ٹیکسز میں مزید اضافہ، پٹرول 13.18، ڈیزل 13.80 روپے فی لیٹر مہنگا

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 11 جولائی سے کر دیا گیا ہے۔

اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 11 روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 242 روپے 33 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت 231 روپے 14 پیسے فی لیٹر تھی۔

خیال رہے کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔ 4 جولائی کو پٹرول کی قیمت 297 روپے 53 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی، تاہم ایک ہفتے بعد ہی دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ نمایاں اضافہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب حکومت نے پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں بھی نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 70 روپے 36 پیسے سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیوی میں 9 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافے کا براہِ راست اثر پٹرول کی مجموعی قیمت پر پڑے گا، جس سے صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، شرحِ مبادلہ اور حکومتی ٹیکسوں و لیوی میں تبدیلیاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جبکہ حالیہ اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بھی مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Back to top button