امریکہ نے پانچ عسکریت پسندوں کو ٹیررسٹ فہرست میں شامل کرلیا

محکمہ خارجہ نے 5 مبینہ عسکریت پسندوں کو اپنی نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے 5 افراد کے ساتھ لین دین کرنے والے اداروں یا افراد پر بھی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ ان میں موزمبیق میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ سینئر فوجی کمانڈر بن ماضی عمر بھی شامل ہیں۔

انٹونی بلنکن نے بتایا کہ بن ماضی عمر نے انتہا پسندوں کے ایک گروپ کی قیادت کی جنہوں نے مارچ میں پالما قصبے کے امرولا ہوٹل پر حملے میں درجنوں افراد کو ہلاک کیا تھا۔انٹونی بلنکن نے کہا کہ وہ موزمبیق اور تنزانیہ میں متعدد حملوں کا بھی ذمہ دار ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں مالی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم نصر الاسلام والمسلمین کے سینئر رہنما سیدانج حیتا اور سالم ولد الحسن کے نام بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صومالیہ میں ’الشباب‘ تنظیم کے دو کمانڈر علی محمد راجی اور عبد القادر محمد کے نام بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔پالما حملے میں مذکورہ افراد نے مبینہ طور پر رہائشیوں کے سر قلم کردیے تھے اور عمارتوں کو تباہ کیا، حملوں میں کم از کم ایک درجن ہلاک اور 8 ہزار سے افراد بے گھر ہو گئے تھے۔انٹونی بلنکن نے بتایا کہ عمر موزمبیق اور تنزانیہ میں دوسرے حملوں کا بھی ذمہ دار ہے۔

شدت پسند عسکریت پسند گروپ الشباب کے ترجمان علی محمد ریج اور اسی گروپ کے منصعبدقادر محمد عبدکادر بھی شامل تھے۔امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ دونوں نے الشباب کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، ’میں افریقہ میں 5 دہشت گرد رہنماؤں کو عالمی دہشت گردی فہرست کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کر رہا ہوں‘۔

Back to top button