افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگردی کا ہیڈکوارٹر کیسے بنا؟

طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگردی کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو جنگجوؤں کی بھرتی، تربیت اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی، داعش خراسان کی سرگرمیاں، خواتین کے حقوق پر سخت پابندیاں اور انسانی بحران خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک کے سینٹر فار پریونٹیو ایکشن کے گلوبل کنفلکٹ ٹریکر کی 6 جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق طالبان اپنی سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے افغانستان پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیمیں افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جہاں جنگجوؤں کی بھرتی، عسکری تربیت اور مختلف ممالک میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
رپورٹ میں افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے مطابق لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی بدستور برقرار ہے، خواتین کے لیے محرم کے بغیر سفر پر پابندیاں نافذ ہیں اور عوامی مقامات پر مکمل پردے سے متعلق سخت قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ افغان عوام ایک جانب سخت سماجی پابندیوں اور دوسری جانب دہشتگرد حملوں کے مسلسل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان سے مبینہ کارروائیوں کے جواب میں طالبان کے عسکری اہداف پر فضائی حملے کیے، جنہیں 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست بڑی فوجی جھڑپوں میں شمار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔سی ایف آر کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2025 پاکستان کے لیے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جس میں تنازعات سے متعلق ہلاکتوں میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی تعداد 3 ہزار 400 سے تجاوز کر گئی۔ رپورٹ کے مطابق چین نے ارومچی میں مذاکرات کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی، تاہم ابھی تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اب بھی افغانستان اور خطے میں بڑے دہشتگرد حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ افغان شہری انسانی امداد کے محتاج تھے، جبکہ ملک کی 28 فیصد سے زائد آبادی غذائی قلت کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی، سرحدی استحکام، دہشتگردی کے خطرات اور انسانی بحران سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے اور مختلف ممالک افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ دہشتگردی، انسانی حقوق اور انسانی امداد جیسے اہم معاملات پر مربوط حکمت عملی اختیار کرے۔اگرچہ طالبان حکومت متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم امریکی تھنک ٹینک کی اس رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور دہشتگردی سے متعلق بین الاقوامی خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔ آئندہ مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ علاقائی ممالک اور عالمی برادری ان خدشات سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
