امریکی سائفر کس نے اور کیوں غائب کیا؟

 اعظم خان کی جانب سے سائفر ڈرامہ بے نقاب ہو جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ سے آنے والا سائفر آخر کہاں گیا؟ مبصرین کے مطابق سائفر کی گمشدگی ایک سنگین غیر ذمہ داری اور سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ سائفر گم کیسے ہوا؟سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے سائفر کو لے کر اعترافی بیان پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ 8 مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے اس وقت کے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بتایا کہ ایک سائفر ہے اس پر اعظم خان نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود وزیراعظم کو اس حوالے سے زبانی کچھ چیزیں بتاچکے ہیں۔حامد میر نے بتایا کہ یہ سائفر اعظم خان کے حوالے کیا گیا، اعظم خان نے 9 مارچ کو عمران خان کو یہ سائفر دکھایا جس کے بعد عمران خان نے یہ سائفر اپنی تحویل میں لے لیا، اعظم خان نے وزیراعظم کو بتایاکہ سیکریٹ ڈاکیومنٹ ہے اس میں اصول و ضوابط کا خیال رکھیں لیکن پھر بھی عمران خان نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔

سینئر صحافی کے مطابق اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے بعد یہ ڈاکومنٹ پھر نظر نہیں آیا، اعظم خان نے 8 سے 9 دن بعد عمران خان سے پوچھا کہ بحث شروع ہوگئی ہے آپ نے سائفر جلسے میں دکھادیا اب دفتر خارجہ کو یہ واپس چاہیے، اس پر عمران خان نے اعظم خان سے کہا کہ وہ ان سے گم ہوگیا ہے، اس پر اعظم خان نے تشویش ظاہر کی اور عمران خان سے کہا کہ یہ خفیہ ڈاکیومنٹ ہے اس کا گم ہونا ہمارے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

حامد میر کے مطابق سائفر پر کیبنٹ کی میٹنگ میں بھی بات ہوئی، قومی سلامتی کمیٹی میں بھی یہ بات ہوئی، واضح ہےکہ سائفر پر عمران خان نے جو بیانیہ بنایا وہ دراصل سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا، آفیشل سیکریٹ کے مندرجات کچھ اور تھے مگر اس کی بنیاد پر سیاست کی گئی جو قومی مفاد کے خلاف تھا۔حامد میر نے مزید کہا کہ تحقیقات سے واضح ہوتا ہےکہ سائفر 8 مارچ کو وزیراعظم ہاؤس بھیجا گیا اور پھر بنی گالا میں اسے عمران خان کے حوالے کیا جس کے بعد یہ فائل واپس دفتر خارجہ نہیں آئی، پرنسپل سیکرٹری آفس میں بھی اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

دوسری جانب سائفر کی گمشدگی بارے اپنی ایک رپورٹ میں سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال موجودہ حکومت کے دور میں اعظم خان نے پی ایم آفس کو بتایا تھا کہ انہوں نے سائفر سابق وزیراعظم عمران خان کو دیا تھا لیکن انہوں نے یہ دستاویز واپس نہیں کی۔ پی ٹی آئی حکومت کے دوران سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ سے گزشتہ سال شہباز شریف حکومت نے رابطہ کیا تھا تاکہ گمشدہ سائفر کاپی کے بارے میں دریافت کیا جا سکے۔ اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے سائفر عمران خان کے حوالے کر دیا تھا۔

زیر بحث سائفر کی نقول گزشتہ سال مارچ میں وزارت خارجہ کی طرف سے پانچ اہم حکام کو بھیجی گئی تھیں لیکن وزیر اعظم کے دفتر کے علاوہ باقی تمام افراد نے ضابطے کے تحت ایک ماہ بعد یہ دستاویز دفتر خارجہ کو واپس کر دی تھیں۔

 انصار عباسی کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر کے نامزد جوائنٹ سکریٹری، جو ایسی دستاویز حاصل کرنے اور اسے وزیر اعظم کو دکھانے کے بعد اپنی محفوظ تحویل میں رکھنے کے مجاز ہیں، نے کبھی بھی سائفر کاپی حاصل نہیں کی۔ وزیراعظم آفس کی فائلوں میں بھی اس مخصوص سائفر کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ انکوائری پرمعلوم ہوا کہ یہ سائفر عمران خان کو ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے دیا تھا۔

وزیراعظم آفس کے پاس صرف سائفر کے تبدیل شدہ منٹس موجود ہیں جس کا ذکر گزشتہ سال عمران خان، اعظم خان، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی لیک ہونے والی آڈیو میں سامنے آیا تھا۔

انصار عباسی کے مطابق وزارت خارجہ نے واشنگٹن میں اپنے سفیر سے سائفر موصول ہونے کے فوراً بعد اس کی کاپیاں پانچ اہم عہدیداروں یعنی وزیراعظم، وزیر خارجہ، سیکرٹری خارجہ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا تھا کہ حساسیت یا اہمیت کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نوعیت کا سائفر کس کو بھیجا جائے۔ تمام متعلقہ افراد کو کاپیاں ارسال کر دی گئیں۔ وزیر اعظم کے معاملے میں، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے ایک ڈپٹی سیکرٹری کو وزارت خارجہ نے طلب کیا اور اسے یہ سائفر سر بمہر لفافے میں ڈال کر اسے فوری طور پر اعظم خان کو دینے کی ہدایت کی۔ اعظم خان کو ڈپٹی سیکرٹری نے موبائل فون کے ذریعے سیل بند لفافے کے بارے میں مطلع کیا لیکن اعظم خان نے انہیں اگلی صبح یہ لفافہ ان کے دفتر میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

انصار عباسی کے مطابق وزیر اعظم کے ریکارڈ سے سائفر کاپی غائب ہونے پر موجودہ حکومت نے انکوائری کرائی جس میں اعظم خان نے بتایا تھا کہ انہوں نے سائفر کی کاپی عمران خان کو دی تھی۔ طے شدہ ایس او پیز کے تحت، اس طرح کا سائفر باضابطہ طور پر وزیر اعظم کے دفتر کے جوائنٹ سیکرٹری کو موصول ہوتا ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری اسے وزیراعظم کو دکھاتا ہے اور پھر اسے اپنی حفاظت میں رکھتا ہے۔ ایک ماہ کے بعد سائفر کی کاپیاں وزارت خارجہ کو واپس کر دی جاتی ہیں، جو ان تمام دستاویزات کو اپنی محفوظ ترین الماریوں میں محفوظ رکھتی ہے۔ تاہم، اس معاملے میں سائفر وزارت خارجہ کو واپس کیا گیا اور نہ ہی وزیراعظم آفس یا اس کے متعلقہ جوائنٹ سیکریٹری کے پاس اس دستاویز کے اندراج، نقل و حرکت یا اس کے اتے پتے کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ میں کوئی سراغ موجود ہے۔ اسی لئے یہ بات اب تک معمہ ہے کہ آخر سائفر گیا کہاں؟

Back to top button