کیا پاکستان دوبارہ ایران اور امریکہ کی جنگ رکوا پائے گا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرتی فوجی کشیدگی نے عالمی امن کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دونوں فریقین کی جانب سے معمولی سی غلطی بھی پوری دنیا کو بھگتنی پڑ سکتی ہے۔ امریکی فوجی کارروائیوں، ایرانی جوابی اقدامات، آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تاہم اس صورتحال میں پاکستان، قطر اور عمان کی جانب سے جاری سفارتی سرگرمیوں نے ایک نئی امید بھی پیدا کی ہے کہ شاید جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ کیا یہ ممالک اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا کر دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچا سکیں گے۔ تازہ کشیدگی تب سنگین صورت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی عمل اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں عالمی جہازرانی میں رکاوٹیں برقرار رکھیں تو امریکہ مزید سخت فوجی اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی کارروائیوں میں ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جواباً ایران نے خلیجی خطے میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے اپنی جوابی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
اگرچہ دونوں ممالک کی عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مکمل جنگ اب بھی کسی فریق کی پہلی ترجیح نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سخت بیانات کے ساتھ یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو امریکہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کرے گا۔ مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی حکمت عملی زیادہ سے زیادہ فوجی دباؤ ڈال کر مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کرنے کی کوشش پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں یا فوجی دباؤ کے تحت کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ تہران سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کر رہا، لیکن کسی بھی نئے معاہدے کی بنیاد باہمی اعتماد، اقتصادی پابندیوں میں حقیقی نرمی، امریکی وعدوں کی عملی پاسداری اور ایران کی خودمختاری کے احترام پر ہونی چاہیے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی زور دیا ہے کہ قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اسی دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی معیشتe کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دنیا کی تیل کی بڑی ترسیل اسی بحری راستے سے ہوتی ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے بلکہ عالمی سپلائی چین، بحری تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے کہیں آگے پوری عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی اپیل کی ہے۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارت کاری، باہمی احترام اور مسلسل رابطوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ اسلام آباد نے اپنا مثبت اور متوازن سفارتی کردار جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کے درمیان اس بحران پر مسلسل مشاورت جاری ہے، جبکہ عمان بھی اپنی روایتی غیر جانبدارانہ سفارت کاری کے ذریعے اعتماد سازی کی کوششوں میں شریک ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کی خواہش ہے کہ موجودہ بحران وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو اور امریکہ و ایران کو دوبارہ براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ پاکستان کی ان کوششوں کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد گزشتہ کچھ عرصے سے علاقائی تنازعات میں فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے ایران، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک ایسے ممکنہ رابطہ کار کی حیثیت دیتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ قطر بھی ماضی میں متعدد حساس بین الاقوامی تنازعات میں کامیاب ثالثی کا تجربہ رکھتا ہے۔
ادھر ایران نے بھی سفارتی رابطوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، عمان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی حکام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی رجوع کرتے ہوئے امریکی کارروائیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور واضح کیا کہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران اپنے دفاع کاو حق استعمال کرے گا۔ علاقائی سطح پر ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور دیگر اہم ممالک بھی پس پردہ سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ بحران کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں، سرمایہ کاری، بحری نقل و حمل اور بین الاقوامی سلامتی کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران میں پاکستان اور قطر کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ قبول سفارتی فریم ورک تشکیل دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ دونوں ممالک کی سفارت کاری اس وقت اعتماد سازی، رابطوں کے تسلسل اور ممکنہ مذاکراتی ماحول پیدا کرنے پر مرکوز ہے، تاہم حتمی فیصلہ امریکہ اور ایران کی سیاسی قیادت ہی کرے گی۔
ایرانی نژاد امریکی تجزیہ کارs ولی نصر کے مطابق خطے میں جنگ کا خطرہ اب بھی برقرار ہے کیونکہ تہران میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو مزید محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ شدید عسکری دباؤ کے باوجود دونوں ممالک مکمل جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں نہ صرف پورا مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط سمیت متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان، قطر اور عمان جیسے ممالک کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کتنی لچک دکھاتے ہیں۔ اگر دونوں فریق سفارتی کوششوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو جنگ کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں، تاہم اگر فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو کسی بھی ثالثی کی کامیابی مشکل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت جنگ اور سفارت کاری کے درمیان ایک انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب فوجی کارروائیاں، سخت بیانات اور طاقت کا مظاہرہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آنے والے چند دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا سفارت کاری بندوقوں پر غالب آتی ہے اور دنیا ایک نئی تباہ کن جنگ سے بچ جاتی ہے، یا پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز ثابت ہوگی۔
