امریکا، ایران کشیدگی کے باوجود مذاکرات جاری، ثالث متحرک

امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، تاہم جنگ کے بڑھتے خدشات کے ساتھ ہی سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ثالث ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرکے مذاکرات کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن کوئی بھی ملک مکمل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسی لیے پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں جہازرانی، اسرائیل کا کردار، خلیجی ممالک کی تشویش اور باہمی بداعتمادی اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی نے 18 جون کو طے پانے والے مفاہمتی عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر موجودہ تناؤ برقرار رہا تو جنگ بندی اور مذاکرات کی سابقہ کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں۔
سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اس مفاہمتی عمل کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا اور مختلف اقدامات کے ذریعے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران کے اندر بھی بعض سخت گیر عناصر ایسے ہیں جو امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
حالیہ بحران کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع بتایا جا رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ مفاہمتی انتظام کے تحت مخصوص سمندری راستہ مقرر کیا گیا تھا اور اس سے ہٹ کر کسی متبادل راستے کا استعمال معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہی اختلاف حالیہ فوجی جھڑپوں اور ایک دوسرے پر حملوں کی بڑی وجہ بنا، جس نے پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور خطے میں پائیدار امن کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا۔
اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک نے ایک مرتبہ پھر بیک چینل سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ اگرچہ ان کوششوں کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں، تاہم سفارتی ذرائع کا ماننا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں اور محدود مگر قابلِ عمل اقدامات پر اتفاق کر لیں تو بحران پر قابو پانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ دونوں ممالک کے درمیان گہری بداعتمادی ہے۔ امریکا اپنے علاقائی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاعی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب خلیجی ممالک بھی شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ اگر یہ تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہوتا ہے تو پورا خطہ معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈی بھی بری طرح متاثر ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات یا اتحادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں تو وہ فوجی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم دوسری طرف مؤثر بیک چینل سفارتکاری، خصوصاً پاکستان، قطر اور عمان کی ثالثی، دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ امریکا اور ایران جیسے پیچیدہ تنازعات کا مستقل حل بالآخر سفارتکاری ہی میں پوشیدہ ہوتا ہے، کیونکہ مسلسل عسکری تصادم کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ اسی لیے پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ دونوں ممالک ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
