امریکی صدر نے اب تک عمران خان کو فون کیوں نہیں کیا؟

اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے امریکہ کی صدارت سنبھالنے کے پانچ ماہ بعد بھی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہیں کیا جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ ماضی میں نئے امریکی صدور حلف لینے کے چند ہفتوں کے اندر ہی پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کر لیا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ جو بائیڈن کے برعکس صدر ٹرمپ نے حلف اُٹھانے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ٹیلی فون کر دیا تھا۔ اس فون کال نے عالمی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی تھی جس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوران گفتگو نواز شریف کو ایک ”حیرت انگیزآدمی” قرار دینا تھا۔
تاہم جو بائیڈن کے جنوری 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کا وزیر اعظم عمران خان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا حالانکہ انکی انتظامیہ پاکستانی عسکری حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ تاحال بائیڈن کا عمران خان سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ پاکستان کے بارے امریکہ کی ”اندرونی جائزہ رپورٹ” کی تیاری ہے جو ابھی مکمل نہیں ہو پائی۔ امریکی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ رابطے سے قبل امریکی صدر اس اندرونی جائزے کی رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ کی تیاری کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ نئے صدر جو بائیڈن پاکستان کے ساتھ ”تعصب آمیز” رویہ نہیں رکھنا چاہتے ۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ بھی تقریبا ویسا ہی رویہ اپنایا ہے جیسا کہ سعودی حکمرانوں کے ساتھ اپنا رکھا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ریپبلکن پارٹی کے برعکس ڈیموکریٹ جماعت نہ تو سعودی عرب جیسی آمرانہ بادشاہت کو پسند کرتی ہے اور نہ ہی پاکستان جیسی نیم فوجی جمہوری حکومتوں کو، لہازا بائیڈن کے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ویسے خوشگوار تعلقات نہیں ہیں جیسے کہ ترمپ دور حکومت میں ہوتے تھے۔
خیال رہے کہ جو بائیڈن نے 20 جنوری 2021ء کو صدارتی حلف اٹھایا تھا اور امریکہ کے 46 ویں صدر بنے تھے۔ جوبائیڈن سے قبل امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر کملا ہیرس نے اپنے منصب کا حلف اٹھایا۔ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے ماضی میں بطور نائب صدر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی حکومتوں کے دوران آصف زرداری اور نواز شریف سے ذاتی تعلقات رہے ہیں جب کہ عمران خان سے ان کی کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور شاید اس لیے بھی انہوں نے پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
بحر حال وجہ جو بھی ہو سچ یہ ہے کہ پاکستانی عوام اور ہمارے حکمران شروع سے ہی امریکا کی سرپرستی اور آشیرباد کو باعث فخر سمجھتے آئے ہیں۔ ہمارے ملک کے کئی دہائیوں پر محیط تعلقات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ امریکا نے شروع سے ہی ہمیں ڈومور کی گردان سنائی ہے جبکہ ہم اس کا کہا مان مان کر اپنی انا اور عزت نفس کا سودا کرتے آئے ہیں۔ لیکن اب وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید پاکستانی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے سی آئی اے کے سربراہ سے ملنے سے انکار کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے چیف ولیم برنس نے اپریل کے آخر میں خفیہ طور پر پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن عمران خان نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ صرف امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے۔ کہا جا رہا یے سی آئی اے کے سربراہ امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلاء سے پہلے پاکستان میں فضائی اڈے حاصل کرنے کے لیے عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ تاہم وزیراعظم شاید یہ سمجھتے ہو کہ اتنا بڑا فیصلہ انہیں صرف امریکی صدر کی درخواست پر ہی کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں جہاں دو طرفہ تعلق اہمیت کا حامل اور ہمیشہ ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، وہیں اس تعلق میں گذشتہ 50 سال سے افغانستان کی صورت حال نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی امریکی صدر جب اپنے انتخاب کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے تو وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ لازمی کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رابطہ ایک سفارتی کال سے آگے نکل کر روایت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
بل کلنٹن، جارج بش، براک اوبامہ ہوں یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ، سبھی نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کیا اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی۔
امریکی صدر ٹرمپ کے انتخاب کے وقت پاکستان میں ان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں پایا جاتا تھا، لیکن جب انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر پہلا رابطہ کیا تو انھوں نے پاکستان کو عظیم ملک اور پاکستانی قوم کو شاندار قوم قرار دیا تھا۔  موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کو اقتدار سنبھالے کم و بیش چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ امریکہ اور افغان طالبان مذاکرات کے بعد انٹرا افغان مذاکرات میں بھی پاکستان سے کردار ادا کرنے کا کہا جا رہا ہے جبکہ انخلا کے لیے بھی پس پردہ پاکستان سے مدد مانگی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے دوست سمجھے جانے والے جو بائیڈن نے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہیں کیا۔ اس رابطے میں تاخیر کی وجہ سے سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
دفاعی و سفارتی ماہرین اس رابطے میں تاخیر کی بہت سی وجوہات بتاتے ہیں جن میں سب سے اہم امریکہ کا انڈیا کی طرف جھکاؤ، پاک امریکہ تعلقات کا اندرونی جائزہ اور افغانستان سے انخلا میں پاکستان سے تعاون کے حوالے سے پیش رفت اور دیگر عوامل شامل ہیں۔
پاک امریکہ تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ’امریکی صدور کی جانب سے آنے والی کال ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت ہی آتی ہے۔ پاکستان کو اس کال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں چین، روس اور سعودی عرب کو اہمیت دینی چاہیے۔ یہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔‘
مشاہد حسین سید نے کہا کہ ’امریکی صدر کی کال کی اہمیت ضرور ہوتی ہے لیکن یہ نظریہ ضرورت کے تحت آتی ہے۔ جب جنرل مشرف کی حکومت تھی تو کلنٹن چھ گھنٹے کے لیے آئے، انھوں نے کہا کہ ’میری کوئی فوٹو نہ کھینچے، ان کے ساتھ۔ 1977 میں جمی کارٹر امریکی صدر تھے اور جنرل ضیا الحق پاکستان کے صدر تھے۔ امریکی صدر ایران گے، انڈیا گے لیکن پاکستان آئے ہی نہیں اور جب افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ ہوا تو وہ آگئے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کے پاکستان سے شاید کچھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وہ شاید فوجی سطح پر ہو رہے ہیں۔ سکیورٹی سطح پر ہو رہے ہیں۔ ابھی سی آئی اے چیف بھی ادھر آیا ہوا تھا۔ بلنکن جو ہے ان کا وزیر خارجہ اس نے بھی کچھ کالز کی ہیں۔ تو ابھی کچھ چیزیں وہ سیٹل کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں جب کوئی ٹھوس بات نکلے گی تو کال بھی آجائے گی۔‘
مشاہد سمجھتے ہیں کہ ’دنیا بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ اب امریکی فون کال کی وہ اہمیت نہیں رہی جو شاید 20 سال پہلے یا 30 سال پہلے تھی۔ جب امریکہ اپنے آپ کو واحد سپر پاور کہتا تھا۔ اب شاید شی چن پنگ کی کال، پیوٹن کی کال یا محمد بن سلمان کی کال پاکستان کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکہ کی بھی اہمیت ہے لیکن اب وہ بات وہ دبدبہ وہ رعب نہیں جب وہ سپر پاور تھی۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’بائیڈن پنجابی میں کہتے ہیں ناں کہ بندہ چنگا ہیگا۔۔کھلا ڈھلا پاکستان کا دوست ہے اور پاکستان کو جانتا ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں کو بھی جانتا ہے اور اس نے پاکستان کے لیے کیا بھی ہے۔ کیری لوگر بل بھی ڈرافٹ اس نے کیا اور آنا جانا بھی رہا ہے۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ بائیڈن امریکی اسٹیبلشمنٹ کا بھی نمائندہ ہے۔ وہ 48 سال سے واشنگٹن ڈی سی میں سینیٹر رہا ہے۔ وہ اتنا آزاد کردار نہیں ہے۔ میں اس سے کوئی منفی چیز کی توقع نہیں کر رہا کیونکہ اس کی مجموعی سوچ مثبت ہے۔‘ انھوں نے پاکستان کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ ‘اگر امریکی صدر کی کال نہیں آرہی تو ہمیں اس میں گھبرانا بھی نہیں چاہیے کہ بائیڈن کی کال آئے گی اور ہم فون کے ساتھ بیٹھے رہیں کہ کب آئے گی۔ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے۔ امریکہ 20 سال سے پھنسا ہوا ہے۔ وہ ہماری مدد چاہتا ہے ہماری فوج، حکومت ریاست اور انٹیلی جینس کی مدد چاہتا ہے۔ وہ 20 سال کی ناکام جنگ کے بعد افغانستان سے باعزت انخلا چاہتا ہے اور وہ باعزت رخصتی پاکستان دے سکتا ہے۔‘ امریکہ کی جانب سے پاکستان میں اڈوں کے مطالبے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’یہ 2021 کا پاکستان ہے، اڈے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ اس کی اجازت نہیں دے گی، پاکستان کے عوام اجازت نہیں دیں گے۔ میرے خیال میں حکومت ہو یا اسٹیبلشمنٹ وہ اس قسم کا سودا نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے۔‘
تاہم اس معاملے پر امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ کہ اعلیٰ قیادت کے درمیان اب تک رابطہ ہو جانا چاہیے تھا بالخصوص افغانستان کی صورت حال کے تناظر میں، تو ہر سطح پر بالخصوص اعلیٰ سطح پر زیادہ سے زیادہ رابطے ہونے چاہیے تھے۔ یہی دونوں ملکوں اور خطے کے مفاد میں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک بائیڈن کی کال میں تاخیر کا تعلق ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ بہت مصروف ہیں یا پھر ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بائیڈن پاکستان کے اچھے دوست ہیں۔ وہ پاکستان آتے رہے ہیں۔ ان کو اب بھی پاکستان کے ساتھ ویسا ہی رابطہ رکھنا چاہیے جیسا اوبامہ دور میں تھا۔‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اڈے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پاکستان نے اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہے۔ پاکستان اگر انکار کرتا ہے تو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے امریکہ کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘
دفاعی امور کی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے امریکی صدر کی جانب سے عمران خان سے رابطہ نہ کرنے کی تین وجوہات کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’بائیڈن انتظامیہ پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی حامی ہے۔ وہ بل کلنٹن دور میں امریکہ انڈیا سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو جو فروغ دیا اس کے ردعمل میں بھی پاکستان سے دوری اختیار کی جا رہی ہے۔ دوسرا سی آئی اے کے اڈوں کو پاکستان منتقل کرنے کی امریکی خواہش کی عدم تکمیل بھی اس کی بڑی وجہ ہے جبکہ پاکستان بنا کسی کنٹرول کے اپنے مفاد اور دیگر علاقائی ممالک کی وجہ سے ان اڈوں کی اجازت نہیں دے گا۔ ایسا کرنے سے افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کا مثبت کردار پس پشت چلا جائے گا اور پاکستان میں تیسری جنگ چھڑ جائے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’امریکہ پاکستان کے اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور جاری معاشی تعاون پر بھی قدغن لگانا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں۔ تاہم پاکستان نے جس دن کسی ایک مسئلے پر بھی امریکی بات مان لی اسی دن بائیڈن کی کال آجائے گی۔

Back to top button