کیا حکومت اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوپائے گی؟

پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ‘انویسٹ پاک’ کے نام سے جدید ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرا دیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 6 جولائی کو شروع کیے گئے اس پلیٹ فارم کا مقصد حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پورٹل نہ صرف لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی معیشت میں براہِ راست سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرے گا بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی کم از کم 10 ہزار روپے سے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھولے گا۔ ماہرین کے مطابق ‘انویسٹ پاک’ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا متبادل نہیں بلکہ اس کی توسیع ہے، جو سرمایہ کاروں کو حکومتی ٹریژری بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اسلامی سکوک میں براہِ راست سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرے گا۔

خیال رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس نئی سکیم کے نفاذ کے لیے باضابطہ سرکلر جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ "انویسٹ پاک” ایک مربوط ڈیجیٹل پورٹل ہے، جس کے ذریعے سرمایہ کار حکومت پاکستان کی مختلف مالیاتی سیکیورٹیز میں براہِ راست سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں، خصوصاً خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو ملکی معیشت سے جوڑنا اور انہیں محفوظ، شفاف اور منافع بخش سرمایہ کاری کا ایک جدید پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ اس پورٹل سے پاکستان میں موجود چھوٹے سرمایہ کار بھی یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔

معاشی ماہرین کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بنیادی طور پر ایک بینکنگ اکاؤنٹ ہے جس کے ذریعے اوورسیز پاکستانی رقوم پاکستان منتقل کرتے یا مخصوص سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ "انویسٹ پاک” ایک علیحدہ سرمایہ کاری پلیٹ فارم ہے جو سرمایہ کاروں کو حکومتی ٹریژری بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور دیگر سرکاری مالیاتی مصنوعات تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرمایہ کاروں کو زیادہ لچک، وسیع انتخاب اور مارکیٹ کے مطابق بہتر منافع حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔

سٹیٹ بینک نے سرمایہ کاری کا طریقۂ کار انتہائی آسان رکھا ہے۔ دنیا بھر میں مقیم غیر مقیم پاکستانی اور ملک کے اندر موجود مقامی سرمایہ کار اس سکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ملک کے بڑے تجارتی بینکوں کو بھی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے، جہاں سرمایہ کار اپنے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ یا متعلقہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے پورٹل پر لاگ اِن کر کے سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

عام شہریوں کی سہولت کے لیے کم از کم سرمایہ کاری کی حد صرف 10 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ محدود آمدنی رکھنے والے افراد بھی اس پروگرام میں شامل ہو سکیں۔ سرمایہ کار اپنی ضرورت کے مطابق مختلف مدت کی حکومتی سیکیورٹیز منتخب کر سکتے ہیں۔ مختصر مدت کے لیے تین، چھ اور بارہ ماہ کے ٹریژری بلز دستیاب ہیں، جبکہ طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے تین، پانچ، دس سال یا اس سے زیادہ مدت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز بھی پیش کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان سرمایہ کاری مصنوعات پر منافع کی شرح سٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ سے منسلک ہوتی ہے، اس لیے موجودہ مالیاتی ماحول میں یہ نسبتاً پرکشش اور مستحکم منافع فراہم کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سود سے گریز کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے شریعت کے مطابق اسلامی سکوک اور دیگر اسلامی سیکیورٹیز بھی پورٹل پر دستیاب ہوں گی، جس سے خصوصاً خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔ڈاکٹر علی رزاق کے مطابق "انویسٹ پاک” کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں سرمایہ کاری کی ضامن براہِ راست ریاستِ پاکستان ہوتی ہے، جبکہ عام بینکوں کی بچت سکیمیں متعلقہ بینک کی مالی حالت سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے مطابق اصل منافع حاصل ہوتا ہے کیونکہ اس میں نجی بینکوں کے اضافی سروس چارجز اور درمیانی کمیشن شامل نہیں ہوتے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق ٹیکس کی کٹوتی، منافع کی ادائیگی اور بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی کا نظام مکمل طور پر خودکار رکھا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو غیر ضروری تاخیر یا پیچیدہ قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اوورسیز پاکستانی جب چاہیں اپنی اصل رقم اور حاصل شدہ منافع بیرونِ ملک اپنے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر سکیں گے۔اس کے علاوہ پورٹل کے استعمال یا سرمایہ کاری سے متعلق کسی بھی تکنیکی مسئلے کے حل کے لیے سٹیٹ بینک نے خصوصی ڈیجیٹل شکایتی نظام بھی قائم کیا ہے، جہاں آن لائن شکایت درج کرا کے فوری معاونت حاصل کی جا سکے گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق "انویسٹ پاک” پاکستان میں سرمایہ کاری اور بچت کے روایتی نظام میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس پورٹل میں شفافیت، آسان رسائی اور مؤثر انتظام برقرار رکھا گیا تو یہ نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بڑھانے میں مددگار ہوگا بلکہ ملکی معیشت میں سرمایہ کاری، حکومتی قرض گیری کے جدید نظام اور مالیاتی شمولیت کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

Back to top button