آمروں کے سامنے ڈٹ جانیوالے نڈر وکیل لطیف آفریدی

16 جنوری 2023 کو پشاور ہائی کورٹ بار میں قتل ہو جانے والے 80 سالہ معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر لالہ لطیف آفریدی ان چند وکیل رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ساری زندگی اصولوں کی خاطر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ ہر مارشل لا دور میں فوجی ڈکٹیٹرز کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں جیل گئے اور قید کاٹی، لالہ لطیف آفریدی کو محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم چلانے کی پاداش میں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے دور میں انھیں طالب علم رہنما کی حیثیت سے پابند سلاسل رکھا گیا، وہ بطور سیاسی کارکن سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی پانچ مرتبہ جیل گئے لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا، 2007 میں انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے لگائی جانے والی ایمرجنسی کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس دوران جب وہ 6 اکتوبر 2007 کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے گیٹ پر پُرامن احتجاج کر رہے تھے تو ایک بکتر بند گاڑی نے انھیں روند ڈالا تھا جس کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، چنانچہ وہ اپنی موت کے دن تک چھڑی کے سہارے عدالتوں میں پیش ہوتے تھے۔
لطیف آفریدی کے ساتھ کئی دہائیوں تک کام کرنے والے طارق افغان نے بتایا کہ وہ اپنے جونیئرز کے لیے ایک سایہ دار شجر تھے اور لالہ کے سائے تلے خود کو محفوظ اور خوش قسمت تصور کرتے تھے، وہ جونیئر وکلا پر غصہ تو کرتے تھے لیکن ان سے بے پناہ پیار بھی کرتے تھے۔ وہ وکلا کو کتابیں پڑھنے اور صاف ستھرا لباس پہننے کی تلقین کرتے تھے، ان کا ماننا تھا کہ ایک وکیل کو بہترین لباس میں رہنا چاہئے۔ انہوں نے ساری زندگی خود بھی بہترین لباس پہنا۔ طارق افغان نے بتایو کہ لطیف آفریدی ایک متوسط علاقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن انھوں نے وکلا کمیونٹی میں اپنا مقام بنایا جس کی بنیادی وجہ ان کی سخت محنت تھی۔
لالہ آفریدی 1968 میں گریجویشن کرنے کے بعد وکالت کے پیشے سے منسلک ہو گئے تھے۔ تین دہائیوں تک ہائیکورٹ میں وکالت کرنے کے بعد وہ 2006 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر رہنے کے علاوہ وہ چھ بار پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ پاکستان بار کونسل کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ممبر بھی رہے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقے ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے لطیف آفریدی کا سیاسی تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔۔وہ 1979 میں غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوئے جسکا بالآخر عوامی نیشنل پارٹی میں انضمام ہوا، لطیف آفریدی ایک مرتبہ رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے، کچھ عرصہ کے لیے وہ نیشنل عوامی پارٹی اجمل خٹک سے بھی وابستہ ہوئے لیکن پھر اے این پی کا حصہ بن گئے۔ لطیف آفریدی نے ہزاروں مزدوروں، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کے مقدمات بغیر فیس کے لڑے، ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں انسانی حقوق سے متعلق درخواستوں کی پیروی کرنے کے ساتھ پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف صوبہ خیبر پختونخوا میں جتنے بھی مقدمات درج ہوئے، ان میں سے زیادہ تر مقدمات کی پیروی لطیف آفریدی بغیر کوئی فیس وصول کیے کرتے رہے۔
