اٹک جیل میں عمران کو نواز شریف سے زیادہ سہولیات حاصل؟

پانچ اگست 2023 کوپی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد انہیں راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن انہیں حکومت کے سکیورٹی خدشات کے بعد اٹک کی ضلعی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔گرفتاری کے بعد عمران خان کی قانونی ٹیم انہیں جیل میں سہولیات کی فراہمی اور اڈیالہ جیل منتقلی کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے مسلسل پراپیگندا کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔  عمران خان سے کچھ روز قبل ملاقات کرنے والے ان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے بتایا کہ عمران خان کو اٹک جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں جس سیل میں رکھا گیا ہے اس کا سائز 11 ضربے نو فٹ ہے جبکہ سیل میں مشکل سے میٹریس رکھنے کی گنجائش ہے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان اپنے کپڑے خود دھوتے ہیں۔ واش روم میں شاور کی سہولت نہیں ہے اور نہانے کے لیے انہیں بالٹی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے کمرے کے قریب کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہیں چہل قدمی کرنے کی اجازت ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت کے ایک وکیل کے مطابق عمران خان کے لیے جیل انتظامیہ نے کھانے کے لیے الگ سے باورچی اور الگ برتن رکھے ہوئے ہیں۔ ایک میڈیکل افسر اور ایک ڈی ایس پی وہ کھانا چیک کرتا ہے اور اس کے بعد ہی انہیں کھانا دیا جاتا ہے۔جیل خانہ جات سے منسلک رہنے والے اہم عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ عمران خان کو اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں ایک کرسی، میز اور ساڑھے تین سے چار انچ موٹائی کا میٹریس یعنی گدا دیا گیا ہے۔ انہیں ایک مشقتی بھی فراہم کیا گیا ہے اور دو افسران متبادل شفٹوں میں عمران خان کی نگرانی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔یہ ساری مراعات اے یا بی کلاس کے ملزمان کو ملتی ہیں۔ عمران خان کو تاحال اے یا بی کلاس نہیں ملی لیکن چونکہ وہ ہائی پروفائل شخصیت ہیں، اس لیے انہیں یہ تمام سہولیات دی گئی ہیں۔جیل عہدیدار نے مزید بتایا کہ عمران خان کو علیحدہ سے باتھ روم کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے حالانکہ جیل میں سیل کے اندر ہی تین فٹ کی دیوار کی دوسری جانب یہ انتظام ہوتا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم کو دیے گئے باتھ روم کی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔

کیا عمران خان کو سی کلاس جیل میں رکھا گیا؟ اس سوال کے جواب میں جیل عہدیدار نے بتایا کہ ’اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں اے اور بی کلاس کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، وہ اور بات ہے کہ اس جیل میں زیادہ تر سی کلاس کے قیدی رکھے گئے ہیں۔‘جیل کی کلاسز کے بارے میں بات کرتے ہوئے عہدیدار نے مزید بتایا کہ ’بی کلاس بزنس کلاس کی طرح ہوتی تھی، جس میں چارپائی اور بیڈ سمیت بستر ملتا تھا۔ بی کلاس کے بعد سی کلاس میں میٹریس تب ملتا ہے، جب بیماری جیسا کوئی مسئلہ ہو۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے جیل میں گزارے گئے وقت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’شروع میں انہیں بستر نہیں دیا گیا تھا اور انہیں دو انچ کے میٹریس پر زمین پر سونا پڑا۔ وہ زمین پر سوتے تھے لیکن انہیں ایک کرسی مہیا کی گئی تھی۔‘

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل میں گزارے گئے وقت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیل عہدیدار نے بتایا کہ انہیں شروع میں ایئر کنڈیشنر (اے سی) نہیں دیا گیا تھا، تقریباً 15 روز بعد انہیں اے سی کی سہولت دی گئی تھی۔انہیں چار پائی پر میٹریس دیا گیا تھا۔ ان کے پاس ایک بریف کیس تھا جس میں ان کا سامان ہوتا تھا۔ ان کے گھر سے کپڑے استری ہو کر آیا کرتے تھے جبکہ کھانا بھی گھر سے آتا تھا۔لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مطابق ایئر کنڈیشن کی سہولت عدالت نے خصوصی طور پر نواز شریف کو ان کی بیماری کی وجہ سے دی تھی۔ ایئرکنڈیشن عموماً کسی بھی قیدی کو نہیں دیا جاتا۔

جیل خانہ جات سے منسلک رہنے والے عہدیدار نےبتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اٹک جیل میں ایک کمرہ دیا گیا ہے جو دیگر قیدیوں کے سیل کی طرح نہیں ہے۔جیل عہدیدار نے مزید بتایا کہ عمران خان کو علیحدہ سے باورچی مہیا کیا گیا ہے، انہیں اے سی کی سہولت مہیا نہیں کی گئی تاہم کولر فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایسی جگہوں کی حد بندی کی جاتی ہے جہاں کسی کا بھی آنا جانا نہیں ہوتا۔ سکیورٹی کی وجہ سے ایسی جگہ پر افسران کو بھی اجازت سے آنے دیا جاتا ہے جبکہ ایسی جگہوں پر پولیس اور رینجرز کے افسران تعینات ہوتے ہیں۔

Back to top button