امریکہ کی ایرانی منجمد اثاثے اتحادی خلیجی ممالک کودینے کی تیاری

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور نہایت حساس مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے منجمد اور دیگر ممکنہ اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک کی تعمیرِ نو اور جنگی نقصانات کے ازالے کیلئے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایران پر معاشی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بھی بنا سکتا ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں کویت اور بحرین پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جو ایران کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ان نقصانات کے ازالے کیلئے مالی وسائل کا تعین کیا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن صرف ایران کے منجمد اثاثوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ دیگر ایرانی مالی اور تجارتی اثاثوں کو بھی اس دائرہ کار میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنا اور خلیجی اتحادیوں کو مالی مدد فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی واپسی پر ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر واشنگٹن واقعی امن چاہتا ہے تو اسے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔تین ماہ سے جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مختلف ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق محسن نقوی اپنے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام بھی لے کر گئے ہیں، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس تنازع میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی اثاثوں کے استعمال کی تجویز امن مذاکرات کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔


دوسری جانب دونوں ممالک کے مابین حالیہ دنوں ہونے والی تازہ ترین جھڑپوں میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایرانی ڈرون سرگرمیوں کے جواب میں گورک اور جزیرہ قشم کے قریب ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔اس کے ردعمل میں ایران نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔ کویتی حکام کے مطابق متعدد میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے، تاہم ان کے ملبے سے املاک کو نقصان پہنچا۔رپورٹس کے مطابق فروری سے اب تک خلیجی ممالک پر ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں توانائی، نقل و حمل اور صنعتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔امارات کے براکہ جوہری بجلی گھر، فجیرہ انرجی ہب، دبئی ایئرپورٹ، قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس اور بحرین کی باپکو ریفائنری سمیت کئی اہم تنصیبات حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ بعض واقعات نے عالمی توانائی منڈیوں اور نیوکلیئر سیفٹی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت اندرونِ ملک بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، مہنگائی اور جنگی اخراجات امریکی عوام میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بیشتر میزائل اور ڈرون تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں، تاہم ایران کے پاس اب بھی اپنے ہتھیاروں کا تقریباً 21 سے 22 فیصد ذخیرہ موجود ہے۔ان کے مطابق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور ایران اب بھی خطے میں حملہ آور صلاحیت رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیر نو کیلئے استعمال کرنے کی تجویز دراصل تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی ایک نئی حکمت عملی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم اس اقدام سے ایران کی جانب سے مزید سخت ردعمل آنے کا امکان بھی موجود ہے۔دوسری طرف پاکستان سمیت کئی ممالک سفارتی ذرائع سے جنگ بندی اور مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر معاشی پابندیوں اور اثاثوں کی ضبطی کے اقدامات میں شدت آتی ہے تو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ مزید طویل عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔

Back to top button