اورنج لائن اسٹیشن پر حادثہ کیسے پیش آیا؟

لاہور میں بدھ اور جمعرات کی درمیان شب اورنج لائن ٹرین کے شالیمار اسٹیشن کے نیچے ہونے والے حادثے پر سوشل میڈیا میں یہ بحث چل نکلی کہ ’جلد بازی اور ناقص تعمیر سے یہ حادثہ پیش آیا۔‘
مقامی میڈیا نے پہلے رپورٹ کیا کہ اورنج لائن ٹرین کے شالیمار اسٹیشن کے قریب پلر گرگیا ہے جس سے ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ ضلعی حکومت کے ترجمان نے بتایا ’اصل میں یہ واقعہ ایسا نہیں ہوا جیسے میڈیا پر رپورٹ کیا گیا۔ شالیمار اسٹیشن پر کچھ کنسٹرکشن کا کام چل رہا تھا۔ جس میں ایک بھاری بھر کم لوہے کا پلر پل کے نیچے لگایا جا رہا تھا جو اس مقصد کےلیے تھا کہ ایک خاص حد سے زیادہ اونچی گاڑیاں یہاں سے آگے نہیں جا سکتیں۔‘ ترجمان نے بتایا کہ بدقسمتی سے جب اس پلر کا ایک حصہ لگایا جا چکا تھا اور دوسرا حصہ لگایا جا رہا تھا تو عین اسی وقت ایک بڑا ٹرالر جس کی اونچائی اس سے زیادہ تھی جو حد مقرر کی گئی ہے۔ کنسٹرکشن ورک کے دوران ہی وہ ٹرالر ٹکرایا اور لوہے کا پلر نیچے گرگیا اور ٹرالر کے پیچھے آنے والی کار اس کی زد میں آ گئی۔ ترجمان ضلعی حکومت کے مطابق اس حادثے کا تعلق پہلے سے مکمل ہو جانے والی تعمیرات سے ہر گز نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پلر اسٹیشن کی بلڈنگ سے دو فٹ نیچے لگایا جا رہا تھا جب کہ تیرہ فٹ سے اونچی گاڑیوں کے یہاں سے گزرنے کی ممانعت ہے۔ تھانہ شالیمار پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ٹرالر کے ڈرائیور کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حادثے میں ایک کار مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے تاہم اس میں سفر کرنے والے دو افراد حیران کن طور پر محفوظ رہے۔
خیال رہے کہ اورنج ٹرین کا منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہوا ہے اور اس کی تعمیر کے دوران مختلف حادثات میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔
اورنج لائن ٹرین کا کل ٹریک 27 کلومیٹر لمبا ہے جس میں سے 25 کلومیٹر ٹریک پلرز پر معلق پل ہے اور دو کلومیٹر زیر زمین ہے۔
