کے ٹو ایئر ویز کا کارگو طیارہ اچانک سمندر میں کیسے گرا؟

شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئر ویز کا کارگو طیارہ کراچی کے قریب اچانک ریڈار سے غائب ہو کر گہرے سمندر میں جا گرا، اس حادثے نے پاکستان کی فضائی صنعت میں کئی سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پائلٹ نے پرواز کے دوران صرف نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، مگر نہ تو "مے ڈے” کال دی گئی اور نہ ہی کسی بڑے تکنیکی بحران کی نشاندہی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہوا بازی کے ماہرین اس حادثے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے اصل اسباب کا تعین صرف کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، یعنی بلیک باکس، کی بازیابی اور تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ایوی ایشن ماہرین، سابق پائلٹوں، ایروناٹیکل انجینئرز اور فضائی شعبے سے وابستہ سینئر ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات کسی ایک واضح تکنیکی خرابی کی طرف اشارہ نہیں کرتیں۔ کراچی ریجن کے ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر کے مطابق پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو صرف یہ بتایا تھا کہ نیوی گیشن سسٹم مسلسل مسئلہ پیدا کر رہا ہے، تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں انجن معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور طیارے میں کسی اور بڑی خرابی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اگر صورتحال واقعی جان لیوا ہوتی تو بین الاقوامی فضائی ضابطوں کے مطابق پائلٹ فوری طور پر "مے ڈے” کال دیتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نیوی گیشن سسٹم کی خرابی کسی مسافر یا کارگو طیارے کے اچانک بے قابو ہو کر سمندر میں گرنے کی کافی وجہ نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ جدید طیاروں میں متبادل نیوی گیشن ذرائع موجود ہوتے ہیں اور تربیت یافتہ پائلٹ ایسی صورتحال میں محفوظ لینڈنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اورماڑہ کے قریب طیارے کا انتہائی تیزی سے بلندی کھو کر سمندر میں جا گرنا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی ایک نجی ایئر لائن کے ایک سینئر کپتان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران سیٹلائٹ جیمنگ اور نیوی گیشن سگنلز میں خلل کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق شارجہ سے مسقط تک پرواز کے دوران جس نوعیت کی نیوی گیشن خرابی کا سامنا اس طیارے کو ہوا، ویسی شکایات گزشتہ چند ماہ سے متعدد ایئر لائنز کے پائلٹ اپنی لاگ بکس میں درج کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھی حادثے کی حتمی وجہ ثابت نہیں کی جا سکتی۔
چونکہ حادثے کی جگہ پاکستان اور بھارت کے بین الاقوامی سمندری سرحدی علاقے سے نسبتاً قریب واقع ہے، اس لیے مختلف حلقوں میں کئی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، لیکن ایوی ایشن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بلیک باکس کی بازیابی سے پہلے کسی بھی امکان کو حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک ہر دعویٰ محض ایک مفروضہ ہی تصور کیا جانا چاہیے۔ حادثے کی تحقیقات میں شامل سابق سینئر پائلٹ اور ایروناٹیکل انجینئر جاوید کے مطابق بلیک باکس ہی یہ واضح کرے گا کہ طیارے میں آخری لمحات میں کیا ہوا، کون سا نظام متاثر ہوا اور عملے نے کس طرح صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم طیارے کی مرمت، پرزوں کی تبدیلی، مینٹیننس ریکارڈ، فلائٹ فٹنس، کنٹرول سینسرز، ایئر پریشر سسٹمز اور دیگر تمام تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ بوئنگ 737 کارگو طیارہ مرمت کے لیے چند روز قبل شارجہ بھیجا گیا تھا اور مرمت مکمل ہونے کے بعد خالی فیری فلائٹ کے ذریعے کراچی واپس آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق طیارے کی دیکھ بھال ایک نجی کمپنی کے ذمہ تھی، جبکہ بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن نے ایئر لائن کے متعلقہ دفاتر سیل کر کے تمام ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ تحقیقات میں ہر پہلو کا جائزہ لیا جا سکے۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ تقریباً 35 ہزار فٹ کی بلندی پر معمول کے مطابق پرواز کر رہا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے اچانک سمت تبدیل کی، تیزی سے بلندی کھونا شروع کی اور چند ہی منٹوں میں ریڈار سے غائب ہو گیا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کے مطابق طیارے نے نیوی گیشن کے مسئلے کی اطلاع ضرور دی تھی، لیکن بعد میں متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود عملے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اورماڑہ سے جنوب میں گہرے سمندر سے طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے، جبکہ عملے کے پانچوں ارکان کی تلاش اور بلیک باکس کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ مون سون کے باعث سمندر میں شدید طغیانی، کم حدِ نگاہ اور گدلے پانی نے سرچ آپریشن کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث تحقیقات کا سب سے اہم مرحلہ ابھی باقی ہے۔ ماہرین کے بقول فضائی حادثات کی تاریخ بتاتی ہے کہ بلیک باکس کی معلومات ہی کسی بھی حادثے کے اصل اسباب سامنے لاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس حادثے کے بارے میں موجود تمام سوالات کا جواب بھی اسی تحقیقاتی عمل سے ملے گا۔ جب تک بلیک باکس سے حاصل ہونے والے شواہد سامنے نہیں آتے، اس المناک حادثے کی وجوہات کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔
