نیلم جہلم منصوبہ مزید 4 سال بند،مارچ 2028 سے پہلے بحالی ناممکن قرار

پاکستان کے توانائی اور آبی شعبے کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب واپڈا نے انکشاف کیا کہ تقریباً 5 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ کم از کم مارچ 2028 تک بجلی پیدا نہیں کر سکے گا۔ 969 میگاواٹ صلاحیت رکھنے والا یہ منصوبہ مئی 2024 میں سرنگ میں ہونے والے "راک برسٹ” کے باعث بند ہوا تھا اور اب اس کی بحالی میں مزید کئی سال لگیں گے۔ اس دوران عوام نہ صرف سستی پن بجلی سے محروم رہیں گے بلکہ بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج بھی ادا کرتے رہیں گے، جبکہ ملک کو مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار بڑھانے کی وجہ سے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں منصوبے کی بندش، ممکنہ غفلت، آبی سلامتی اور مستقبل کے ڈیموں کی تعمیر پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً پانچ ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ مارچ 2028 تک مکمل طور پر بحال ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق 969 میگاواٹ صلاحیت کے حامل اس منصوبے کی سرنگ میں "راک برسٹ” کے باعث شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر مرمتی کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر سے قبل ہونے والی ارضیاتی تحقیقات میں اس علاقے کو زلزلہ زدہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ سرنگ کو پہنچنے والے نقصان کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں۔ واپڈا کو امید ہے کہ مرمت مکمل ہونے کے بعد منصوبہ دوبارہ قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گا۔

اجلاس کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ بجلی صارفین کئی برسوں سے اپنے بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج ادا کر رہے ہیں، مگر منصوبہ بند ہونے کے باعث وہ سستی پن بجلی سے محروم ہیں۔ اس صورتحال نے عوامی نمائندوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔

سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ اتنے بڑے قومی منصوبے میں پیدا ہونے والی خرابی اور ممکنہ غفلت کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعمیر، نگرانی یا منصوبہ بندی میں کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کا ٹھیکہ جولائی 2007 میں دیا گیا تھا اور تقریباً ایک دہائی کی تعمیر کے بعد اگست 2018 میں اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہوئی۔ منصوبے پر اس وقت کے تخمینے کے مطابق تقریباً 500 ارب روپے، یعنی لگ بھگ 4.7 سے 5 ارب ڈالر لاگت آئی۔

مئی 2024 میں ہیڈ ریس ٹنل میں "راک برسٹ” کے باعث منصوبہ بند ہو گیا، جس کے بعد قومی گرڈ تقریباً ایک ہزار میگاواٹ کے قریب سستی پن بجلی سے محروم ہو گیا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار بڑھا، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت اور مالی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

اجلاس میں واپڈا کے چیئرمین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہیں ہو سکا، جبکہ بھارت ہزاروں ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کو پانی کے نئے ذخائر، بڑے ڈیموں اور قومی آبی سلامتی کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جام سیف اللہ خان نے بھی پانی کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈس واٹر ٹریٹی، مستقبل کے آبی ذخائر اور قومی آبی سلامتی پر ان کیمرا اجلاس بلانے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں پانی کی قلت مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے، اس لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق نیلم جہلم منصوبے کی طویل بندش صرف بجلی کی پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت، توانائی کے شعبے، آبی سلامتی اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس لیے منصوبے کی بروقت بحالی، شفاف تحقیقات اور مستقبل کے آبی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی پاکستان کی توانائی اور پانی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

Back to top button