کیا پنکی پیرنی نے عمران کو جیل جانے سے روک رکھا ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان کو اب بھی عقل کے ناخن لے لینے چاہییں‘ یہ جیل سے بچنے کے بجائے مردوں کی طرح اس کا مقابلہ کرے ،اس کے لیے آج بھی ایک لائف لائن باقی ہے اور وہ ہیں عوام‘ یہ اگر جیل چلا جائے‘ مشکل وقت کاٹ لے تو یہ زیادہ قوت کے ساتھ واپس آئے گا‘ یہ شاید یہ کر بھی گزرے مگر بشریٰ بی بی کے موکلات اس کی اجازت نہیں دے رہے لہٰذا سیاست کا گلیشیئر بے وقوفیوں کے سمندر میں پگھلتا چلا جا رہا ہے اور تبدیلی کے خواب روزانہ کی بنیاد پر ٹوٹتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف طویل عرصے بعد عوام کی جڑوں سے پھوٹی تھی اور یہ آہستہ آہستہ عوام کی امنگوں کا مرکز بن گئی تھی لیکن پھر عمران خان بھٹک گئے اور انھوں نے اپنے دروازے ان لوگوں کے لیے کھول دیے جن سے نجات کے لیے عوام نے خان صاحب کو اپنا لیڈربنایا تھا‘ وہ لوگ آئے اور پھر پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں میں کوئی فرق نہ رہا اور اس کا نتیجہ وہی نکلا جو ایسے حالات میں نکلتا ہے‘ پارٹی اور لیڈر دونوں فارغ ہو گئے۔ عمران خان مانے یا نہ مانے لیکن ان کے ساتھ وہی ہوا جو کرکٹ میچ کے دوران ہوتا ہے‘ ہزاروں تماشائی اسٹیڈیم میں بیٹھے ہوتے ہیں‘ یہ نعروں کے ساتھ بیٹسمین کو آسمان پر چڑھاتے ہیں‘ بیٹسمین ان کی تالیوں اور نعروں سے گرم ہو کر کریز سے باہر نکلتا ہے‘ چھکا مارنے کی کوشش کرتا ہے‘ آؤٹ ہوتا ہے اور پھر پورا سٹیڈیم اسے جم کر گالیاں دیتا ہے‘ عمران خان بھی ایک ایسے ہی بیٹسمین تھے‘ یہ کریز سے باہر نکلتے رہے‘ چھکے مارتے رہے۔ تماشائی تالیاں بجاتے رہے اور آخر میں یہ مکمل طور پر فارغ ہو گئے اور اب تماشائی گھر پر بیٹھ کر انھیں بے وقوفی کے طعنے دے رہے ہیں. جاوید چودھری کے مطابق اس تصویر کا ایک اور رخ یہ ہے کہ خان صاحب کن لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ بنانا چاہتے تھے‘کیا ریاست مدینہ اس عامر کیانی‘ عمران اسماعیل‘ علی زیدی‘ فواد چوہدری‘ پرویز خٹک‘ فیاض الحسن چوہان‘ جمشید چیمہ‘ ملیکہ بخاری‘اسد عمر‘ شیریں مزاری‘ عثمان بزدار اور محمود خان نے بنانی تھی جو جیلوں اور مقدموں کا ایک ہفتہ بھی برداشت نہیں کر سکے۔ یہ جیل سے نکلے‘ پریس کانفرنس کی اور استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے یا پھر انھوں نے پرویز خٹک کی پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز جوائن کر لی یا پھر تحریک انصاف اور عمران سے اعلان لاتعلقی کر لیا‘ یہ وہ لوگ تھے جو ریاست مدینہ بھی تخلیق کر رہے تھے اور پھٹے پرانے پاکستان کو نیا پاکستان بھی بنا رہے تھے۔ یہ لوگ عمران خان کی وہ انقلابی ٹیم تھی جس نے غلامی کی زنجیریں توڑنی تھیں اور جس نے اقوام عالم میں ملک کا سر فخر سے بلند کرنا تھا‘ یہ لوگ سیاست کا اصل کریکٹر ہیں‘ آپ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی کا پاکستان پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور جے یو آئی سے تقابل کر لیں‘ صحافی ان پارٹیوں کو کیا کیا نہیں کہتے رہے اور ان کے ساتھ ریاست‘ میڈیا اور حکومت نے کیا کیا نہیں کیا مگر ان لوگوں کو جیلیں توڑ سکیں اور نہ ہی سزائیں اورنہ پروپیگنڈا‘ نواز شریف کے گھر کے سامنے آج بھی آوازیں لگائی جاتی ہیں اور ان کی فیملی کو شاپنگ کے دوران برا بھلا کہا جاتا ہے مگر یہ لوگ اس کے باوجود زمین سے جڑ کر کھڑے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے محمود غزنوی میدان میں لیٹ کر نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ صلاح الدین ایوبی زمین پر بیٹھ کر اپنے لیڈر کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں اور مجال ہے جو انھیں اس پر ذرا بھی شرمندگی ہو اور یہ لوگ اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں‘ ہم اجتماعی طور پر ایسے ہی ہیں‘ طوطا چشم‘ ضمیر سے فارغ اور اپنی ناک اور جیب تک محدود لوگ ہیں‘ ہم سب اس ملک کا اجتماعی چہرہ ہیں۔ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ عمران خان بے چارہ مغالطے میں مارا گیا‘ یہ کاغذی شیروں کو اصل شیر اور گتے کی تلواروں کو ضرب مومن سمجھ بیٹھا تھا چناں چہ یہ سیاسی موت مارا گیا‘ اس کے لیے اگلا وقت آج سے زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت ہو گا۔ آج صرف اعظم خان جیسے لوگوں نے اس کا ساتھ چھوڑا ہے‘ کل جب وہ لوگ اس کا ساتھ چھوڑیں گے جن کو بچاتے بچاتے یہ اس حال کو پہنچا تو اس وقت اس کے ساتھ کیا ہو گا؟ کاش یہ 2021میں جنرل باجوہ کی بات مان لیتا اور اپنی پارٹی پر توجہ دے لیتا‘ یہ جینوئن ورکرز کو آگے لے آتا‘ یہ انھیں ٹکٹ دیتا‘ ان کی سیاسی پرورش کرتا‘ یہ 2022میں قومی اسمبلی توڑ کر الیکشن کرا دیتا یا یہ تحریک عدم اعتماد کو مردوں کی طرح برداشت کر لیتا اور اپوزیشن لیڈر بن جاتا تو آج دو صوبوں میں اس کی حکومت ہوتی۔ سینیٹ میں اس کی اکثریت ہوتی اور صدر بھی اس کا ہوتا تو آج کیا منظر نامہ ہوتا؟ جاوید چودھری کے خیال ہے ایسی صورت میں عمران اب تک اقتدار میں واپس بھی آ چکا ہوتا اور پی ٹی آئی سیاسی جماعت بھی بن چکی ہوتی مگر یہ حقائق سے آنکھیں موند کر کشف پر یقین کر بیٹھا اور اس کشف کے بارے میں بھی آخر میں پتا چلا یہ جنرل فیض حمید کا فیض تھا‘ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا. عمران خان کو اب بھی عقل کے ناخن لے لینے چاہییں‘ یہ جیل سے بچنے کے بجائے مردوں کی طرح اس کا مقابلہ کرے اور ان لوگوں کی عزت کرے جو اس عالم میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے‘ یہ علی محمد خان‘ شہریار آفریدی‘ عمر ایوب ‘حماد اظہر‘ عاطف خان‘مراد سعید‘ اسد قیصر‘ صداقت عباسی‘ عثمان ڈار اور اعظم سواتی کی عزت کرے‘ یہ واقعی شان دار لوگ ہیں‘ اصولوں پر کاربند لوگ ہیں‘ یہ شاید اسی لیے اقتدار کے زمانے میں خان صاحب سے دور تھے اور وہ لوگ اس کے کان اور آنکھیں بنے رہے جن کی جیب میں ضمیر تک نہیں تھا چناں چہ آپ آج نتیجہ دیکھ لیں۔سیاست کا گلیشیئر بے وقوفیوں کے سمندر میں پگھلتا چلا جا رہا ہے اور تبدیلی کے خواب روزانہ کی بنیاد پر ٹوٹتے چلے جا رہے ہیں۔

Back to top button