خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر روشن ہوگا،ایرانی سپریم لیڈر

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر روشن ہوگا، تہران اور خلیجی ہمسایہ ممالک کا مقدر مشترکہ ہے، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
ریاستی میڈیا کی جانب سے جاری بیان میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آج، خطے میں دنیا کی سب سے بڑی مہم اور جارحیت کے 2 ماہ بعد اور امریکا کی اپنے منصوبے میں شرمناک ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نیا باب ابھر رہا ہے۔
یہ پیغام ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے نیشنل پرشین گلف ڈے کے موقع پر شائع کیا، جو 1622 میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی افواج کے انخلا کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز صدیوں سے “بہت سے شیطانوں کی لالچ” کا مرکز رہی ہے ۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی عوام نے اپنی آنکھوں سے ایرانی افواج کی ثابت قدمی، چوکسی اور بہادرانہ جدوجہد کے “خوبصورت مظاہر” دیکھے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کا روشن مستقبل “امریکا کے بغیر” ہوگا ، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خطے کے عوام کی ترقی، سکون اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔
ایران کے سپریم لیڈر نے خطے میں عدمِ تحفظ کا ذمہ دار امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے خطے کو غیر محفوظ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے خطے میں عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر نے کہاکہ امریکا کے کٹھ پتلی اڈوں میں خود اپنی سلامتی کی صلاحیت نہیں، تو وہ اپنے حامیوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا سختی سے دفاع کرے گا، جو امریکی صدر کی جانب سے انہیں ختم کرنے کی خواہش کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام ان صلاحیتوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور ان کی حفاظت ایسے کریں گے جیسے اپنی پانی، زمین اور فضائی سرحدوں کی کرتے ہیں۔
