن پی ٹی آئی کے ہیں، میں گھر سے جب نکلتا ہوں تو میری ان سے بھی سلام دعا ہو جاتی ہے، کہیں شادیوں پر مل جاتے ہیں، کہیں فوتگی پر مل جاتے ہیں۔ باقاعدہ کوئی روابط نہیں ہیں، جس سے یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا کوئی اتحاد بننے جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی نے کبھی کسی انتہا پسند کے ساتھ کوئی بیک ڈور روابط قائم نہیں کیے۔‘

سابق صدر آصف علی زرداری کے پی ٹی آئی سے رابطے کے حوالے سے حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری ایسے سیاست دان ہیں جو بہت کم بولتے ہیں اور بہت کچھ ان کے سینے میں ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ان کے رابطے بھی سب سے رہتے ہیں۔ وہ اپنے رابطے توڑتے بھی نہیں، وہ گہرے سیاست دان ہیں، نگاہ رکھتے ہیں سیاست پر، اس لیے ان کے رابطے یقیناً ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری میاں نواز شریف کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں اور باقیوں کے ساتھ بھی، اس لیے ان کے بارے میں یہ کہنا کہ فلاں سے رابطہ ہے، اس کی نہ تصدیق کی جاسکتی ہے نہ تردید۔‘

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار وجاہت مسعود اس ساری صورت حال کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’عمران خان تو فی الحال منظر پر نہیں ہیں اور جنہوں نے ان کے فیصلے کرنے کا اجارہ قائم کر رکھا ہے، ان کی وجہ سے عمران خان کے معاملات بگڑے ہیں اور جتنا نقصان سامنے ہے اس کہیں زیادہ نقصان اندرونی ہے، اس لیے اس وقت عمران خان کا تو کوئی امکان نہیں ہے۔ جو لوگ ان کے ساتھ گئے تھے وہ اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اس موقعے پر جمعیت علما اسلام یا پیپلز پارٹی والے احمق نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ تعاون کر کے خود اپنے امکانات تباہ کریں۔‘وجاہت مسعود کے خیال میں ’پس پردہ کسی سے کوئی ہاتھ ملا لیں، جو در پردہ کر لیا جاتا ہے تو وہ بالکل الگ بات ہے لیکن جماعتی سطح پر اس وقت کوئی بھی ایسی جماعت، جس کے ذرا سے بھی سیاسی اور انتخابی امکانات ہیں، پی ٹی آئی کے بندوں کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، نہ ان کے ہاتھ آئیں گے۔‘ان کے مطابق: ’یہ پی ٹی آئی کی غلط فہمی ہے۔ پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سمجھوتے پر نہیں آئیں گے۔ یہ سب ظاہری وضع داریاں ہیں، فی الحال کسی اتحاد کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘اس سوال پر کہ عمران خان نے اپنی جماعت کو دیگر سیاسی پارٹیوں سے رابطے کی اجازت دے دی ہے، وجاہت مسعود کا صرف یہ کہنا تھا کہ ’خان صاحب نے بھلے انہیں اجازت دی ہو لیکن خان صاحب کو ابھی کسی نے اجازت نہیں دی۔‘

Back to top button