’’غیرقانونی آن لائن لون ایپس کو بیرونی عناصر کی پشت پناہی کا انکشاف‘‘

پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے کو آن لائن قرض فراہم کرنے والی 100 سے زائد آن لائن ایپس کو بیرونی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کمپنیوں کے مالکان تو پاکستانی ہیں لیکن ان کو غیرملکیوں کی بھی مدد حاصل ہے۔
لون ایپ ’’ایزی لون‘‘ سے قرضہ لینے والے راولپنڈی کے شہری کی موت کے بعد قرضہ دینے والی فراڈ ایپس اور کمپنیوں کے خلاف شروع کی جانے والی تحقیقات میں کمپنیوں کے مالکان کے ملک سے فرار کو روکنے کیلئے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
تفتیش سے منسلک ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں رجسٹرڈ 9 لون ایپس کی جانب سے شہریوں سے دو برسوں میں اربوں روپے کا لین دین کیا گیا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ پر 100 سے زائد فراڈ کمپنیاں سرگرم ہیں۔ جس سے غیر دستاویزی لین دین کے حجم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے میں سے کئی فراڈ کمپنیوں کے پاکستانی مالکان کے پیچھے غیر ملکی عناصر ملوث ہیں، جو انہیں تکنیکی معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں۔
ان غیر ملکی عناصر میں چین اور یورپی ممالک میں موجود بعض شہری حتیٰ کہ بھارتی شہری بھی شامل ہیں جبکہ درجن بھر سے زائد ایسی مالیاتی کمپنیاں بھی ہیں، جن کے مالکان نے خود کو ایس ای سی پی میں نان بینکنگ فنانس کمپنیز کے تحت رجسٹرد کروا رکھا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ذرائع کے بقول حکومتی اداروں کی سست روی اور روایتی غفلت کی وجہ سے گوگل پلے اسٹور اور ایپل اسٹور کے ذریعے پاکستان میں آن لائن قرضوں کی آڑ میں مالیاتی فراڈ کرنے والی 100 کے قریب آن لائن ایپس کو اب تک گوگل اور اپیل کمپنیوں سے ڈیلیٹ نہیں کروایا جا سکا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے بقول سب سے خطرناک اور سنگین حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی اداروں کی سستی اور غیر واضح پالیسی سے فائدہ اٹھا کر ان فراڈ اور غیر قانونی ایپس جن کے پیچھے بھارتی، چینی اور یورپی ممالک کے سافٹ ویئر ماہرین ملوث ہیں، کروڑوں پاکستانیوں کے موبائل فونز گیلریز سے ان کا ذاتی نوعیت کا حساس ڈیٹا حاصل کر چکے ہیں جس میں ان کی تصاویر، وڈیوز، رابطہ نمبرز، ذاتی پیغامات، کالز کی ریکارڈنگ اور ان کے بینک کھاتوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ذرائع کے بقول اس وقت جو 9 آن لائن قرضہ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، ان میں گولڈ لیون فنانشل سروسز پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کی (اسمارٹ قرضہ) ایپ، جینگل کریڈ ڈیجیٹل فنانس پرائیویٹ لمیٹڈ کی (پیسہ یار) ایپ، مائیکو کریڈ فنانشل سروس پرائیویٹ لمیٹڈ کی (ادھار پیسہ) ایپ، ہمراہ فنانشل سرو س لمیٹیڈ کی (ضرورت کیش) ایپ، سیڈ کریڈ فنانشل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کی (بروقت ایپ)، ابھی پرائیویٹ لمیٹڈ کی (ابھی) لون ایپ، کیشیو فنانشل سروسز کی (معاون) لون ایپ، سرمایہ مائیکرو فنانس کی ( ایزی لون) ایپ اور تیز فنانشل سروسز کی لون ایپ شامل ہیں۔
قرض کی صورتحال شہریوں کے لئے اس وقت اذیت کا باعث بنتی ہے جبکہ ہر ہفتے کی بنیاد پر ان کے قرض میں سود کی رقم جمع کر دی جاتی ہے اور قرضہ کی اصل رقم کے حجم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ اسی حساب سے ہر ہفتے اس رقم پر لگنے والے سود کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور یوں ہزاروں روپے قرض کی رقم دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ روالپنڈی کے 2 بچوں کے باپ شہری محمد مسعود نے بھی ایک رجسٹرڈ کمپنی سرمایہ مائیکرو فنانس کی رجسٹرڈ لون ایپ ’’ایزی لون ‘‘ سے ہی قرضہ لینے کے بعد سود تلے دب کر خودکشی کی تھی ۔
اسی لئے ان آن لائن قرضہ ایپ کے لئے ’’شارک لون ‘‘ اور ’’وشیئس انٹرسٹ سرکل ‘‘ کی اصطلاحیں عالمی سطح پر استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کمپنیاں قرضہ دینے سے پہلے ہی ڈائون لوڈنگ کے وقت شہریوں کے موبائل فون ڈیٹا بشمول فوٹو گیلری، ذاتی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ رابطہ لسٹ تک رسائی حاصل کرلیتی ہیں اور یوں شہریوں کا تمام نجی اور حساس ڈیٹا ان کے تصرف میں آجاتا ہے جو سائبر کرائمز ایکٹ 2016 کی رو سے سنگین جرم ہے اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اس پر کارروائی کا مجاز ہے۔
