آزاد کشمیر انتخابات، سیاسی میدان میں خاموشی کا راج کیوں؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 27 جولائی کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، مگر اس بار انتخابی فضا ماضی کے برعکس غیر معمولی طور پر سرد دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں ماضی میں انتخابی جلسے، گاڑیوں کے قافلے، ریلیاں، بینرز، وال چاکنگ اور سیاسی نعروں سے پورا خطہ گونج اٹھتا تھا، وہیں اس مرتبہ بیشتر علاقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک، امن و امان کی خراب صورتحال، پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی بائیکاٹ اور کشمیری عوام کی توجہ روایتی سیاسی نعروں کی بجائے اپنے بنیادی مطالبات پر مرکوز ہونے کی وجہ سے انتخابی گہما گہمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اگرچہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہو رہے ہیں، لیکن سیاسی ماحول میں وہ گرما گرمی نظر نہیں آ رہی جو کسی بھی جمہوری عمل کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر 852 امیدوار قسمت آزمائی کریں گے، جبکہ 24 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ تقریباً 23 لاکھ 50 ہزار ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے، تاہم ان انتخابات میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ایک بڑا سیاسی تنازع بن چکی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہی مطالبہ اب خطے کے ایک بڑے طبقے میں بھی پذیرائی حاصل کرتا دکھائی دیتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول انتخابات سے قبل سب سے بڑا چیلنج امن و امان کی صورتحال ہے۔ راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی نے 15 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج، دھرنوں اور جھڑپوں میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض مسلح عناصر امن و امان کو خراب کرنے، غذائی اشیا کی ترسیل روکنے اور سرکاری رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث وفاق سے اضافی سکیورٹی فورسز طلب کی گئی ہیں تاکہ پولنگ کے دوران صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔

سیاسی سرگرمیوں کی صورتحال بھی غیر معمولی ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر بڑی جماعتوں کی مرکزی قیادت ابھی تک انتخابی میدان میں بھرپور انداز میں نظر نہیں آئی، جبکہ مقامی سطح پر بھی جلسے جلوس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ امیدوار بڑی ریلیوں کے بجائے محدود پیمانے پر گھر گھر جا کر ووٹرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں یا چھوٹی کارنر میٹنگز تک محدود ہیں۔ سیاسی بینرز، وال چاکنگ اور انتخابی تشہیر کے دیگر روایتی مناظر بھی بہت کم دکھائی دے رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عوامی توجہ اس وقت سیاسی منشور سے زیادہ موجودہ احتجاجی تحریک پر مرکوز ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ نے بھی انتخابی ماحول کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اگرچہ پارٹی اپنی رجسٹریشن کی معطلی کو بھی ایک وجہ قرار دیتی ہے، تاہم اس کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر انتخابی عمل سے الگ ہوئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے نے انتخابی مقابلے کی شدت کو مزید کم کر دیا ہے اور انتخابی مباحثے کے بجائے احتجاجی سیاست کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔

مبصرین کے بقول اس خاموش انتخابی ماحول کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پرنٹنگ، بینرز، پمفلٹس، کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ اور انتخابی مہم سے وابستہ دیگر کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں انتخابات کے دوران انہیں آرڈرز کی بھرمار ہوتی تھی، لیکن اس مرتبہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور کئی کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب تک کسی امیدوار نے انتخابی مہم میں رکاوٹ یا سرکاری سطح پر مداخلت کی کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ بعض امیدواروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ مجموعی ماحول سرد ہے، تاہم وہ اپنی استطاعت کے مطابق انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے حلقوں میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام سیاسی جماعتوں کے منشور سے زیادہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات، مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے مستقبل، امن و امان کی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی بیانیہ بھی روایتی ترقیاتی وعدوں سے ہٹ کر عوامی حقوق اور سیاسی اصلاحات کے گرد گھوم رہا ہے۔ اگرچہ حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ چند احتجاجی گروہوں کی وجہ سے عوام کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے، لیکن مبصرین کے مطابق کمزور انتخابی سرگرمیاں، محدود عوامی دلچسپی اور احتجاجی تحریک کا دباؤ ان انتخابات کی ساکھ اور عوامی شرکت پر ضرور اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ عوامی مزاحمت، ریاستی پالیسی اور جمہوری عمل کے درمیان ایک اہم امتحان کی صورت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

Back to top button