امریکی CIA نائن الیون حملے روکنے میں ناکام کیوں ہوئی؟

جب 1996 میں اسامہ بن لادن نے تورا بورا کے ایک غار سے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو سی آئی اے کے سینئر افسران نے اس دھمکی کو سنجیدگی سے اس لیے نہیں لیا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ آگ کے الاو کے سامنے بیٹھا داڑھی والا یہ لمبے قد کا سعودی باشندہ کسی بھی صورت امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ سی آئی اے کی اعلی قیادت کو بن لادن زمانہ قدیم کا کوئی انسان لگا جس سے کوئی سنجیدہ خطرہ محسوس نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تاہم امریکی سی آئی اے کی یہ غلط فہمی پانچ برس بعد ہونے والے نائن الیون حملوں میں تین ہزار سے زائد امریکی شہریوں کی جان لے گئی۔
صدر کلنٹن کی انتظامیہ میں اہم ترین ذمہ داری انجام دینے والے رچرڈہالبروک امریکی سی آئی اے کی اس سنگین غلطی کو یوں بیان کرتے ہیں:
’اسامہ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ حکام کی جانب سے کہا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ غار میں بیٹھا ایک شخص دنیا کے سرکردہ مواصلاتی معاشرے کو بے رابطہ کر دے۔‘ تاہم ایسا کہنے والے یہ بھول گئے کہ اسامہ بن لادن کوئی معمولی آدمی نہیں تھا بلکہ سعودی عرب کے سب سے امیر بن لادن خاندان کا چشم و چراغ تھا جس نے سعودی عرب پر امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے خلاف بغاوت کی اور پھر ملک بدر کر دیا گیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اسامہ کو بطور ایک قابل دشمن انڈر اسٹیمیٹ کرنا سی آئی اے کی پہلی بڑے غلطی قرار دیا گیا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ آگ کے آلاؤ کے سامنے بیٹھے اس شخص کو اسلامی تاریخ کا علم نہ رکھنے والے امریکی انٹیلی جنس افسران نے ثقافتی وجوہات کی بنیاد پر بھی اہمیت نہیں دی اور نظرانداز کیا۔ انہیں اسامہ کی صورت میں صرف ایک بدھو عرب بدو نظر آیا جو کہ زمانہ قدیم کی ایک غار میں چھپا بیٹھا تھا۔ اگر سی آئی اے والوں کی دین اسلام سے تھوڑی سی بھی شناسائی ہوتی تو وہ جانتے کہ غار مسلمانوں کے لیے کتنی زیادہ بامعنی ہے۔ جیسا کہ سب مسلمانوں کو پتہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے مکہ کے ظالموں سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ لے لی تھی۔ یوں ایک مسلمان کے لیے غار مبارک جگہ تصور کی جاتی ہے۔
چنانچہ بن لادن نے تورا بورا میں اپنے قیام کو اپنی نجی ہجرت کے طور پر ماڈل کیا اور غار کو ایک پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ جیسا کہ بن لادن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پرانے خیالات نہیں رکھتے تھے، وہ حکمتِ عملی بنانے والے سٹریٹیجسٹ تھے اور انھیں معلوم تھا کہ کب، کیا اور کیسے کرنا ہے۔ سی آئی اے کی سوچ میں ایک اور نقص یہ غلط فہمی رکھنا تھا کہ اسماہ بن لادن امریکہ کے خلاف لڑائی شروع نہیں کریں گے۔ یہ سوچا گیا کہ وہ ایسی جنگ ہی کیوں شروع کریں گے جو وہ جیت نہیں سکتے؟ دراچل امریکیوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ جہادیوں کے لیے فتح زمین پر نہیں بلکہ جنت میں حاصل کی جاتی ہے۔ اس منصوبے کے لیے القاعدہ کا کوڈ ’دی بگ ویڈنگ‘ یعنی ’بڑی شادی تھا۔‘ خود کش بمباروں کے نظریے کے مطابق شہادت کا دن ان کی شادی کا دن بھی ہوتا ہے جب جنت میں حوریں انھیں خوش آمدید کہتی ہیں۔
نائن الیون حملے روکنے میں امریکی سی آئی اے کی ناکامی پر تبصرہ کرنے والے کہتے ہیں کہ سی آئی اے کو چاہیے تھا کہ وہ القاعدہ پر تحقیق کے لیے زیادہ وسائل مختص کرتی۔ وہ ان میں شامل ہونے اور انکا مائنڈ سیٹ سمجھنے کی کوشش کرتی لیکن وہ اس کی فوری ضرورت سمجھنے سے قاصر رپے۔ سی آئی اے نے القاعدہ نیت ورک میں خفیہ طور پر شامل ہونے کا خیال اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے تجزیے میں پائی جانے والی کمی سے لاعلم تھے۔ سی آئی اے میں مسلمان اہلکاروں کی واضح کمی تھی جو جہادیوں کا روپ دھار کر القاعدہ کے اندر تک گھس جاتے۔ اور اس کمی کا خمیازہ امریکی عوام کو نائن الیون کے روز بھگتنا پڑا۔ سی آئی اے کی قیادت نے نائن الیون حملوں کے بعد اس تسلیم کیا کہ اگر ان کے ادارے میں متنوع مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی کمی تھی ورنہ نہ صرف القاعدہ بلکہ دنیا بھر میں دیگر خطرات کو بھی بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا تھا۔
خیال رہے کہ آج بھی سی آئی اے میں افسران کی بڑی تعداد کا تعلق سفید فام مڈل کلاس خاندانوں سے ہے جنھوں نے زندگی میں کم ہی باہر نکل کر دنیا دیکھی ہے اور زمانے کی مشکلات کا سامنا کیا ہوتا ہے۔
لیکن ایسا صرف سی آئی اے کے ساتھ نہیں ہے، یہ ٹرینڈ امریکہ کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتا ہے۔ تاہم
9/11 سانحے کے بعد سی آئی اے نے خود کو ایک متنوع ایجنسی بنانے کی طرح قدم بڑھائے ہیں لیکن ابھی اس حوالے سے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ 2015 میں سی آئی اے کی ایک اندرونی رپورٹ میں بھی ایجنسی پر بہت زیادہ تنقید کی گئی تھی اور اسے متنوع بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر سی آئی اے جان برینن نے کہا تھا کہ ’سٹڈی گروپس ہماری ایجنسی پر بہت تنقیدی نظر رکھنے کے بعد اس واضح نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سی آئی اے کو چاہیے کہ وہ متنوع اور ملانے والی قیادت کا ماحول پیدا کرے جو ہماری اقدار چاہتی ہیں اور ہمارا مشن جن کا مطالبہ کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ اگر نائن الیون حملوں کے وقت امریکی سی آئی اے میں متنوع مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے افسران مناسب تعداد میں موجود ہوتے تو شاید ان حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔
