امریکی صدر کا فون نہ آنا ایک مذاق کیسے بنا؟

http://https://www.youtube.com/watch?v=96MyWZfStpA
امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو فون نہ کرنے کا پاکستانی گلہ اب ایک مذاق کی صورت اختیار کر گیا ہے جسکی بنیادی ذمہ داری معید یوسف جیسے نا پختہ اور ناتجربہ کار نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کرنے والے وزیر اعظم عمران خان پر عاٸد ہوتی ہے۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ باٸیڈن کی فون کال کا نہ آنا اب ایک مذاق بن گیا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس معاملے کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے انٹرویو سے جڑا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اخبار نے انٹرویو کی سب سے بڑی خبر امریکہ سے اب تک نہ آنے والی ٹیلیفون کال کے معاملے کو بنایا ہے۔ شہ سرخی بھی اسی کی بنائی۔ پاکستان میں فون کال کا انتظار کرنے والوں پر اب یہ تنقید ہو رہی ہے کہ کیا ایک جوہری طاقت کع فون کال نہ آنے پر اتنی پریشانی ہونی چاہیۓ؟ پھر اگر پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر امریکی صدر کی فون کال نہ بھی آئے تو ہمارے پاس بہت ساری اور بھی آپشنز ہیں تو پھر ناراضگی اور پریشانی کیوں؟
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان بھی ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران جوبائیڈن کے فون کال نہ آنے پر گفتگو کر چکے ہیں۔ امریکی اینکر نے عمران خان کے انٹرویو کے دوران سب سے پہلے جو بائیڈن کی ٹیلیفون کال کی بات کی۔ 21 جون کے انٹرویو میں اینکر وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں کہ جو بائیڈن کی آپ سے بات ہوئی؟ وزیراعظم نے کہا نہیں۔ آگے سے وہ پھر پوچھتے ہیں تو وزیر اعظم کہتے ہیں کہ امریکی صدر کی ترجیحات اور ہیں اور ’جب وہ مجھ سے بات کریں گے تو میں بات کر لوں گا۔‘
بہرحال یہ بات آگے بڑھی۔ 25 جون کو جیو کے اینکر شاہ زیب خانزادہ نے اپنے انٹرویو میں یہی سوال معید یوسف سے پوچھا کہ جو بائیڈن نے ابھی تک وزیر اعظم سے بات نہیں کی؟ معید نے کہا کہ نہیں ابھی تک بات نہیں ہوئی۔ گڈ لک جو بائیڈن کو اور یہ کہ پاکستان میں کوئی ان کی کال کا انتظار نہیں کر رہا۔
پھر اسی انٹرویو میں انہوں نے شکایت بھی کی کہ افغانستان پر پاکستان اور امریکہ کو جس رابطے اور تعاون کی ضرورت ہے وہ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی خبر بھی انہیں میڈیا سے ملی تھی۔ ’ہمیں انہوں نے بتایا نہیں تھا۔‘ البتہ انہوں نے فون کال کے بارے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ اب بات آتی ہے معید یوسف کے اگست 3 کے فنانشل ٹائمز کے انٹرویو میں معید نے کہا کہ اگر ان کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایک سکیورٹی تعلق ہونےکے باوجود عمران خان کو کال کرنا کوئی بہت بڑی رعایت دینے کے مترادف یے تو یہ بڑی عجیب بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کا اسی طرح کا رویہ رہا تو پاکستان کے پاس اور بھی راستے ہیں۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ امریکہ کے صدر نے اتنے اہم ملک کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی جس کے بارے میں خود امریکہ کہتا ہے کہ وہ افغانستان میں کچھ معاملات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چنانچہ اب فون کال کا معاملہ ایک بڑا معاملہ بن گیا ہے خصوصا جب جیو کے انٹرویو میں بھی معید نے کہہ دیا کہ ’گڈ لک جی اگر آپ کال نہیں کرتے تو آپ کا اپنا مسئلہ ہے ہم انتظار نہیں کر رہے۔ نسیم زہرہ کے مطابق یہ بات میڈیا کے لیے ایک بڑی خبر بنتی ہے۔ وہ بڑے سرکاری عہدیدار ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے بھی اسی وجہ سے اس بات کو خبر اتنی بڑی خبر بنا دیا۔ جب انٹرویو کی یہ خبر ایک بہت بڑی خبر بن گئی اور اس پر کچھ تنقید ہوئی تو ڈاکٹر معید یوسف نے یو ایس آئی پی میں تقریر کے بعد ایک سوال پر کہا کہ ’مجھے کبھی کبھی میڈیا کے کام کرنےکے طریقے کی سمجھ نہیں آتی۔‘ اس بات سے ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں میں کوئی فون کال پہ بات کر رہا ہوں۔ میں اصل امور پر بات کر رہا ہوں۔‘ انہوں نے اس کو بھی رد کر دیا کہ یہ سوال بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ نسیم کہتی ہیں کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بات انہوں نے ذہن نشین کر لی ہوتی کہ جب آپ اس اہم عہدے پر ہوتے ہیں اور جو بھی آپ بات کرتے ہیں اور جہاں بھی کرتے ہیں اس کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ پالیسی کا حصہ بن جاتی ہے۔ معید یوسف نے بھی جو بات کی وہ ایک پالیسی میکر کی سوچ کی عکاسی کر رہی تھی۔ جب بات اور آگے بڑھی اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیے ابھی بہت سے اور اہم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بھی امریکی صدر نے بات نہیں کی لیکن وہ درست وقت پر پاکستان سے بات کر لیں گے ۔ لیکن نسیم زہرہ کے مطابق فون کال اہم نہیں بلکہ ملکی وقار ذیادہ اہم ہوتا ہے۔ انکے خیال میں فون کال کی کہانی کا سبق یہ ہے کہ ناپ تول کے بات کرنے کی ضرورت ہے، بہت سوچ سمجھ کے بعد سمجھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ نیشنل سکیورٹی جیسے اہم اور حساس معاملات کو ڈیل کرنے کے لئے پختہ اور تجربہ کار لوگوں کو ذمہ داری دی جانی چاہیے۔امریکہ اور پاکستان تعلقات پیچیدہ اور مشکلات کا شکار ہیں۔ لہازا اس وقت کس طرح بات کی جائے کہاں کی جائے اور کیا بات کی جائے اس پر ہر ایک کو نظر رکھنی ہے اور ایک ڈسپلن کے تحت چلنا ہے۔ آپ جس بھی عہدے پر فاٸز ہیں سفارتی بات چیت کا ایک طریقہ ہوتا ہے اس لیے الفاظ کو بہت ناپ تول کے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
