ٹیکس رعایت ختم، ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمت میں 20لاکھ روپے تک اضافہ

پاکستان میں ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ہائبرڈ گاڑیوں کو لاکھوں صارفین کی پہلی ترجیح بنا دیا تھا، کیونکہ یہ گاڑیاں کم ایندھن خرچ کرنے کے ساتھ نسبتاً سستی سفری لاگت فراہم کرتی تھیں۔ تاہم اب حکومت کی جانب سے دی گئی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی رعایت ختم ہونے کے بعد یہی گاڑیاں عام خریدار کی پہنچ سے مزید دور ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف کے خاتمے کے بعد آٹو کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ شروع کر دیا ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مکمل جی ایس ٹی دوبارہ نافذ ہو گئی تو مختلف ہائبرڈ ماڈلز کی قیمتوں میں 10 سے 20 لاکھ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے کے اثرات صرف صارفین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقامی آٹو انڈسٹری، سرمایہ کاری اور مستقبل کی گاڑیوں کی مارکیٹ بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

30 جون 2026 کو مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے دی گئی ٹیکس رعایت کی مدت ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد سب سے پہلے انڈس موٹر کمپنی نے اپنی مقبول کرولا کراس ہائبرڈ کی قیمت میں تقریباً 14 لاکھ روپے اضافہ کر دیا۔ اس اضافے کے بعد اس گاڑی کی قیمت ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ اسی ماڈل کے پیٹرول ویریئنٹس کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ صرف ٹیکس ریلیف کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ یہ ٹیکس رعایت وفاقی حکومت نے 2021 میں نئی توانائی پر چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے متعارف کرائی تھی۔ اس پالیسی کے تحت 1800 سی سی تک مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر صرف 8.5 فیصد جبکہ 1800 سے 2500 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔ اس رعایت کا مقصد ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا تھا۔ تاہم رعایت کی مدت ختم ہونے کے باوجود حکومت نے تاحال کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، جبکہ آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب 1800 سی سی تک گاڑیوں پر 18 فیصد اور اس سے بڑی گاڑیوں پر 25 فیصد جی ایس ٹی بحال ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر صارفین پر پڑے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، لیکن اگر قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو بہت سے خریدار دوبارہ روایتی گاڑیوں یا درآمد شدہ ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف رخ کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مقامی اور درآمد شدہ ہائبرڈ گاڑیوں کے درمیان قیمت کا فرق پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہو جائے گا، جس سے درآمدی گاڑیاں نسبتاً زیادہ پرکشش بن سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو مقامی اسمبلرز کی فروخت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی آٹو صنعت کی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

آٹو انڈسٹری کے ماہرین نئی آٹو پالیسی کے منتظر ہیں، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ حکومت مقامی آٹو پارٹس پر بھی 15 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز نافذ ہو گئی تو مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے کی لاگت مزید بڑھ جائے گی، جس کے نتیجے میں صرف ہائبرڈ ہی نہیں بلکہ دیگر مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے ایک طرف آٹو مینوفیکچررز پر مالی دباؤ بڑھے گا تو دوسری جانب صارفین کے لیے نئی گاڑی خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ موجودہ تخمینوں کے مطابق مختلف ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کرولا کراس ہائبرڈ کی قیمت میں تقریباً 14 لاکھ روپے کا اضافہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے، جبکہ ہیول ایچ 6 ہائبرڈ کی قیمت تقریباً 17 لاکھ روپے، ہونڈا ایچ آر وی ہائبرڈ کی تقریباً 14 لاکھ روپے، جائیکو جے 5 کی 10 سے 13 لاکھ روپے، ہنڈائی ایلانٹرا ہائبرڈ کی تقریباً 15 لاکھ روپے اور ہنڈائی ٹوسان ہائبرڈ کی تقریباً 18 لاکھ روپے تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ اضافے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی خریداری اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا فیصلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ٹیکس ریلیف کا خاتمہ صرف قیمتوں میں اضافے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری، مقامی سرمایہ کاری، ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ اور صارفین کی خریداری کی صلاحیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اب تمام نظریں حکومت کی نئی آٹو پالیسی پر مرکوز ہیں، جو یہ فیصلہ کرے گی کہ ملک میں ہائبرڈ اور دیگر نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی یا یہ شعبہ مزید مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔

Back to top button