امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہوں.
ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے وفود بھی موجود تھے۔
ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کےموقع پر عمران خان نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ کے ساتھ دوبارہ مل کر خوشی ہوئی۔‘ اس موقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم کشمیر کی صورت حال پر بات کریں گے۔‘ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے ساتھ افغانستان کی صورت حال پر بھی بات ہوگی۔‘ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عمران خان نے امریکی صدر کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی کہا کہ ’پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔‘صدر ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں عمران خان کی طرف سے پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔
اس سے قبل گذشتہ سال 22 جولائی کو عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور عمران خان کے درمیان ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا ہے کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر معاونت کرے، انہیں مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اس کے بعد ستمبر 2019 میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر مسئلہ کمشیر پر ثالثی کی پیش کش کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
